Mashriqiyat

مشرقیات

وزیر اعظم عمران خان کا فرمانا ہے کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں پا کستان میں مہنگائی کم ہے ان کے لئے ہوگی جن کو پلے سے خرچ کرنا نہیں پڑتا عوام تو اس مہنگائی کے ہاتھوں مر چلے۔ ایک وفاقی وزیر نے لقمہ کم کھانے اور چینی کم ڈالنے کا مشورہ دیا ہے کوئی درویش صفت یہ مشورہ دیتا تو یقیناً یہ موزوں ہوتا ہمارے اسلاف کا طریقہ ہے کہ وہ پیٹ پر پتھر باندھا کرتے تھے مگر عیش و عشرت کے دلدادوں کے منہ سے یہ مشورہ اچھا نہیں لگا وہ اگر چینی کی جگہ شہد کے استعمال کا مشورہ دے دیتے تو زیادہ مناسب ہوتا باقی کہنے والے کہتے ہیں کہ موصوف خود روزانہ پندرہ سو روپے کی شہد کی بوتل پیتے ہیں مہنگائی نے تو بڑے بڑوں کو سیدھا کر دیا ہے چلئے چھوڑیئے کوئی اور بات کرتے ہیں۔نکاح سے چند ساعت قبل قاضی نے اسٹیج پر کھڑے ہو کر سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو اس نکاح پر اعتراض ہے تو ابھی بتا دو۔آخری کرسی پر تشریف رکھے ہوئے ایک خوب صورت دو شیزہ اپنے نوزائیدہ بچے کو گود میں لئے اٹھی اور اسٹیج کے نزدیک آ کر کھڑی ہو گئی۔یہ منظر دیکھتے ہی دلہن نے دلہا کو زدو کوب کرنا شروع کر دیا،دلہن کا والد اپنی بندوق لینے گھر کی طرف دوڑا۔دلہن کی ماں اسٹیج پر ہی بے ہوش ہو گئی،سالیوں نے بھی دلہا میاں کو لعن طعن کرنا شروع کر دی،اور سالے آستینیں چڑھانے لگے۔اتنے میں قاضی نے لڑکی سے پوچھا کہ بتائو بیٹی آپ کا کیا مسئلہ ہے لڑکی بولی قاضی صاحب پیچھے آواز نہیں آرہی تھی اس لئے میں یہ پوچھنے کے لئے آگے آئی ہوں کہ آپ کیا فرما رہے تھے؟لہٰذا اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایک جذباتی قوم ہیں،ہم نہ ہی مسئلہ سے قبل سوچتے ہیں اور نہ ہی مسئلہ پیدا ہونے کے بعداس کا حل تلاش کرنے کے لئے سرگرداں ہوتے ہیں۔بس لوگوں کے کہنے پر کہ کتا تمہارا کان کاٹ کر لے گیا ہے،ایک دم کتے کے پیچھے بھاگنا شروع ہو جاتے ہیں،اپنا کان نہیں دیکھتے کہ جسم کے ساتھ ہے بھی کہ نہیں۔کسی بھی ایرے غیرے نے ایک نعرہ دیا،بلا سوچے سمجھے اس کے پیچھے زندہ باد ،زندہ باد کی صدائیں بلند کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ہم یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس شخص کا ماضی کیا تھا؟اس سے قبل کتنی بار ملکی سیاست و معیشت کے ساتھ کھیل چکا ہے۔بس آوے ای آوے گا کے نعرے بلند کر دیتے ہیں۔اسی وجہ سے یہ لوگ قوم میں شعور بیدار نہیں ہونے دیتے۔کہ اگر اس سوئی ہوئی قوم کا شعور جاگ گیا تو ہمارے سامنے غلاموں کی طرح ہاتھ باندھے کون کھڑا ہوگا۔انہیں قوم اور ملک و ملت سے کوئی سروکار نہیں بس اپنی سرکار سے ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسا ہی پچھلی سات دہائیوں سے ہوتا چلا آرہا ہے تو اس کا حل کیا ہے؟