Mashriqiyat

تعلیمی نقصان کے ازالے پرتوجہ کا موقع

ین سی اوسی نے پیر 11اکتوبر سے تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھولنے کی اجازت دے دی ہے، وفاقی وزیر اسد عمرکا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وباء کا پھیلائو کم ہونے اور ویکسی نیشن کی بنیاد پر اب کلاسیں معمول کے مطابق ہوسکیں گی تعلیمی اداروں میں معمول کے مطابق کلاسیں شروع کرنے کی اجازت کا فیصلہ کورونا بیماری کے پھیلائو میں کمی اور سکولوں میں ویکسی نیشن کے پروگرام کے آغاز کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ کورونا کے باعث تعلیم کا جو حرج ہوا ہے اور طلبہ کا ذہن جس طرح منتشر ہوا ہے اس کی تلافی شاید ہی ہو سکے تعلیمی صورتحال معمول پر آنے کے بعد طلبہ پر اضافی توجہ درکار ہے تاکہ نہ صرف ان کی تعلیمی سرگرمیوں کو دوبارہ معمول پر لایا جا سکے بلکہ ان کے نقصان کا ازالہ اور مکمل تلافی اگر ممکن نہ ہوتو کم از کم موجودہ تعلیمی سال مثالی محنت ہو سکے جو اساتذہ کی خصوصی توجہ سے ہی ممکن ہو گا۔تعلیمی اداروں کی بندش کا خاتمہ جہاں اس امر کا ثبوت ہے کہ ملک میں کورونا وبا پر خاصی حد تک قابو پا لیا گیا ابھی صورتحال بہتر ضرور ہوئی ہے کورونا کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ خطرہ باقی ہے جوں جوں ویکسی نیشن کی شرح بڑھے گی صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی وہاں تعلیمی اداروں کی بندش اور پھر نصف تعداد کے ساتھ کھولنے سے بچوں کی تعلیم کا جو حرج ہو رہا تھا وہ بھی ختم ہو جائے گایہ بات بچوں اساتذہ اور سکولوں کی انتظامیہ سب کے ذہن نشین رہنی چاہئے کہ تعلیمی اداروں کو معمول کے مطابق کھولنے کی اجازت دینے کا فیصلہ سب کچھ ٹھیک ہونے کا عندیہ نہیں ہے بلکہ احتیاط کے تمام تر تقاضوں کا ابھی بھی مکمل طور پرخیال رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے سکولوں میں ماسک پہننے سماجی فاصلہ رکھنے سینی ٹائزر استعمال کرنے اور صابن سے بار بار ہاتھ دھونے جیسی پابندیوں پر اب بھی عمل کرنا ہو گا۔ اسی صورت ہم سب محفوظ رہ سکیں گے۔ آئندہ تعلیمی اداروں کو بندش سے بچانے کے لئے یہ بے حد ضروری ہے۔
بے ہنگم تعمیرات اور استحصال کو روکنے کی احسن سعی
خیبر پختونخوا کابینہ میں اراضی کے استعمال اور تعمیرات کیلئے اتھارٹی کا قیام اہم پیش رفت ہے بتایا گیا ہے کہ صوبے کے 20شہروں کی ماسٹر پلاننگ جلد مکمل کرتے ہوئے اتھارٹی کے سامنے رکھا جائے گا۔ خیبرپختونخوا سب سے پہلا صوبہ ہے جس نے اپنی نوعیت کی پہلی اور اہم قانون سازی کی منظوری دی اس قانون سے صوبے میں غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام ہوگی اس طرح کی قانون سازی کی ضرورت کافی عرصے سے محسوس کی جارہی تھی جس کا بالآخر ادراک کیا گیا اس قانون کی مدد سے شہری علاقوں کے بے ہنگم پھیلائو کو روکنے، شہروں کی خوبصورتی، زرعی زمینوں کی حفاظت کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔صوبے میں عوام کی بڑھتی رہائشی ضروریات اور سہولیات و مواقع کی کمی سے فائدہ اٹھانے والے عناصر کو لگام دینا وقت کی ضرورت ہے بلڈر مافیا نہ صرف عوام کا استحصال اور قیمتی زرعی اراضی اور نامناسب جگہوں پر تعمیرات کرکے اربوں کما رہی ہے بلکہ وہ خود کو کسی قاعدہ قانون کا پابند نہیں سمجھتی عوام کو ناقص سہولیات اور بعض بنیادی ضروریات تک کا خیال نہ رکھتے ہوئے ناقص تعمیرات اور پلاٹ فروخت ہوتے ہیں ان سارے معاملات کو قانون کے دائرے میں لانے کے لئے منتظم ادارے کا قیام ہی کافی نہیں بلکہ اس کی فعالیت بھی ضروری ہے صوبے میں مختلف اتھارٹیز کا قیام جس جوش وجذبے سے ہوتا ہے وہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہتا جو المیہ ہے۔ سال دو سال کے اندر جس طرح سے یہ ادارے معمول کے سرکاری دفاتر میں تبدیل ہوتے ہیں وہ ہر گز قابل قبول امر نہیں ایک نئی اتھارٹی کے قیام کے بعد اس کے قیام کے مقاصد کا حصول زیادہ اہم گردانا جانا چاہئے اور مقاصد کے حصول کے لئے اسے پوری طرح سرگرم اور فعال رکھنے کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔
عوامی مسائل کے حل پروزیر اعلیٰ کی بھرپور توجہ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی سرگرمیوں ‘ دوروں اور اعلانات سے خیبر پختونخوا میں آئندہ الیکشن میں کامیابی کی منصوبہ بندی واضح ہے صوبے میں جس رفتار سے اعلانات ہو رہے ہیں اگر ان پر اسی رفتار سے کام شروع کیا جائے اور عوام ان منصوبوں کو ہوتا ہوا اور بنتا ہوا دیکھیں تو حکومتی جماعت کی طرف ان کا میلان فطری امر ہوگا ان منصوبوں کی تکمیل کا بہرحال آئندہ دو سالوں میں کوئی امکان نہیں لیکن ان پر کام بہرحال شروع ہونا چاہئے تاکہ عوام کی ڈھارس بندھے اور حکومت کے وعدوں کی تکمیل کی راہ ہموار ہو۔