ایک فکاہیہ کالم

ہماری طرح کے ایک سادہ گل سے آدمی کو چراغ مل گیا۔ اس آدمی نے اپنی نانی اماں سے جن والے چراغ کی کہانی سن رکھی تھی ۔دھڑکتے دل سے اس نے اپنی قمیص سے اس چراغ کو رگڑا تو چراغ سے پشاور کی سڑکوںپر ٹرٹراتے رکشوںجیسا سیاہ اور تلخ دھواں سا نکلا اور اس میں سے ایک بدصورت سا جن باہر نکل آیا ۔ جن کچھ دیر تک اپنی چندھیائی ہوئی آنکھوں کو زور زور سے اپنی آستین سے ملتا رہا ۔پھر اپنی سوجھی ہوئی سرخ آنکھوں سے اس آدمی کو گھورتے ہوئے دیکھ کر گویا ہوا کہ کیاحکم ہے میرے ۔۔۔آقا۔مگر آقاکا لفظ اس جن نے یوں زیر لب ادا کیا کہ اس آدمی کو سنائی نہیں دیا ۔آدمی نے اپنے اوسان بحال کرتے ہوئے جن سے پوچھا کہ تم نے آخری لفظ کیوں پورا ادا نہیں کیا اور وہ آخری لفظ کیا تھا۔ یہ سنجیدگی کچھ کچھ نحوست جیسی تھی لیکن اب جن کو کیا پتہ کہ نحوست اور سنجیدگی میں کیا فرق ہے ۔ وہ سادہ گل آدمی اپنے ماتحت اور غلام جن کے چہرے کے تاثرات کو سمجھ نہ سکا کہ یہ نحوست ہے یا سنجیدگی ،لیکن اس نے اپنے چہرے پر مصنوعی قسم کا رعب جمانے کی کوشش کی اور گلاصاف کرکے رعب دار آواز نکالی اور اس جن سے کہا کہ فضول باتیں مت کرو اورجاکر میرے لیے بہترین سا کھانا لے کر آؤ۔یہ بات سن کرجن کے چہرے کی سنجیدگی جو نحوست جیسی لگتی تھی ، اچانک غائب ہوگئی اور اس نے کھسیانے انداز میں کہاکہ صاب آج کل تمام ہوٹلوں نے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کررکھے اس لیے وہاں سے کھاناچوری نہیںکیا جاسکتا ۔کل کو میں نیب میں پھنس گیا تو آپ کے خلاف گواہی دے دوں گا اور آپ کو بھی نیب کے حوالات میں میرے ساتھ دال روٹی کھانی پڑے گی۔ جن کے”وعدہ معاف گواہ”بننے کے اعلان پر وہ شخص بہت گھبرایا لیکن اپنے چہرے پر اس نے بالکل بھی گھبراہٹ کے آثار ظاہر نہیں کیے ۔ اور بڑے پر اعتماد انداز میں جیب سے پچاس کا نوٹ نکالا اور جن کو دے دیا کہ جاؤمیرے لیے چٹخارے دار چھولوں کی پلیٹ اور ایک گرم گرم روٹی لے آؤ اور جو پیسے بچ جائیں اس کی تم عیاشی کرلینا ۔ جن جب پچاس کا نوٹ تھام رہا تھاتو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔یہ آنسو رفتہ رفتہ تیز ہونے لگے اور پھر وہ جن ہچکیاں لے لے کر رونے لگا۔ وہ آدمی چونکہ فطرتاًشریف اور نرم دل آدمی تھا ۔ جن کی اس حالت کو دیکھ بہت دکھی ہوا اور آگے بڑھ کر اس جن کو سینے سے لگالیا ۔دونوں غلام و آقا گلے مل کر بڑی دیر تک روتے رہے ۔ جب دونوں کے دل کا غبار کم ہوا تو جن نے اس آدمی سے پوچھا کہ آقا آپ کیوں رو رہے تھے تو اس آدمی نے جواب میں کہا میں تو تمہیں روتا ہوا دیکھ کر رو رہا تھا مگر تم رو کیوں رہے تھے ۔جن نے اپنی گیلی آنکھیں صاف کرتے ہوئے بھاری لہجے میں کہا کہ آپ کی سخاوت اور دریادلی دیکھ کر میرے آنسو نکل گئے ۔ آپ پہلے آقا ہیں کہ جس نے کسی جن کے انتہائی اہم مسلے کو تسلیم کیا۔ کبھی کسی جن کو کسی آقا نے پیسے نہیں دیے ۔اس آقا کو اس جن پر بہت غصہ آیا کہ اتنی سی بات پر اسے رلا دیا۔اور غصے میں کہا کہ تم واپس چراغ میں چلے جاؤمیں تمہارا آقا نہیں بننا چاہتا۔جن فوراًاس آدمی کے پاؤں پڑگیا اورالتجاکرنے لگا کہ وہ یہ ظلم نہ کریں کیونکہ وہ صدیوں سے ایک بے روزگار جن رہا ہے ۔اب اسے ایک آقا ملا ہے جسے وہ کھونا نہیں چاہتا۔ اس آدمی کا دل پسیچ گیا اوربولا کہ تم کیا کرسکتے ۔جن نے بڑے فخر سے کہا وہ دو انسانوں کو بڑی آسانی سے لڑا سکتا ہے ۔ آدمی بولا یہ کام کوئی بھی اینکر کرسکتا ہے ۔کیا تم جلسے جلوس کا اہتمام کرسکتے ہو،دھرنا دے سکتے ہو۔ہم جن احتجاج کرسکتے تو صدیوں تک کسی چراغ میں قید ہونے کی حامی کیوں بھرتے۔آدمی بولا تو پھر انسان ہی بن جاؤ۔جن نے کہا کہ ایک دفعہ وہ انسان بنا تھا لیکن غلطی سے ایک غریب انسان بن گیا تھا۔ تین دن فاقہ کرنے کے بعد ایک دکان سے ڈبل روٹی چرائی تو دس دن حوالات میں گزارے اور پولیس نے اتنا مارا کہ نانی یاد آگئی وہ دن اور آج کا دن کہ دوبارہ انسان بننے کی کوئی خواہش نہیں رہی ۔ آدمی نے جن سے پوچھا کہ کیا تم میرا سات کروڑ کا پرائز بانڈنکال سکتے ہو۔یہ سن کر جن پیٹ پکڑکر ہنسنے لگااور جب ہنسی ختم ہوئی تو اپنے آقا سے کہنے لگا کہ آقا آئندہ ایسا مذاق مت کیجئے گا جنوں کے لیے بہت زیادہ ہنسنا موت کا سبب بھی ہوسکتا ہے ۔ آدمی اپنے سوال پر بہت شرمندہ ہوا اور سوچنے لگا کہ کسی طرح اس نکھٹو جن سے جان چھڑائے اور اسے دوبارہ چراغ کی قید میں بھیج دے ۔ جن اس آدمی کے چہرے کے تاثرات سے سمجھ گیا اور کہنے لگا کہ آقا اگر آپ مجھے قید کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں تو یاد رکھیے کہ اس پر اسی وقت عمل ہوسکتا ہے جب ہم دونوں کی باہمی رضامندی ہو،آپ بس مجھے ہر حال میں حکم دیتے رہیں گے ،اور حکم بھی ایسا کہ جس پر میں بائیولاجیکلی عمل بھی کرسکوں ۔ورنہ ۔آپ کو نقصان بھی ہوسکتا ہے ۔جن کی اس دھمکی پر آدمی بڑا پریشان ہوااور کچھ سوچ کر بولا کہ ایسا کرو کہ گھر کے صحن میں ایک اونچا درخت لگا دو۔جن نے فورا ایک درخت اگادیا۔آدمی نے جن سے کہا کہ اس درخت کی ساری شاخیں کاٹ دو ۔ جن نے تعمیل کی ۔آدمی نے آخری حکم دیا کہ اب اس درخت پر مسلسل چڑھتے اور اترتے رہو اور جب تک کوئی اور حکم نہ ملے اس عمل کو مت روکو۔راوی کہتا ہے کہ وہ جن پچھلے کئی سالوں سے اسی عمل میں غرق ہے ۔جب کبھی اس آدمی کی بیوی کو برتن دھلوانے ہوں یا کمروں کی صفائی کروانی ہویاچھت کے جالے اتارنے ہوں توآقا اس جن کو بلالیتا ہے اور کام ختم ہونے کے بعد اسے واپس درخت پر جبری مشقت کے لیے بھیج دیتا ہے ۔