پاک امریکہ تعلقات کا نیا موڑ

امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈن شرمن نے بھارت کے ساتھ گرم جوش تعلقات اور پاکستان سے ایک مخصوص شعبے اور حد تک تعلقات کے قیام کا عندیہ دیا ہے خطے کے بدلتے حالات میں امریکی عندیہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں بلکہ امریکہ اور بھارت پہلے ہی خطے میں نئے تعلقات میں جڑ چکے ہیں جس کا مقصد خطے میں بعض بڑے ممالک کی معاشی ترقی کے منصوبوں کی راہ میں بند باندھنا ہے جبکہ دوسری جانب پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت اور وقعت اب امریکی صدر کی وزیر اعظم پاکستان کو ٹیلی فون کرنے اور نہ کرنے کے موضوع پر آگئی ہے اس کے باوجود کہ پاکستان نے امریکہ کو افغانستان سے نکلے میں مدد دی مگر اب امریکہ اسی کو بھلا کر پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کا خواہاں ہے جہاں سے وہ افغانستان میں اپنے مقاصد کے حصول کی سعی کر سکے مگر ایک جانب جہاں پاکستان کی جانب سے قطعاً نہیں کا جوا ب ضرور ملا تھا وہیں امریکہ سے تعاون کے راستے بھی بند کرنے کا کوئی ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔ امریکہ میں پاکستان کے خلاف سینٹ میں بل پیش ہوچکا ہے اس حوالے ایک سوال کے جواب کا امریکی نائب وزیر خارجہ نے جو جواب دیا وہ کوئی حوصلہ افزاء نہیں لیکن پاکستان کی سنے بغیر امریکہ کے لئے افغانستان اور خطے کے حوالے سے اپنے مفادات کا تحفظ بھی کوئی آسان کام نہیں پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئی ہوئی امریکہ کی نائب سیکریٹری خارجہ وینڈی شرمن کے ساتھ ملاقات میں جہاں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ وسیع البنیاد اور پائیدار تعلقات کے قیام کا خواہاں ہے، وہیں ایک روز قبل انڈیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وینڈی شرمن کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکہ پاکستان کے ساتھ وسیع شراکت داری کا متمنی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ دورہ بہت مخصوص اور محدود مقصد کے لیے ہے۔ ہمیں ایسا نظر نہیں آ رہا کہ ہم فی الوقت پاکستان سے وسیع البنیاد تعلقات قائم کریں، اور نہ ہی ہمیں کوئی دلچسپی ہے کہ ہم انڈیا اور پاکستان کو ایک ساتھ ملا کر دیکھیں۔ ہم ابھی نہ اس مقام پر ہیں، اور نہ ہی ہم اس طرف جا رہے ہیں۔ اس بات میں قطعی کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات اس وقت سردمہری کا شکار ہیں۔ امریکی نائب وزیر خارجہ کے بیان سے جھنجھلاہٹ واضح ہے۔ امریکہ کو اس خطے میں شکست ہو چکی ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستوں نے ان کو اڈے دینے سے انکار کر دیا ہے اس تناظر میں پاک امریکہ تعلقات میں کسی گرمجوشی کا امکان تو کم ہے لیکن علاقائی ضرورت کا احساس دونوں ممالک کی مجبوری ہے اور وہ مجبوری کی شادی نبھانا دونوں کی مجبوری ہے۔ امریکہ کی خطے میں اولین ترجیح بھارت ہونے کی کئی وجوہات ہیں مگر اس کے باوجود پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بہرحال مستقبل میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کے امکانات امریکہ کے رویے پر منحصر ہے۔دیکھنا یہ ہو گا کہ امریکہ اس خطے کے ساتھ کیسا برتائو رکھتا ہے۔ اگر ان کا مقصد چین کو انڈیا کی مدد سے شکست دینا ہے تو اس صورت میں پاکستان ان کا اتحادی نہیں رہے گا۔ ممکن ہے پاکستان کے لیے حالات مزید سخت ہو جائیں امریکہ کی نئی انتظامیہ کے حوالے سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ جان بوجھ کر بیان دے رہے ہیں بلا ارادہ بہرحال وینڈی شرمن کی جانب سے دورہ پاکستان کے مقاصد کو اتنے سخت لہجے میں بیان کرنا ایک سوچا سمجھا فیصلہ لگتا ہے۔اگر پاکستانی نقطہ نظر سے دیکھیں تو انتہائی پریشان کن بات ہے دونوں کے پاس پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بڑھتے ہوئے بگاڑ کو روکنے کے لیے حکمت عملی کا شدید فقدان نظر آ رہا ہے۔ماضی میں امریکا پاکستان کو کئی جگہ اپنے مفادات کے لئے استعمال کر چکا ہے لیکن جیسے اس کے مفادات پورے ہو گئے وہ خود ایک طرف ہو گیا اور پاکستان کو پیچیدگیوں میںالجھا رہنے دیا۔ افغانستان میں1989-1979ء تک روس کے خلاف جنگ لڑی گئی جنگ اور اس کے بعد پاکستان کے لئے پیدا ہونے والے حالات سے یہ بات واضح ہو چکا ہے کہ امریکا کسی بھی صورت میں قابل اعتبار ملک نہیں ان کو صرف اور صرف اپنے مفادات سے غرض ہے اسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ اس کی وجہ سے کسی دوسرے ملک کو کتنا نقصان اٹھانا پڑا۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ماضی کے واقعات کی روشنی میں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ امریکہ پر اعتماد کرکے ہم صرف مسائل کا شکار ہوں گے اس کی طرف سے کسی اچھائی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے سیاسی اور عسکری قیادت امریکہ کی قیادت کو یہ باور کرائیں کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات صرف اس بنیاد ہی قائم ہو سکتے ہیں کہ برابری اور مساوات کے تقاضوں کا خیال رکھا جائے۔
عوام پر پھر بجلی گرا دی گئی
نیپرا نے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں1روپے95پیسے فی یونٹ مزید اضافے کی منظوری دے دیبجلی کی قیمتوں میں مختلف بہانوں سے مسلسل اضافہ صارفین کیلئے شدید تشویش اور مالی بوجھ میں قابل ذکر اضافے کا سبب بن رہا ہے۔حکومت کی جانب سے اگر ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے نظام کو شفاف اور باصلاحیت بنانے پر توجہ دی جاتی چوری اور دیگر اقسام کے لائن لاسز کو کنٹرول کیا جاتا تو بجلی کے شعبے کے خسارے اور گردشی قرضوں سے نمٹنا بڑی حد تک آسان ہوسکتا تھا۔ مگر ہمارے ہاں دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے درست راستہ اختیار کرنے کے بجائے تاخیر کے بعد عجلت میں فیصلے کرنے کا چلن ہے اور بجلی کے شعبے پر اس کا اطلاق اس طرح ہوتا نظر آرہا ہے کہ جو صارفین پہلے سے باقاعدہ بل ادا کررہے ہیں بجلی کی چوری اور ہر طرح کے دیگر خساروں کا بوجھ بھی انہی پر لادا جارہا ہے۔توانائی کی کھپت کسی سماج کی ترقی اور پیداواری صلاحیتوں میں اضافے کا سبب اور علامت سمجھی جاتی ہے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ حکومت توانائی کے نرخوں کو اس مناسب حد میں رکھے جہاں صارفین کیلئے یہ بوجھ قابلِ برداشت رہے۔توانائی کی ناقابلِ برداشت قیمت توانائی کی کھپت اور ملکی پیداوار میں کمی کا سبب بنے گی اور روزگار کے مواقع سکڑیں گے۔خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ آبی بجلی پیدا ہوتی ہے مگر جب بھی موقع ملتا ہے کلہاڑا خیبر پختونخوا کے بجلی صارفین پر چلایا جاتا ہے تازہ ترین صورتحال کے مطابق ملک بھر میں بجلی کی پیداوار میں تکنیکی مسائل کے باعث طلب اور رسد میں فرق پیدا ہونے سے نیشنل گرڈ سٹیشن سے خیبر پختونخوا کے لئے بجلی کی سپلائی میں6سو میگاواٹ کمی کردی گئی ہے جس کی وجہ سے پشاور سمیت صوبہ بھر میں بجلی شیڈنگ کا دورانیہ بڑھادیا گیا ہے اس سلسلے میں پیسکو انتظامیہ نے تمام ماتحت افسران کو گرڈ سٹیشنوں سے بجلی بند کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں جس کی روشنی میں چوبیس میں سے12گھنٹے تک کیلئے تمام فیڈرز سے بجلی کی سپلائی گھریلو اور تجارتی صارفین کیلئے منقطع رہے گی بحران کے باعث وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے بجلی صارفین کیلئے سپلائی میں6سو میگاواٹ کی کٹوتی کردی گئی قبل ازیں مختلف فیڈرز سے6گھنٹے کیلئے بجلی بند کرنے کا شیڈول تھا لیکن اب آئندہ ہفتے تک کیلئے چوبیس میں سے12گھنٹے کیلئے تک بجلی بند رکھی جائے گی یعنی ہر دو گھنٹے کے بعد بجلی صارفین کو دستیاب نہیں ہوگی۔ایک جانب بجلی کی قیمتوں میں اضافہ دراضافہ اور دوسری جانب ضرورت کے مطابق بجلی کی فراہمی میں ناکامی جیسے معاملات سے ناکامی واضح ہے جس پر عوام کا مشتعل ہونا فطری امر ہو گا آخر کب تک صوبے کے عوام کے ساتھ یہ ناروا سلوک روا رکھا جائے گا اور عوام کب تک یہ زیادتی برداشت کرتے رہیں گے۔