مشرقیات

روشن خیالی کے نعرے کے تحت ہمارے معاشرے کے بگاڑ کی جو ابتداء ہوئی اس میں روز بروز ا ضافہ ہی ہوتا جارہا ہے بے حیائی کا ایک سیلاب امڈ پڑا جسے روکنا شاید اب ممکن نہیں اس نعرے نے مرد اور عورت دونوں پر یکساں اثرات مرتب کیے۔ اس روشن خیالی نے قوم کو ایسے سانچے میں ڈھالا جہاں چند کتابیں پڑھ کر بیٹھے صحیح غلط کی راہ دکھانے والے باپ کو خبطی سمجھنے لگے ،خاندانی روایت مجروح ہوئیں، حقوق نسواں کی آڑ میں عورت کو آزادی کی چاہت ہوئی تو اپنی روایات اور اقدار کو بھلا کر شوہر پرست بیوی سے پبلک پسند لیڈی اور چراغ خانہ سے شمع محفل بننے کا سفر شروع ہوا ۔ برابری مرد و زن کے نعرے نے ترقی تو خیر کیا دکھائی؟ ہونٹوں پہ لا لی، کانوں میں بالی اور چال متوالی لئے ٹک ٹاک بناتے لڑکے اور خود کو سبھا کی پریاں سمجھتی مغربی وضع و قطع میں حجاب تودرکنار دوپٹے سے بھی بے نیاز لڑکیاں نظر آئیں جو بسکٹ بھی ناچ کر اور گاکر بیچتی ہیں ۔ان آزادی افکار، لادینیت ،نئی روایات ،خود غرضی ،بے حسی ،مادیت پرستی اور بے حیائی کا نتیجہ میری مرضی کی صورت میں نکلا برابری مردوزن کا نتیجہ اپنا کام خود کرو کی صورت میں نکلا۔ابلیس نے کارندے مانگے اور ہم اس کے ہاتھوں میں کھلونا بن گئے ہم جس تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں وہ اس دین کی مرہون منت ہے جو چودہ سو سال پہلے مکمل کر دی گئی تھی۔ حجاب یا نقاب کو مذاق سمجھنے والے یا اولڈ فیشن کہنے والے افراد کے لئے یہ جاننا بے حد ضروری ہے نئی، بعد میں آنے والی چیز ہوتی ہے پرانی چیز اگر اپنی حالت بدل کر واپس آجائیپھر بھی اس میں نیا پن کچھ نہیں ہوتا یہی معاملہ حجاب کے ساتھ ہے کہ دور جاہلیت میں عورتیں کھلے عام بے حجابانہ پھر تی تھیں جیسے آ ج کی عورت محفلوں میں شرکت کرتی ہے مگر اسلام نے دین کے ساتھ ساتھ نئے طور طریقے سکھائے جس میں اسے ایک حجاب ہے ۔ تو اصولی طور پر حجاب اب نیا فیشن ٹھہرا اور بے حجابی پرانا دستور۔ جو آپ کی اپنی نا اہلی کی وجہ سے سے پلٹ کر رائج ہو چکا ہے اور آپ ماڈرن بننے کے چکر میں میں قدیم ترین چیزوں کو اپنائے جا رہی ہیں ۔ یقین جانیے حجاب ایک کپڑے کا ٹکڑا نہیں پوری تہذیب ہے جو با حیا عورت کو معاشرے میں مقام دینے کے لیے رائج کیا گیا ہے۔یہ نئی تہذیب کا ایجنڈا ، بیحجابی اور بے حیائی کو پھیلانے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور دور قدیم کی تہذیب کی نشانی ہیجو دور جہالت تھا۔اپنی تہذیب سے منہ نہ موڑیں۔جہالت سے دوبارہ رشتہ نہ جوڑیں ۔