ڈاکٹر عبدالقدیرخان

محسن پاکستان اورایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیرخان دار فانی سےکوچ کرگئے

ویب ڈیسک (اسلام آباد)محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان انتقال کر گئے، ان کی عمر 86 برس تھی۔بتایا گیا ہے کہ گذشتہ شب پھیپھڑوں کے عارضے کے سبب ان کی طبیعت خراب ہوئی جس پر انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، آئی سی یو میں ڈاکٹروں کی جان توڑ کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے۔

ان کی وصیت کے مطابق نماز جنازہ فیصل مسجد میںساڑھے تین بجے ادا کی جائے گی۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پہلے پاکستانی تھے جنہیں تین بار صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا، ملکی دفاع کیلئے ان کی گراں قدر خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کے جنازے میں تمام وزرا شرکت کریں گے ۔

صدرمملکت عارف علوی نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم ملک کیلئے ان کی خدمات کبھی نہیں بھولے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی ڈاکٹر خان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی قوم کیلئے ہیرو تھے۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کلیدی کردار ادا کیا۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رحلت پر پوری قوم افسردہ ہے، پاکستان کیلئے ان کی خدمات ان گنت ہیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستانی ایٹم بم کا خالق تسلیم کیا جاتا ہے، وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں 3 صدارتی ایوارڈز ملے، ان کو ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ ڈاکٹرعبدالقدیرخان 1936 میں بھوپال میں پیدا ہوئے۔ 1947 میں خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان منتقل ہوئے۔ انجینئرنگ کی ڈگری 1967 میں نیدرز لینڈ کی یونیورسٹی سے حاصل کی۔ انہوں نے بیلجئیم کی یونیورسٹی سے میٹلرجیکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی بعد ازاں ایمسٹرڈیم میں فزیکل ڈائنامکس ریسرچ لیبارٹری جوائن کی۔

اعلیٰ تعلیم کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1976 میں وطن واپس لوٹ آئے اور اسی برس 31 مئی کو پاکستان کی اٹامک انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز کا حصہ بن گئے۔ یکم مئی 1981 کو انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری کا نام تبدیل کر کے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز رکھ دیا گیا۔ شب و روز کی انتھک محنت کے بعد 1998 میں ایٹمی دھماکے کر کے انہوں نے پاکستان کو جوہری طاقت بنانے کا شاندار کارنامہ سر انجام دیا۔