معیشت کو درپیش سہ جہتی چیلنجز

پاکستان کی معیشت کو اس وقت سہ جہتی چیلنجز درپیش ہیں۔ عالمی سطح پر اسے تیل، گیس، گندم اور چینی جیسی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے اور بیرون ملک تجارت کے لیے مال برداری کے بھاری اخراجات کا سامنا ہے۔ علاقائی سطح پر وہ افغانستان کی مخدوش صورتحال کے معاشی اور مالیاتی نتائج سے بر سر پیکارہے جبکہ ملکی سطح پر روپے کی قدر میں گراوٹ اور بجلی، گیس اور تیل کی قیمتیں قابو میں رکھنے کے لیے وسائل کی قلت سے نبرد آزما ہے۔ اس پس منظر میں سوائے ان 20 فیصد لوگوںکے، جن کے پاس اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی)کی جاری کردہ نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق ملکی دولت کا نصف حصہ ہے، ہر کوئی مہنگائی سے متاثر ہے۔ حکومت کو ان تین بڑے چیلنجز کے معاشی اثرات سے لوگوں کو بچانے میں مشکلات درپیش ہیں۔ حالانکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس نے پٹرولیم لیوی اور فیول پر جنرل سیلز ٹیکس میںکمی کرکے پہلے ہی اپنی آمدن کو متاثر کیا ہے ۔ یہ تجزیہ کرنے سے پہلے کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے حکومت کیا کر سکتی ہے؟ ان چیلنجز کی اصل محرکات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس کی پہلی وجہ کورونا کے دوران بڑی معیشتوں میں صنعتی پیداوار کی توقع سے زیادہ تیزی سے بحالی ہے، جس سے توانائی اور دیگر اشیاء کی عالمی طلب میں اضافہ ہوا ہے، یوں فیول کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔گزشتہ12 ماہ سے زائد عرصے میں جنوبی افریقہ کے کوئلے ، برینٹ کروڈ اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں بالترتیب ڈیڑھ سو فیصد، سو فیصد اور پانچ سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح پام آئل، سویابین آئل ، گندم ، چینی اور کھاد کے نرخ بھی بڑھے ہیں، مثلاً خراب ہونے والی غذائی اجناس کی قیمتیں، سبزیاں اور پھل سیزنل سپلائی کے اتار چڑھا ئو سے متاثر ہوتی ہیں۔ رواں سال مارچ میں گندم کی کم از کم امدادی قیمت میں اضافے سے بھی مہنگائی کا اثر بالآخر صارفین پر پڑا۔ ضلعی اور مقامی سطحوں پر ناقص انتظامی نظام بھی قیمتیں بڑھنے کا ایک اور سبب ہے۔ ان کمزوریوں کے باعث تھوک اور خوردہ قیمتوں کے درمیان فرق بڑھ گیا ہے جبکہ ناقص نظام گندم ، آٹا اور یوریا کھاد کی افغانستان میںسمگلنگ کا بھی باعث ہے۔ بعض ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستان سے ڈالر افغانستان سمگل ہو رہا ہے اور پاکستان میں مقیم افغان باشندے بڑی تعداد میں ڈالر کی ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں۔ بعض لوگ یہ تجویز دیتے ہیں کہ سستی درآمدات کے لیے روپے کو مضبوط کیا جائے لیکن یہ اقدام دو عوامل کی وجہ سے قابل عمل نہیں ہے۔ پہلا یہ کہ روپے کے تگڑا یا کمزور ہونے کا زیادہ انحصار معاشی حالت اور زر مبادلہ کی ترسیل پر ہوتا ہے۔ اگر معاشی ترقی کا عمل کمزور ہو گا تو زمبادلہ کی آمد کم جبکہ باہر منتقلی زیادہ ہوگی جیسا کہ اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے۔ روپے کو مصنوعی طریقے سے مستحکم رکھنے سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آئے گی جو ہمیں تجارتی خسارے سے نمٹنے کے لیے درکار ہیں۔ سٹیٹ بینک کے پاس اس وقت ذخائر میں تقریباً بیس ارب ڈالر موجود ہیں۔ وہ انہیں مارکیٹ میں ان کی سپلائی بہتر بنانے اور روپے کی قدر بڑھانے کے لیے فروخت کر سکتا ہے لیکن ایسا کرنے سے ضروری درآمدات اور غیر ملکی قرضوں کی واپسی کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔ روپے کو مضبوط کرنے کا صرف ایک راستہ ہے کہ برآمدات اور زرمبادلہ پر منفی اثر ڈالے بغیر کسی طرح ڈالر کی ترسیل بڑھائی جائے اور یہ برآمدی آمدن میں اضافے، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کرنے، غیر ملکی قرضوں کے حصول اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ترسیلات زر بڑھانے سے ہی ممکن ہے۔ افغانستان کی صورتحال کے پاکستانی معیشت کے لیے تین بڑے اثرات ہیں۔ پہلا یہ کہ امریکہ کے ساتھ خراب تعلقات کے باعث یہ غیر یقینی موجود ہے کہ آیا پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکل پائے گا یا نہیں، جس کا جائزہ اجلاس آئندہ ماہ ہونا ہے۔ دوسرا یہ کہ مذکورہ وجوہات کی بناء پر پاکستان کو آئی ایم ایف کے اگلے جائزے کے دوران کوئی رعایت ملنے کی بھی توقع نہیں ہے اور اسے جاری قرض پیکج پر دستخطوں کے دران کئے گئے وعدے پورے کرنا پڑیں گے۔ تیسرا یہ کہ امریکی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے سکیورٹی حالات کی منفی کوریج کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں میں بد اعتمادی موجود رہیگی۔ چنانچہ فی الحال حکومت کچھ نہیں کرسکتی۔ وہ صرف دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر ہی عمل پیرا رہ سکتی ہے۔ وہ اشیاء کی عالمی قیمتوں تلافی کے لیے تو کچھ نہیں کرسکتی ہے۔ وہ روپے کی قدر میں گراوٹ روکنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے۔ اس وقت وہ صرف یہ کر سکتی ہے کہ افغان پالیسی کا جامع اور حقیقت پسندانہ جائزہ لے اور یہ یقینی بنائے کہ اس پالیسی کے سنگین معاشی نتائج نہ برآمد ہوں۔ حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کو بڑھتی مہنگائی کے تباہ کن اثرات سے بچانے کے لیے کرے اور یہ روزگار کے مواقع بڑھانے سے ہی ممکن ہے۔ توانائی اور کھانے پینے کی اشیاء پر ٹارگٹڈ سبسڈیز کے ذریعے لوگوں کی قوت خرید بھی بڑھائے۔ بصورت دیگر مہنگائی عوام اور حکومت دونوں کے لیے سر درد بنے رہے گی۔
( بشکریہ، دی نیوز، ترجمہ: راشد عباسی)