جیو ن بھر کا جُوڑا

گورے گھر (وائٹ ہاؤس) کی گوری میم نائب سیکرٹری آف اسٹیٹ وینڈی شرمن بھارت میں پاکستان کے بارے میں بھرا بھرا لہجہ نئی دہلی سے اسلا م آباد نرم و دھیمے لہجہ کے ہمراہ تشریف لائیں تو بڑے انس بھرے لہجہ میں فرمایا کہ امریکا کے پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں جس میں وسیع مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے ، پاکستان یا ترا سے پہلے بھارت کو یہ یقین دہانی کر کے چلی تھیں کہ وہ مخصوص اور محدود مقاصد کے ساتھ پا کستان جا رہی ہیں ، امریکا پاکستان کے ساتھ وسیع تر تعلقات کے پھیلاؤ کا خواہا ں نہیں ہے، محترمہ شرمن صاحبہ کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ وہ گورے گھر کے مکین جوبائیڈن کے راج پاٹ سنبھالنے کے بعد پاکستان کا دورہ کرنے والی پہلی اعلیٰ امریکی شخصیت قرار پا گئی ہیں انھو ں نے پاکستان پہنچتے ہی یہ اشارہ بھی دیا کہ جو بائیڈن جلد ہی وزیر اعظم عمران خان کو ٹیلی فو ن کر سکتے ہیں وینڈی شرمن کے اشارہ کنایہ سے اہل پاکستان کو یہ اطمینا ن ہوا کہ وزیر اعظم پاکستان کو امریکی صدر جوبائیڈن کی طر ف سے ٹیلی فون کرنے پر پابندی تعین اوقات نہیں ہے، حضرت علی کا فرمان ہے کہ جس پر احسان کر و اس کے شر سے ڈرو ، پاکستان محسن ہے کہ طالبان کو امریکا کے ساتھ مذاکرات کی میز تک لانے میں اس کے محاسن ہیں ، اس کا اصل سبب ایک ہی ہے کہ امریکا کا پہیہ صرف اپنے مفادات کے گرد گھومتا ہے ، چنانچہ افغانستان سے انخلاء کے بعد سے امریکا کے مفادات بدلے محسو س ہو رہے ہیں مگر اصل میں ایسا نہیں ہے اس وقت اس کو سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ تمغہ سپر پاور کے کھسک جانے کا دکھ بہت ہے اور وہ اس کو دوبارہ سینے پر سجانا کی مساعی میں لگا ہوا ہے ، جس کے لیے ترجیحات منظم کر چھو ڑی ہیں ، پاکستان کے بارے میں سب سے بڑا دکھ امریکا کو یہ دق کر رہا ہے کہ ان کی سوچ میں یہ بیٹھ چکا ہے کہ افغانستان میں امریکی شکست کا سبب پا کستان ہے تاہم نائب امریکی وزیر خارجہ محترمہ وینڈی شرمن کے دورے سے دونوں ممالک کو آئندہ تعلقات کے لائحہ عمل کی راہ سجھائی دے گی اور تعلقات کی نئی راہیں ہموار کرنے میں بھی مدد مل سکے گی ، اپنے دورے کے اختتام پر امریکی نائب وزیر خارجہ نے ذرائع ابلا غ کے قرطاسی اور برقی نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مضبوط ، خوشحال اور جمہو ری پاکستان نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے لیے اہم ہے ، ان کے اس مقولے میںکوئی نئی بات نہیں یہ سبھی جانتے ہیں کہ دنیا کا ہر ملک مضبوط اور خوشحال کائنات میں مثبت کردار ادا کرتا ہے لیکن سو فی صد درست بھی نہیں ہے اس وقت کچھ مضبوط اور خوشحال ممالک ایسے بھی ہیں جو دنیا میں مثبت کر دار ادا کرنے سے قاصر چلے آ رہے ہیں ان کو بھی اپنے کیے کی طر ف توجہ دینا چاہیے ،پا کستان اس نزاکت کو اچھی طرح سمجھتا ہے اسی لیے وہ بار بار امریکا اور اس کے حواریوں کو پڑھا رہا ہے کہ ایک خوشحال ، مضبوط افغانستان خطے کے امن استحکا م اور خوش حالی کے لیے لازمی ہے، افغانستان پرجو غیر علانیہ پابندیاں عائد کر رکھی ہیں وہ درست نہیں ہیں امریکا نے افغانستان کے اثاثے منجمند کر دیئے ہیں اس بارے میں فیصلہ یک طرفہ ہے کیو ں کہ کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے کہ افغانستان نے کونسی بین الاقوامی غلطی کی ہے ۔ یہ مفید کس فریق کے لیے ثابت ہو ا ہے وہ بھی آئینہ ہے ، ان کے بقول امریکا فی الحال افغانستان کو تسلیم نہیںکر رہا ہے ، حیر ت ہے امریکی طر ز امر کے اور اس کی پالیسیوں جب طالبان دہشت گر قرا ر دیئے جاتے تھے اس وقت امریکا نے سب پر پابندی عائد کی کہ کوئی ان سے روابط نہ رکھے ورنہ وہ بھی دہشت گر د قر ا ر پائے جائیں گے مگر خود علانیہ طور پر انھی مبینہ دہشت گر دوں سے مذاکر ات کر کے افغانستان میں اپنی فوجو ں کے لیے امان حاصل کی ، اب پالیسی یہ ہے کہ طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا ، وجہ نامعلو م ، بظاہر یہ ہی کہا جا رہا ہے کہ طالبان کو انسانی اور ہر طبقہ کے کے حقوق کی ضمانت فراہم کرنا ہو گی ، اس آڑ میں امریکا کیا چاہتا ہے کہا یہ ہی جا رہا ہے کہ حکومت ، پارلیمان اوردیگر شعبو ں میںافغانستان کے ہر طبقہ اور خصوصی طور پر خواتین کو نمائندگی دی جائے اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے آئین کے بارے میں امریکی خواہش کو شامل کرانا بھی ہے ، پہلے یہ واضح ہو نا چاہیے کہ کیا امریکا نے خود ہر طبقہ کواس طرح کا حقوق دے رکھا ہے کہ جیسا کہ وہ افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک سے طلب گار ہے کیا امریکا کی پارلیمان میں سیا ہ فام اقلیت کے لیے مخصوص نشستیں متعین کی گئی ہیں کیا خواتین کی بھی مخصوص نشست موجود ہیں ملازمتو ں میں سیا ہ فام امریکیوں اور دیگر اقوام کے لیے کو ٹہ مقرر ہے ، یہ سب سوچنے کی باتیں ہیں ، ویسے امریکا ہی کیا جن ممالک پر تکیہ تھا کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم کرلیں گے ہنو ز وہ بھی ابھی پیچھے ہی نظر آرہے ہیں البتہ امریکا پھر بھی ایک قدم آگے ہے کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا دعویٰ بھی کرتا ہے ساتھ ہی دوحا میں طالبان حکومت کے نمائندوں سے بات چیت میں بھی مشغول ہے ، نائب وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امریکا روس چین سمیت پوری دنیا کے ساتھ وسیع مشاورت کر رہا ہے ، ادھر طالبان نے دوحا مذاکرات کے دوران یہ جھنڈی دکھا دی ہے کہ طالبان مذاکرات برابری کی بنیا د پر کریں گے ، لیکن سب سے زیا دہ توجہ طلب بات امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمن نے یہ کہی ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی مشن ختم ہو چکا ہے لیکن افغان عوام کے ساتھ ہما را عزم ختم نہیں ہو ا ، ان کے مطابق امریکا کو افغانستان میں بگڑتی انسانی صورت حال پر انتہائی تشویش ہے ، بہتر تو یہ ہے کہ امریکا اپنا بیس سالہ دور جو اس نے افغانستان میں تسلط جما نے کی غرض سے گذار ہ اس کاتجزیہ آج کے دور سے کرلے تو اس کو انسانی صورت حال کا اصل انتقاش سمجھ میں آجائے گا ۔ایک دلچسپ صورت حال یہ بھی ہے کہ امریکا سرکا ر ہر مرتبہ پاکستان کے حوالے سے میڈیا سے متعلق اظہا ر خیا ل ضرور کر تی ہے ، ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا بہت آزاد ہے اب محترمہ بھی فرما رہی ہیں کہ متحرک میڈیاآزا د معاشرے کے لیے لا زمی ہے آخر یہ اشارہ کنایہ کس طرف ہے ایسی باتیں امریکی حکام بھارت کے لیے نہیں بولتے ، آخر کیوں؟