سیاحتی مقامات

پشاورکے تاریخی سیاحتی مقامات

ویب ڈیسک :پشاور پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کا دارالحکومت ہے اور یہ پختون خطے کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے جو پاکستان میں فنون لطیفہ اور ثقافت کامرکز رہ چکا ہے- پشاور ایک قدیم شہر ہے جس کی تاریخ گندھارا دور اور بعض مقامات پر اس سے بھی زیادہ پرانی ہے- یہاں آپ کو قدیم دور کی متعدد گلیاں ،عمارات اور بازار دکھائی دیں گے جن میں صدیاں گزرنے کے باوجود بہت معمولی تبدیلی واقع ہوئی ہے- پشاور کی سیاحت کے خواہش مندوں کو یہاں کے چند مقامات کی سیر ضرور کرنی چاہیے تب ہی ان کا یہ سفر یادگار بنے گا- وہ کون سے مقامات ہیں؟ آئیے ہم بتاتے ہیں۔

قصہ خوانی

قصہ خوانی بازارجیسا کہ نام سے ظاہر ہے قصے کہانیاں سنانے والوں کا ٹھکانہ رہا ہے اور یہ ایک قدیم بازار ہے جس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے ۔پشاور صدیوں سے افغانستان ،وسط ایشیائی ریاستوں کی جانب سے آنے والوں تجارتی قافلوں کا پڑائو رہا ہے زیادہ تر قافلے اسی قصہ خوانی بازار میں واقع سرائوں میں پڑائو ڈالتے تھے جہان قہوے کے دور چلتے اور دنیا بھر کے قصے کہانیاں ان محفلوں کا حصہ ہوتے جس کے باعث اس بازارکا نام ہی قصہ خوانی پڑ گیا- اس بازار کی دوسری مشہوراور قدیم چیز سبز چائے سے بنا قہوہ ہے جس سے آپ یہاں موجود ہوٹلوں پر بیٹھ کر لطف اندوز ہوسکتے ہیں

گھنٹہ گھر

یہ پشاورکا ایک اور مشہور بازار ہے جو یہاںایک بلند ٹاور پرنصب انگریز دور کے گھڑیال کی وجہ سے گھنٹہ گھر کہلاتا ہے۔ اس ٹاور میں نصب گھڑی ملکہ وکٹوریا کے دور کی یادگارہے جو ان کی تاج پوشی کی گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پر بطور یادگار گھنٹہ گھر کی زینت بنی ۔گھنٹہ گھر کا سنگ بنیاد بھی اس وقت کے گورنر سرحد اور پولیٹیکل ایجنٹ سر جارج کننگھم نے1898 میںملکہ کی گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پر رکھا۔۔ یہ ٹاور 1900 میںمکمل کیا گیا تھا۔ اس کا نام جارج کننگھم کلاک ٹاور رکھا گیا جو اب صرف گھنٹہ گھر کے نام سے معروف ہے

پشاور میوزیم


پشاور میوزیم برطانوی سامراج کے دور میں 1905 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے وکٹوریہ میموریل ہال بھی کہا جاتا ہے- یہ دو منزلہ عمارت بیک وقت برطانوی، جنوبی ایشیائی ،بدھ مت اور اسلامی طرزِ تعمیر کا نمونہ ہے- یہ میوزیم گندھارا آرٹ کے نادر نمونوں کے لیے مشہور ہے- اس وقت یہاں 14 ہزار تاریخی اشیا رکھی گئی ہیں جن کا تعلق وادی پشاورمیں پروان چڑھنے والی متعدد تہذیبوں سے ہے- ان اشیا میں سکے ،گھریلو اشیا، مجسمے ،دستکاری کے نمونے اور کئی اور اشیا شامل ہیں-

مہابت خان مسجد


پشاور کی مہابت خان مسجد کی تاریخ مغلیہ دور کے بادشاہوںشاہجہان اور اورنگزیب سے جا ملتی ہے۔

یہ مسجد اس وقت کے گورنر مہابت خان نے تعمیر کروائی تھی- یہ مسجد مغلیہ طرز تعمیر کا ایک بہترین نمونہ ہے اور صحیح معنوں میں لوگوں کو متاثر کرتی ہے- اس مسجد کی چھت سے ایک کھلے اور وسیع و عریض صحن کا خوبصورت نظارہ کیا جاسکتا ہے-


قلعہ بالا حصار


چند مخصوص مقامات کی جانب سے پشاور پہنچنے پر جو سب سے پہلی اہم اور تاریخی چیز آپ کو دکھائی دے گی وہ ہے بالاحصار کا قلعہ- یہ ممکن ہی نہیں کہ اس دیوقامت اور وسیع و عریض قلعے کے سائے کے نیچے سے گزرتے ہوئے آپ اس سے متاثر ہوئے بغیر رہ سکیں- یہ ایک انتہائی خوبصورت اور دلکش تاریخی قلعہ ہے-

سیٹھی ہائوسز


سیٹھی ہائوسز پشاور کی پرانی چاردیواری والے شہر کے اندرسیٹھی محلہ میں واقع ہیں- کوئی بھی شخص جو ان گھروں کا بغور جائزہ لے گا وہ ان گھروں کی تعمیر کے دوران استعمال ہونے والے تاریخی آرٹ کی خوبصورتی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا- یہ گھر سیٹھی خاندان نے تعمیر کروائے تھے جن کے کاروبار ایران ،افغانستان ،چین اور وسطی ایشیا میں پھیلے ہوئے تھے-

ان خوبصورت گھروں کی خاصیت ان کے لکڑی کے دروازوں کی تراش خراش ،کمروں کی رنگین دیواریں، مختلف حصے ،بالکونیاں اور آئینے ہیں ۔سیٹھی ہائوسز پشاور کا مقامی فن تعمیر بن گیا۔ یہ مکانات اپنی طرز تعمیر کے منفرد شاہکار ، گندھارا تہذیب اور جنوبی ایشیا کا ایک نادرفن ہیں۔

سفاری سے ہندو کش تک


گر آپ زبردست ایڈونچر، سڑکوں کی سیر اور خوبصورت نظاروں کا شوق رکھتے ہیں تو پھر آپ کو پشاور سے مردان وہاں سے دیر ٹاپ اور پھر لواری ٹنل سے گزرتے ہوئے براستہ شندور پاس گلگت بلتستان تک کا سفر کرنا چاہیے- اس طرح آپ دنیا کے ایک بلند ترین مقام سے بلند ترین پہاڑوں کا خوبصورت نظارہ کرسکتے ہیں-

سردریاب


سردریاب پشاور کے نواح میں چارسدہ سے متصل ایک چھوٹا سا پرکشش سیاحتی مقام ہے جو دریائے کابل کے کنارے واقع ہے- یہاں آپ اپنی فیملی کے ساتھ دریا کی سیر کے لیے کرائے پر کشتی حاصل کرسکتے ہیں- اس سیاحتی مقام پر آپ میٹھے پانی کی مزیدار مچھلی سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں- آپ چاہیں تو یہ مچھلی خود شکار کر کے خود تیار بھی کرسکتے ہیں۔