Idhariya

طالبان امریکہ مذاکرات ،اہم پیشرفت

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد پہلی بار دو طرفہ اعلیٰ سطحی رابطے ہوئے ہیں ، یہ خوش آئند ہے، دونوں ممالک کے نمائندے دوحہ میں مذاکرات کے دوران اس بات پر متفق دکھائی دیئے ہیں کہ انخلا کے بعد معاملات کو باہم گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے ، کیونکہ انخلاء کے بعد خدشہ تھا کہ امریکہ طالبان کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی بجائے اقتصادی پابندیاں عائد کرے گا، لیکن کچھ ہی عرصہ میں امریکہ کی جانب سے نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طالبان کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ افغانستان کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکہ افغان عوام کے لیے کورونا ویکسین فراہم کرے ، اسی طرح امریکہ سے افغانستان کے مرکزی بینک کے منجمد اثاثوں سے پابندی ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے مطابق دوحہ میں امریکی وفد سے انسانی امداد جاری رکھنے اور دوحہ معاہدے کی پاسداری پر بات ہوئی ہے، جب کہ بات چیت میں افغانستان کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے پر زور دیا گیا ہے، افغان وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے دو روزہ مذاکرات میں افغان حکام کے برعکس امریکی وفد کی طرف سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ امریکی وفد افغان مطالبات کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور اس کا کیا جواب آتا ہے ، اس کی تفصیلات آنا ابھی باقی ہیں، لیکن قوی امکان ہے کہ دونوں طرف سے برف پگھلنا شروع ہو گئی ہے۔ ابتدائی طور پر دونوں جانب سے کچھ شکوے شکایات ہوں گی، جب کہ دوسرے مرحلے میں دونوں فریق دوحہ معاہدے کی پاسداری کی ایک دوسرے کو یقین دہانی کرائیں گے۔ اس ضمن میں دیکھا جائے تو امریکہ سمیت دنیا کے اکثر ممالک توقع کر رہے تھے کہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد طالبان پرانی روش اختیار کر لیں گے مگر حقیقت میں ایسا نہیںہوا ہے، بیس سال پہلے اور موجودہ طالبان کے رویے میں کافی فرق ہے، موجودہ طالبان اقتدار میں تمام گروہوں کی شمولیت کے حامل دکھائی دیتے ہیں ، اسی طرح خواتین کو مختلف عہدوں پر تعینات کرنے کے حق میں ہیں، جب کہ طالبان نے برملا کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیںگے۔ امریکہ سمیت دنیا کو طالبان سے یہی تحفظات تھے ، اس حوالے سے دیکھا جائے تو طالبان نے دنیا کے سامنے مثبت اور قابل قبول چہرہ پیش کر دیا ہے، اس کے باوجود اگر امریکہ طالبان کو قبول نہیں کرتا ہے تو دنیا امریکہ کی حمایت نہیں کرے گا۔ ایسی صورت حال میں اگر انسانی المیہ جنم لیتا ہے اور افغانستان مالی بحران کا شکار ہو جاتا ہے تو امریکہ کو ہی اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا کیونکہ افغانستان کے اربوں ڈالرز امریکہ نے منجمد کر رکھے ہیں۔ طالبان امریکہ دوحہ مذاکرات سے پہلے امریکی وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان نہایت اہمیت کا حامل ہے، امریکہ جانتا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی میں پاکستان کا کردار اہم رہا ہے بلکہ پاکستان کے تعاون کے باعث ہی امریکہ کا افغانستان سے انخلاء مکمل ہو پایا ہے۔ امریکہ کو معلوم ہے کہ آئندہ بھی اسے پاکستان کی ضرورت ہو گی ، امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ دورۂ پاکستان میں اس کا اظہار ہونا چاہیے تھا مگر امریکی وزیر خارجہ کی زبان سے پاکستان کے لیے حوصلہ افزاء الفاظ ادا نہ ہو سکے۔ امریکہ کا یہ رویہ افسوسناک ہے، امریکہ کو یہ بات بخوبی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان خطے کے مجموعی امن کو سامنے رکھ کر کردار ادا رہا ہے، اگر پاکستان کا مثبت کردار نہ رہا تو پورا خطہ بدامنی کی آماجگاہ بن جائے گا، سو مذاکرات کو حتمی نتائج تک پہنچانے اور مستحکم افغانستان کے لیے امریکہ کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔