طبی عملے کو حفاظتی آلا ت کی فراہمی یقینی بنائیں

پاکستان میںکورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 15سو سے تجاوز کر گئی ہے ' 12اموات ہوئی ہیں جبکہ پاکستان میںکورونا کے مشتبہ مریضوں کی تعداد 12ہزار بتائی جا رہی ہے' یہ تعداد پاکستان جیسے ملک کیلئے یقیناً خطرے کی گھنٹی ہے' اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ کورونا وائرس سے ڈاکٹرز اور نرسیں بھی متاثر ہوئی ہیں'ڈاکٹر اسامہ تو اس راہ کے پہلے شہید تھے لیکن اسلام آباد میں ایک اور سندھ کے چار ڈاکٹرز میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے ، پولی کلینک اسلام آبادکے ڈاکٹر میں کورونا کی تشخیص ہونے کے بعد پورے ہسپتال کے ڈاکٹرز کو قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،گو کہ کورونا کی وجہ سے پورا ملک ہی پریشان ہے لیکن طبی عملہ کورونا وائرس سے نمٹے کیلئے فرنٹ لائن پر کام کر رہا ہے' اسلئے ان کی حفاظت یقینی بنائی جانی چاہیے کیونکہ اگر طبی عملہ بڑے پیمانے پر کورونا وائرس سے متاثر ہو گیا تو کورونا سے لڑنے کیلئے ہمیں بیرونی ڈاکٹرز پرانحصار کرنا پڑے گا' اس ضمن میں اگرچہ بہت پہلے منصوبہ بندی کی جانی چاہیے تھی لیکن اب بھی موقع ہے کیونکہ ابھی تک طبی عملہ کے متاثر ہونے کے شاذ و نادر کیسز سامنے آئے ہیں' جس کی بنیادی وجہ ناکافی حفاظتی انتظامات بتائے جا رہے ہیں' ہمیں اپنے طبی عملے کی حفاظت کو اس لئے بھی یقینی بنانا چاہیے کہ وہ نادانستہ طور پر ان مریضوں میں بھی کورونا وائرس منتقل کرنے کا سبب بن سکتے ہیں جن میں کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی یا جو صحت یابی کے قریب تھے' ہمارا شعبہ صحت اگرچہ ترقی یافتہ ممالک جیسا نہیں ہے تاہم ہمیں چین اور دیگر ممالک سے سیکھنا چاہیے کہ انہوں نے اپنے طبی عملہ کو کورونا محفوظ رکھنے کیلئے کیا تدابیر اختیار کیں، بعض طبی ماہرین ڈاکٹرز کو دو گروہوں میں تقسیم کرنے کا مشورہ بھی دے رہے ہیں کہ اگر خدا نخواستہ ایک گروہ کورونا سے متاثر ہو تو دوسرا گروپ ڈیوٹی پر موجود رہے۔ طبی عملے کو محفوظ بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے ہسپتالوں میں او پی ڈی کی خدمات کو محدود کئے جانے کا فیصلہ خوش آئند ہے ' کیونکہ اس اقدام سے ڈاکٹرز کی تمام تر توجہ کورونا وائرس کے مریضوں کی طرف رہے گی اور ڈاکٹرز کو ڈیوٹی کیلئے افراد ی کمی کا سامنا بھی نہیں ہو گا۔ طبی عملے کو حفاظتی سامان کی فراہمی حکومت کا کام ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت طبی عملے کو حفاظتی کٹس فراہم کرنے میں تاحال ناکام رہی ہے' لاہور میں ینگ ڈاکٹرز کا پریس کانفرنس کے ذریعے یہ بتانا کہ کورونا وائرس سے حفاظت کیلئے دستیاب کٹس کی کمی کی وجہ سے ڈاکٹرز ایک کٹ کو دھو کر بار بار استعمال کرنے پر مجبور ہیں' اسی طرح مردان سے ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ ڈاکٹرز ہاتھ پر شاپر پہن کر مریضوں کو چیک کر رہے ہیں ' جب ان سے استفسار کیا گیا کہ آپ ایسا کیوںکر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو حفاظتی آلات کی فراہمی کیلئے بارہا لکھ چکا ہوں لیکن ان کی طرف سے سہولیات فراہم کی گئیں اور نہ ہی کوئی جواب دیا گیا ' ہم مریضوں کو تڑپتا نہیں چھوڑسکتے ۔ حکومت کی طرف سے اگرچہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ڈاکٹرز کو حفاظتی سامان فراہم کیا جا رہا ہے تاہم وزیر اعظم کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی طرف سے 5اپریل تک طبی عملے کو حفاظتی سامان کی کمی دور کرنے کی یقین دہانی کرانے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں حفاظتی کٹس کی کمی کا سامنا ہے ' حکومت آلات کی فراہمی میں اپنے تئیں بھرپورکو شش کر رہی ہے، لیکن ان حالات میں طبی عملے کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دستیاب وسائل کو ضائع کرنے اور بے فکری سے استعمال کرنے کی بجائے محتاط انداز میں استعمال کریں' ڈاکٹر حضرات کے پیشِ نظر یہ بات ہونی چاہیے کہ دنیا میںکسی بھی ملک کا نظامِ صحت اس قدر تیزی سے حملہ کرنے والی وباء کا سامنا کرنے کی سکت نہیں رکھتا' اور نہ ہی ایسی صورت میں کسی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے بالخصوص پاکستان جیسے ملک کو ہر لحاظ سے مسائل میں گھرا ہوا ہے ' پاکستان کے معاشی حالات یقینا ڈاکٹرز سے مخفی نہیں ہیں ' اس لئے ڈاکٹرز کی طرف سے مشکل حالات میںترقی یافتہ ممالک کے طبی عملے کو مہیا کی جانے والی سہولیات کی ڈیمانڈ کرنا' پاکستان کے معاشی حالات سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی موجودہ حالات اس کی اجازت دیتے ہیں' ڈاکٹر حضرات کو وسائل کی فراہمی میں اگر انتظامیہ سے شکوہ ہے تو متعلقہ فورم پر رابطہ کیا جانا چاہیے اور حکومتی سطح پر فوری طور پر اس کے ازالے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ ڈاکٹر حضرات جب معمولی معمولی بات کیلئے پریس کانفرنس کر کے مسائل بتانے لگیں گے تو ڈاکٹرز کا یہ عمل عوام میں خوف پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے جو بڑی تباہی کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ طبی عملے کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی کٹس کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ ڈاکٹرز ذہنی طور پر مطمئن ہو کر عوام کے علاج کے سلسلے کو جاری رکھ سکیں۔