غذائی اشیاء کی قلت کے خطرات

کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں جاری لاک ڈائون کے دوران جب دنیا کورونا سے نمٹنے میں اُلجھی ہوئی ہے تو ذخیرہ اندوز مافیا نے موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے' آٹا ' دالیں اور چینی کو اضافی قیمتوں پر فروخت کیا جا رہا ہے' جبکہ کئی جگہوں پر مصنوعی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ بعد ازاں من چاہے نرخ وصول کر سکیں۔ حکومت نے اگرچہ یوٹیلٹی سٹورز پر ریلیف پیکیج کا اعلان کر رکھا ہے اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف بھی کارروائی کا اعلان کر رکھا ہے لیکن عملاً اس کیخلاف ہو رہا ہے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ ماسک' ہینڈ سینیٹائزر اور ہاتھ کے دستانے نایاب ہو چکے ہیں ' جن جگہوں پر دستیاب ہیں وہ بلیک میں اضافی قیمت وصول کر رہے ہیں ' لاک ڈائون کے ایام میں غذائی اشیاء فروخت کرنے والی دکانوں کو کھلا رکھنے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ غذائی اشیاء کی قیمتیں نہ بڑھ سکیں لیکن حکومتی کوشش کے باوجود بحران پیدا کر کے اضافی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ ریاست قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے اپنی رٹ کو قائم کرے کیونکہ اگر اس سلسلے میں تاخیر کر دی گئی تو عوام میں ہیجانی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے اور لوگ غذائی اشیاء کی قلت کے ڈر سے گھروں میں سٹاک کرنے لگیں گے ' جیسا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں پہلے ہو چکا ہے ۔ پاکستان میں اگرچہ اس کے امکانات بہت کم ہیں کیونکہ ہم روزمرہ کی ضرورت کی اشیاء بیرونی ممالک سے نہیں منگواتے بلکہ زرعی ملک ہونے کی بنا پر غذائی اشیاء کی اکثریت ہماری اپنی پیداوار ہے 'اس کے باوجود مافیا سرگرم ہوجاتا ہے، ذخیرہ اندوز اور تاجر حضرات کو بھی اس موقع پر خوفِ خدا کرنا چاہیے کہ محض چند ٹکوں کے فائدے اور فانی دنیا کیلئے وہ اپنی آخرت خراب کر رہے ہیں' ان حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم ایک قوم کا مظاہرہ کریں اور جس قدر ممکن ہو سکے دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا کریں۔
مذہبی طبقہ کورونا کے خلاف حکومت کا ساتھ دے
کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں عوامی مفاد کے پیش نظر اور کورونا کے مزید پھیلائو کو روکنے کیلئے حکومت خیبر پختونخوا نے نہایت غور و خوض کے بعد مساجد میں نماز باجماعت اور جمعہ کی ادائیگی کے حوالے سے طریقہ کار اور ضوابط کیلئے احکامات جاری کیے ہیں 'ان ضوابط میںکہا گیا ہے کہ جو مقتدی ہر لحاظ سے تندرست ہوں ' صرف وہی مساجد آئیں' مسجد آنے والے نمازیوں کی تعداد محدود ہو' تاکہ کورونا وائرس کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے' جبکہ سندھ حکومت نے علماء کی مشاورت سے حکم نامہ جاری کیا ہے کہ طبی بنیادوں پر نماز باجماعت کو ترک کیا جا سکتا ہے' سو حکومت سندھ نے 5اپریل تک تمام مساجد پر پابندی عائد کی ہے کہ اس دوران صرف 3سے 5نمازی ہی مسجد میں نماز باجماعت ادا کر سکتے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا یا دیگر صوبائی حکومتیں عوام کی حفاظت کے پیش نظر اور محض چند دنوں کیلئے نماز باجماعت میںبڑی تعداد کیخلاف پابندی عائد کر رہی ہے ' ہمیں اس بات کو سمجھنے اور حکومت کیساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسلام میں انسانی جانوں کی حفاظت کی بہت رعایت رکھی گئی ہے ' مثال کے طور پرجب بارش ہو رہی ہو تو نماز جماعت کی رخصت ہے ' اسی طرح اگر کوئی شخص بیمار ہے تو اسے بھی جماعت کے ترک کرنے پر گناہ نہ ہو گا' اسی طرح دیگر کئی مثالیں موجود ہیں جن کا مقصد انسان کی جان کی حفاظت ہے ' سو آج کے حالات میں جب نہ صرف یہ کہ آپ خود متاثر ہو سکتے ہیں بلکہ دوسروں کیلئے بھی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں تو زیادہ ضروری ہے کہ ہم اپنا اور دوسروں کی زندگیوں کا خیال رکھیں ' حکومت کے اس فیصلے کو بلا وجہ ایشو بنانے کی بجائے ہمیں اکابر علماء کے فیصلے پرحکومت کا ساتھ دینا چاہئے۔
کورونا' فرنٹ لائن ورکرز کی حوصلہ افزائی کی ضرورت
کورونا کیخلاف ہر اول دستہ کے طور پر کام کرنے والے تمام افراد تحسین کے مستحق ہیں ' لیکن فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ڈاکٹرز اور طبی عملے کے افراد یقینا ہمارے ہیروز ہیں' یہی وجہ ہے کہ پوری قوم طبی عملہ کیلئے دعاگو ہے جبکہ حکومتوں کی سطح پر طبی عملے کیلئے خصوصی پیکیج کی منظوری دی جا رہی ہے' وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے طبی عملے ' ریسکیو اہلکار' پولیس اور دیگر ملازمین کو اصل ہیروز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ان کی شبانہ روز خدمات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔پاکستان میںکورونا کے موجودہ حالات کے تناظر میں حکومت اپنے تئیں تمام تر وسائل استعمال کر رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کورونا سے محفوظ رکھا جا سکے لیکن ہمارا طبی عملہ فرنٹ لائن پرکورونا کیخلاف لڑ رہا ہے اس لئے ضروری ہے کہ حکومتی اور عوامی سطح پر ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے کیونکہ خدمات کا اصل صلہ یہی ہے'ہمارے اس عمل سے طبی عملہ میں جذبہ پیدا ہو گا اور وہ تندہی کیساتھ اپنی خدمات انجام دے سکیں گے۔