ذمہ دار میڈیا کی اہمیت

میڈیا براہ راست عوام الناس کے اذہان پر دسترس رکھتا ہے۔ دورجدید میں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے بعد مملکت کا چوتھا ستون میڈیا ہے، جسے معاشرے کا آئینہ بھی کہا جاتا ہے۔ معاشرے میں وقوع پذیر ہونے والے تمام افعال کے بارے میں عامیوں تک اطلاعات کی رسائی کے علاوہ یہ افراد کی ذہن سازی کرنے کا فریضہ بھی سرانجام دیتا ہے۔ گلوبل ویلج کے اس دور میں میڈیا کی اہمیت ماضی کے مقابلے میں دوچند ہو چکی ہے۔ 24گھنٹے جاری رہنے والی الیکٹرانک میڈیا کی نشریات نے عوام کی اکثریت کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے ایام میں عوام کی اکثریت چونکہ گھروں پر ہے اس لئے اکثر ٹی وی اور انٹرنیٹ پر ٹائم گزارنے پر مجبور ہے گزشتہ چند دنوں سے میں نے میڈیا کے حوالے سے چند باتیں نوٹ کی ہیں کہ ہمارا میڈیا جس کی سماج میں بے پناہ اہمیت ہے خود کتنی غلطیوں کا مرتکب ہو رہا ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ میڈیا میں کی جانے والی غلطیوں کو اب غلطی نہیں کہا جاتا، یقیناً یہ المئے کی بات ہے۔ ایک زمانہ تھا جب زبان دان طبقہ اچھی اور درست زبان سیکھنے کیلئے اپنے شاگردوں اور بچوں کو اخبارات پڑھنے کا مشورہ دیتا تھا۔ اس طبقے کی رائے تھی کہ اچھی اُردو سیکھنے کیلئے اُردو اخبارات اور درست انگریزی جاننے کیلئے انگریزی اخبارات کا مطالعہ ضروری ہے اور بڑی حد تک ان کی یہ بات درست بھی تھی کہ برصغیر کے اُردو اور انگریزی اخبارات میں اُردو اور انگریزی زبان کے نابغہ روزگار لوگ موجود تھے جو خبر کی صحت سے بھی زیادہ زبان کی درستی پر زور دیتے تھے اور کسی غلط لفظ، جملے، ترکیب، مصرعے، شعر یا استعارے کی اشاعت ان کے نزدیک ناقابلِ معافی جرم تھا، چنانچہ اخباری صنعت میں ایسی مثالیں موجود تھیں کہ کسی غلط لفظ یا جملے کی اشاعت پر زبان سے محبت رکھنے والے ان افراد نے یہ ادارے ہی چھوڑ دئیے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ اُردو اخبارات وجرائد میں صحافت کے ماہرین تو موجود ہیں لیکن زبان کے ماہر نہیں ہیں۔ ماہرین صحافت کا خیال ہے کہ ان کا کام صرف درست اور مصدقہ اطلاعات جلد ازجلد عوام تک پہنچانا ہے اور اس عمل کے دوران اگر کبھی غلط زبان استعمال ہوجائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، کیونکہ غلط زبان کے استعمال کے باوجود بھی عوام تک اطلاعات کی فراہمی کا اہم فریضہ ادا ہوجاتا ہے۔ ان حضرات کو صحیح اور درست زبان کے استعمال پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن وہ اپنے پیشہ ورانہ فرض کی ادائیگی کے دوران زبان کے غلط استعمال پر ذہنی طور پر رضامند ہوگئے ہیں اور ان کی یہ مجبوری کسی حد تک جائز بھی ہے لیکن اس سے زبان کو جو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے شاید اس کا انہیں مکمل احساس نہیں ہے اور وہ اپنے فرائض کی ادائیگی اور اپنے مؤقف پر اصرار کے دوران یہ حقیقت فراموش کردیتے ہیں کہ اخبارات میں شائع ہونے اور ریڈیو اور ٹی وی پر نشر ہونیوالا ہر لفظ، جملہ اور ترکیب ہزاروں نہیں لاکھوں لوگوں کیلئے سند کا درجہ رکھتی ہے۔ لائیو پروگرام میں تو خواہش اور کوشش کے باوجود ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا بلکہ ریکارڈ شدہ پروگرام میں بھی اصلاح کیلئے اتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں کہ بے چارا پروڈیوسر اس بکھیڑے میں پڑنے کے بجائے غلط لفظ یا ترکیب ہی کو آن ایئر کرنے میں عافیت سمجھتا ہے۔ خبروں اور ٹکرز میں بھی یہ معاملہ اسی طرح مشکل ہے۔ جاری پروگرام یا خبروں کے دوران اینکر پرسن یا نیوز کاسٹر کے تلفظ کی اصلاح تو پورے پروگرام ہی کو خراب کرسکتی ہے جبکہ ٹکرز یا لوئرتھرڈ کی جب تک نشاندہی اور درستی ہوتی ہے اس وقت تک وہ خبر یا فوٹیج چلانے کی ضرورت ہی ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
آج اخبارات کے صفحات اور الیکٹرونک میڈیا کے خبرناموں اور پروگراموں میں اغلاط کی بھرمار ہے چنانچہ اب چار پانچ عشرے پہلے کا وہ محاورہ اُلٹ ہورہا ہے کہ زبان سیکھنے کیلئے اخبارات کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس کے بجائے اب زبان کے ماہرین دبے لفظوں میں یہ کہنے لگے ہیں کہ جن بچوں اور شاگردوں کی زبان درست رکھنا مقصود ہو انہیں میڈیا سے دور رکھو۔ نجی محفلوں میں لوگ اخبارات میں غلط الفاظ وتراکیب کے استعمال اور ٹیلی ویژن پروگراموں میں تلفظ اور ادائیگی کی غلطیوں کے علاوہ جملوں کی ساخت میں موجود غلطیوں پر کھلے عام تنقید کرنے لگے ہیں۔ بدقسمتی سے آج کے اُردو اخبارات میں بھی انگریزی الفاظ کا استعمال معمول بنتا جارہا ہے جبکہ دوسری زبانوں کے الفاظ اور جملوں کو بھی محض چٹخارے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اخبارات میں تجارتی اور کھیلوں کی خبروں کے صفحات اور ایڈیشن میں انگریزی اصطلاحات کا استعمال تقریباً سو فیصد ہے اور کوئی ان کا ترجمہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا جبکہ ان الفاظ اور تراکیب کے جو اُردو تراجم موجود ہیں ان کو بھی استعمال کرنے کی زحمت نہیں کی جاتی۔ اس طرح نہ صرف اخبارات اور ٹی وی چینل زبان کے بگاڑ کے عمل میں نادانستہ طور پر شریک ہیں بلکہ وہ اخبارات کے قارئین، چینل کے ناظرین اور ریڈیو کے سامعین کو اپنی قومی زبان سے عملاً دور کرتے جارہے ہیں۔ اخبارات وجرائد، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذمہ داران کے علاوہ عامل صحافیوں، ماہرین لسانیات اور حکومتی اداروں کو اس پر سرجوڑ کر بیٹھنا چاہئے اور اس صورتحال کا کوئی قابل عمل حل تلاش کرنا چاہئے۔ زبان کی درستی کیساتھ ساتھ ضروری ہے کہ اہل صحافت اپنے لہجے کی شائستگی پر بھی زور دیں کیونکہ میڈیا کا کام مسائل کی نشاندہی اور مناسب انداز میں سوال کرنا ہے، منصف بن کر عدالت لگانا اور فوری طور پر فیصلے سنانا کم ازکم صحافی کا کام نہیں ہے۔