کورونا ٹائیگرز سفید ہاتھی نہ بننے پائیں

حکومت نے کورونا کیخلاف مہم کے ابتدائی مرحلے میں لاک ڈاؤن کی پالیسی میں جزوی تبدیلی لاتے ہوئے گڈز ٹرانسپورٹ کی بحالی اور کورونا ٹائیگر فورس کے نام سے رضاکاروں کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹ کی بحالی کے پیچھے غذائی اشیا کی قلت کے خوف کو دور کرنا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کورونا کیساتھ ساتھ اب آنے والے حالات کے خدشات نے عوام کو ذہنی مریض بنانا شروع کر دیا تھا۔ اس کی ایک وجہ قحط اور غذائی اشیاء کی قلت کا خوف تھا۔ اسی خوف کے زیراثر لوگ دھڑا دھڑ اپنے گھروں کو غلے کے ذخائر میں بدلتے جا رہے تھے۔ خوف کا شکار لوگ اپنی ساری جمع پونجی غذائی اشیاء کی خرید اور ذخیرہ کرنے میں لگانے لگ گئے تھے۔ یہ حکومت کی طرف سے کریانہ اور جنرل سٹورز کو کھلا رکھنے کی پالیسی کے باوجود ہور ہا تھا کیونکہ لوگ ایک انجانے خوف میں مبتلا تھے اور اب بھی یہ خوف مختلف انداز سے جاری ہے۔ ایسے میں حکومت نے گڈز ٹرانسپورٹ بحال رکھنے کا اعلان کرکے اس نفسیاتی فضا کو کسی حد تک بدلنے کی کوشش کی ہے۔ عوام کو اب غذائی قلت اور قحط کے خوف اور خدشے سے نکل آنا چاہئے۔ کورونا کی طرح اس خوف میں ہمارا معاشرہ تنہا نہیں تھا بلکہ یہ بھی ایک گلوبل خوف بن گیا ہے۔ امریکہ میں قحط کے خوف سے لوگوں نے بڑے پیمانے پر اسلحہ خریدنا شروع کیا تھا جس کا مقصد قحط کے بعد ممکنہ لوٹ مار میں اپنا دفاع تھا۔ برطانیہ میں اس خوف کے باعث لوگوں نے اشیائے خورد ونوش کے سٹورز ہی خالی کر دئیے تھے۔ بھارتی میڈیا بھی ایسے مناظر دکھاتا رہا جس میں لوگ پاگلوں کی طرح سودا اُٹھائے بھاگ رہے تھے۔ اس لئے انسانی جبلت میں بھوک سے مرنے کا خوف شاید ایک نئی افراتفری کی وجہ بن رہا تھا۔ اب حکومت نے گڈز ٹرانسپورٹ کی بحالی کا اعلان کرکے موجودہ حالات میں ایک اچھا قدم اُٹھایا ہے۔ اسی طرح کورونا ریلیف ٹائیگرز فورس بھی وائرس کیخلاف جنگ میں عوامی شرکت کو یقینی بنانا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کوئی بھی جنگ معاشرے کے تعاون کے بغیر جیتنا ممکن نہیں ہوتا۔ سوسائٹی کو جنگ کا حصہ بنائے بغیر کسی بھی مہم کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ کورونا کیخلاف جنگ میں عوام کو شریک کرنے کا خیال بہت اچھا ہے مگر یہ فیصلہ سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہئے۔ رضاکاروں کی بھرتی میں سیاسی پسند وناپسند کی بجائے جوش وجذبے کا پہلو مدنظر رہنا چاہئے، حکومت کے اعلان سے پہلے ہی ملک کے مختلف حصوں میں رضاکارانہ جذبے کے تحت اس ملک کے نوجوان اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں جُت گئے ہیں۔ گزشتہ چند دن سے ایسے بے شمار مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں جن میں باصلاحیت نوجوان مزدوروں میں کھانا، ماسک اور سینیٹائزر تقسیم کر رہے ہیں۔ یہ گروپ کسی منظم مہم اور اپیل کے تحت صلے اور ستائش کی تمنا سے بے نیاز ہو کر وجود میں آچکے ہیں۔ بلاشبہ ہماری قوم میں بحرانوں اور امتحانوں میں فعال ہونے والا ایثار وقربانی کا خودکار نظام کورنا کیس میں بحال ہو چکا ہے۔ یہ اس قوم کا طرۂ امتیاز ہے کہ یہ مشکل لمحوں میں یکسر ایک نئے رنگ وروپ کیساتھ جلوہ گر ہو جاتی ہے۔ مقام شکر ہے کہ گزشتہ چند دن میں یہ روپ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس کا کیا کیجئے کہ ہمیں خود مذمتی اور خود ملازمتی کی عادت ہو گئی ہے اور اپنے اندر نقائص تلاش کرنا ہماری اجتماعی فطرت ثانیہ بن چکی ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ ہم سب اور ہمیشہ کیلئے برے ہوں۔کوئی معاشرہ اپنی اجتماعیت میں برا نہیں ہوتا بس معاملہ نسبت اور تناسب کا ہوتا ہے جس میں تبدیلی کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔ ایسے میں حکومت کو بھی کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کی تیاری میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ رضاکاروں کی بھرتی اور فورس کی تشکیل میں جذبۂ خدمت کو میرٹ بنانا چاہئے۔ اس میرٹ کی بنیاد پر تشکیل پانے والی فورس ہی اس عظیم چیلنج سے نمٹنے میں حکومت کی مدد کر سکتی ہے۔ ہمارے ہاں پیداگیر گروہ بھی ہمہ وقت موقع سے فائدہ اُٹھانے کیلئے شست باندھے کھڑے رہتے ہیں جونہی موقع ملا وہ ٹرائیگر دبا کر اپنا مقصد حاصل کر لیتے ہیں۔ ٹائیگر ریلیف فورس کو تحریک انصاف سے وابستگی کی بجائے ایثار، قربانی، رضاکارانہ جذبے، جرأت اور جوش کی بنیاد پر منظم کیا گیا تو حکومت کا آدھا بوجھ ہلکا ہوجائے گا اور اس بوجھ کو معاشرے کا کندھا میسر آئیگا۔ اگر اس معاملے میں روایتی سیاست زدہ ذہنیت کا مظاہرہ کیا گیا تو یہ ریلیف ٹائیگرز حکومت کے معاون بننے کی بجائے اس پر بوجھ بن جائینگے۔ ہمارے ہاں اس طرح کے اداروں اور تنظیموں کے پیراسائٹ بننے کی روایت بہت پرانی ہے جنہیں دودھ دینے والی گائے کے طور پر تراشا جاتا ہے تھوڑی دور چل کر سفید ہاتھی ثابت ہوتے ہیں اور پھر حکومت کا اس جونک سے جان چھڑانا مشکل ہوجاتا ہے۔ اسلئے کرونا ٹائیگرز کی تیاری کیساتھ انہیں سفید ہاتھی بننے سے بچانے کا اصول بھی طے ہونا بھی ضروری ہے۔