یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے

دوائیوں کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں، کوئی بھی دوائی اپنے معالج کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں، یہ اور ان سے ملتے جلتے جملے دوائیوں کی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کی جانب سے ان کی شیشیوں یا ان کی پیکنگ پر عام لکھے مل جاتے ہیں۔ دوائیوں کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھنے کی تاکید اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ دوائی کو مٹھائی سمجھ کر کھانے یا پینے نہ لگیں۔ لیکن دوائیوں کی بوتلوں، ڈبیوں یا ڈبوں پر لکھے ہوئے ان جملوں کے باوجود بہت سے لوگ دوائیوں کو نہ بچوں کی پہنچ سے دور رکھتے ہیں اور نہ کسی ڈاکٹر حکیم یا معالج سے مشورہ لینا ضروری سمجھتے ہیں اور بعض تو اپنے آپ کو عقل کل ثابت کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ کچھ نہیں سمجھتے ڈاکٹر حکیم لوگ
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
اور اس طرح وہ ہر وہ دوائی استعمال کرنے لگتے ہیں جس کو وہ اپنی صحت بحال کرنے کیلئے اچھا یا مناسب سمجھتے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق آج کل دنیا بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جانے والے کرونا وائرس کے حملہ کے بعد بیشتر لوگوں کی ہلاکتیں اس وجہ سے ہوئیں کہ انہوں اس وائرس کے حملہ کے نتیجے میں ہونے والی تکلیف پر قابو پانے کیلئے ہر وہ دوائی استعمال کی جسے جو اپنی دانست میں کرونا وائرس کے انفیکشن کو عام سا نزلہ یا بخار سمجھ کر اس کا علاج ازخودکرنا چاہتے تھے۔ اگر کرونا وائرس پر قابو پانے کیلئے بروقت احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جاتا تو پرہیز علاج سے بہتر ہے کے مصداق شائد اس قدر خوفناک اور اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں نہ ہوتیں جتنی بڑی تعداد میں یہ وقوع پذیر ہوئی ہیں اور ہم تڑپ کر کہہ اُٹھے کہ
کم سے کم موت سے ایسی مجھے اُمید نہیں
زندگی تونے تو دھوکے پہ دیا ہے دھوکہ
ایک آن لائن حوالہ کے مطابق کرونا وائرس کا شکار ہونے والے لوگ انفیکشن کے ابتدائی مرحلہ میں سیلف میڈیکیشن کرتے ہوئے انسیڈ، اسپرین اور بروفین جیسی ٹیبلٹ لیتے رہے جن کی وجہ سے ان کے وجود یا جسم کی قوت مدافعت اس لیول تک پہنچتی رہی کہ ان کا جسم کرونا وائرس کے حملہ کی تاب نہ لاسکا۔ گزشتہ دنوں ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس کے علاج کیلئے ملیریا کے مریضوں کو دی جانے والی دوائی کلورو کوئین فاسفیٹ کے مؤثر ہونے کا عندیہ دیا۔ لیکن
اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں
کچھ نہ دوا نے کام کیا
کے مصداق جب کرونا وائرس کے عذاب میں مبتلا امریکی ریاست ایری زونا کے شہر فینکس کے ایک جوڑے نے سیلف میڈیکیشن کرتے ہوئے اس دوائی کو کرونا کے زکام فلو بخار اور دیگر تکالیف کے ازالہ کیلئے استعمال کیا تو میاں بے چارا استغفراللہ، رقص بسمل کرتے ہوئے داعی اجل کو لبیک کہہ گیا جبکہ آخری خبریں آنے تک اس کی بیوی کو تشویشناک حالت میں انتہائی نگہداشت کی وارڈ میں منتقل کردیا گیا تھا۔ خبر گرم ہے کہ میڈیکل سائنس کرونا کے خاتمہ کیلئے ویکسین کی تیاری میں کلوروکوئین فاسفیٹ ہی کو استعمال میں لاکر ویکسین تیار کرنے کا عمل شروع کر چکی ہے اور بتانے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ میڈیکل سائنس کے مطلوبہ نتائج تک رسائی حاصل کرنے میں سالہا سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے، اللہ خبر اس وقت دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچ جائے۔ کرونا جیسے خطرناک شتر بے مہار دجالی ڈائنو سارس کو تعمیر وترقی کی منزلیں طے کرنے والے کب اور کیسے قابو کر سکیں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا اور اس خبر سے آگاہی زندہ بچ جانے والے لوگ ہی کرسکیں گے، لیکن میڈیکل سائنس کے ماہرین کے مطابق سردست کرونا وائرس سے بچنے کیلئے اس کو سینہ بسینہ پھیلنے سے روکنا ہے اور جنگل کی آگ کی طرح پھیلتے اس موذی مرض کو اپنی موت آپ مارنے کیلئے احتیاطی تدابیر کا سہارا لینا ہے، وہ جو اپنے پرانے اور سیانے لوگوں نے کہا ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے، ہمیں ان کی اس پتھر پر لکیر جیسی بات پر نہ صرف عمل کرنا ہے بلکہ اس بات کے ابلاغ یا اس سے آگاہی کو اس ہی تیزی سے پھیلانا ہے جس تیزی سے کرونا کائنات کی کرۂ ارض نامی بستی کے باسیوں پر حملہ آور ہوا، وہ اتنا جاندار جرثومہ نہیں تھا، لیکن اس کی چنگیزیت اور ہلاکو خانیت اس لئے بہت سے اجل ماروں کا کام تمام کر گئی کہ وہ اسے عام سا نزلہ یا زکام سمجھ کر سیلف میڈیکیشن یا الٹی سیدھی دوائیوں سے اپنا علاج خود کرنے لگے تھے، نزلہ زکام کو موسمی بیماری کہہ کر لوگ خاطر میں نہیں لاتے اور ایک آدھ گولی کھا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اس پر قابو پالیا، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ نزلہ یا زکام اللہ نہ کرے اگر بگڑ جائے تو دمہ، نمونیا اور تپ دق بھی بن جاتا ہے، ماہرین کہتے ہیں کہ کرونا نزلہ یا زکام ہی کی ایک بگڑی ہوئی صورت ہے اور سردست اس پر قابو پانے کیلئے ان تدابیر پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جن کا ابلاغ کیا جارہا ہے یعنی گھر سے باہر نہ نکلیں، ہجوم کی صورت اکٹھے نہ ہوں، میں یہ بات دہرا دوں کہ اس جرثومہ کو پھلنے پھولنے اور پھیلنے سے روکا جائے تو صرف چودہ دن میں یہ اپنی موت آپ مرجاتا ہے، مار دو اس موذی مرض کو نماز پنجگانہ کیلئے جراثیم کش صابن سے باوضو رہتے ہوئے، ستر پردہ اور حجاب کا احترام کرتے ہوئے، یاد رکھیں کہ حجاب صرف عورتوں پر واجب نہیں، زندہ رہنا چاہتے ہو تو بننا پڑے گا آپ کو مردان مومن اور آپ کے پرحکمت رویہ کو دیکھ کر تاریخ لکھنے والوں کو کہنا پڑے گا کہ
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تونے بخشا ہے ذوق خدائی