گیس وبجلی بحران

خیبرپختونخوا میں گیس وبجلی بحران شدید

ویب ڈیسک :صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبہ کے کئی شہر اسوقت بدترین گیس اور بجلی لوڈشیڈنگ کی زد میں ہیں۔گھنٹوں بجلی غائب ہونے اور گیس نہ ہونے سے صارفین دہری اذیتوں کا شکار ہیں۔

جبکہ حیرت انگیز طور پر دونوں محکموں کے ذمہ دار افسر اور ترجمان لوڈشیڈنگ نہ ہونے کا دعوی کررہے ہیں۔

بجلی کی پیداوار میںتعطل اورقطرسےایل این جی شپمنٹ میںتاخیرکےباعث خیبرپختونخواکے اکثر شہر بشمول پشاور شدید بحران کی لپیٹ میں ہیں۔

اس وقت پشاورمیں بجلی لوڈشیڈنگ کادورانیہ14گھنٹے سےتجاوزکرگیاہےجبکہ بعض علاقومیں گیس مکمل طورپردستیاب نہیں جسکےنتیجےمیں شہریوںکےمسائل دو آتشہ ہوگئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق بجلی کا تعطل تربیلہ میں فنی خرابی کے باعث پیدا ہوا ہے جس کو تاحال ٹھیک نہیں کیا جا سکا ہے .

اسلئےگھریلواورتجارتی سطح پرگیس بالکل بھی دستیاب نہیں اس صورتحال میں سی این جی سٹیشنز تقریبابندکردیئےگئےہیں اورگھریلوصارفین سلنڈرگیس استعمال کرنے پرمجبورہوگئےہیں۔

واضح رہے بجلی کی پیداوار میں تکنیکی مسائل کے باعث طلب اور رسد میں فرق پیدا ہونے سے نیشنل گرڈ سٹیشن سے خیبر پختونخوا کے لئے بجلی کی سپلائی میں6سو میگاواٹ کمی کردی گئی ہے .

جس کی وجہ سے پشاور سمیت صوبہ بھر میں بجلی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ دوگنا کر دیا گیا ہے۔

اس سلسلےمیںپیسکوانتظامیہ نے تمام ماتحت افسروں کو گرڈ سٹیشنوں سے بجلی بند کرنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں

جسکی روشنی میں چوبیس میں 14گھنٹےتک کیلئےتمام فیڈرزسےبجلی کی سپلائی گھریلواورتجارتی صارفین کیلئے منقطع رہنے کا سلسلہ جاری ہے۔

بجلی بحران کےساتھ پشاور اور مختلف علاقوں میں گیس مکمل طور پر ناپید اور اس کا پریشر ختم ہوگیا ہے

جس کےباعث گھریلواورتجارتی صارفین کو شدیدمشکلات کاسامناکرناپڑرہاہےشہر میں گھروں میں گیس کی سپلائی مکمل طور پر معطل پڑی ہے ۔

تندور بھی سرد اور نانبائی لکڑی کے ذریعے کچی پکی روٹیاں پکا رہے ہیں .

گھروںمیں امورخانہ داری کیلئےگیس کااستعمال بڑھ گیاہےجبکہ بیشترگھروںمیںگیس کےپریشرکیلئے کمپریسرکا استعمال بھی حد سے تجاوز کرگیا ہے ۔

گیس سٹیشن بھی بند ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں ۔

اس سلسلےمیں محکمہ گیس کےحکام نےبتایاکہ ملک میں سوئی گیس کی پیداوار کم اور اس کا استعمال زیادہ ہوگیا ہے

ملکی ضروریات کاانحصار50فیصدسوئی گیس اور 50فیصدایل این جی پر ہے لیکن ایل این جی کے سودے میں تاخیر کے باعث بحران نے جنم لیا۔

نئی سپلائی آنے تک یہ بحران برقرار رہے گا کیونکہ تمام تر دبائو سوئی گیس پر ہے جس سے گیس سٹیشن پر بھی بحران شدید ہوجائے گا اور گاڑیاں رک جانے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب بجلی کی لوڈشیڈنگ پر پیسکو کے ترجمان شوکت افضل نے مشرق کو بتایا کہ صوبے میں کسی بھی جگہ پر لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی۔

صارفین کو بجلی سو فیصد سپلائی کرنے کا سلسلہ جاری ہے جن علاقوں میں بجلی بند کی جاتی ہے ان علاقوں میں پیشگی بنیادوں پر اطلاع جاری کی جاتی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ کسی قسم کا کوئی بحران نہیں اور ہر جگہ بلا تعطل بجلی کی سپلائی جاری ہے۔