فلاحی ریاست ، غربت کا خاتمہ پہلاقدم

عالمی معیشت میں ہونے والی کوئی بھی پیشرفت یا تبدیلی تقریباً تمام ملکوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے اور اس کی بڑی وجہ ان کا ایک دوسرے سے تعلق اور باہمی انحصار ہے۔ترقی پذیر ملکوں جنہیں اپنی ترقی کا عمل آگے بڑھانے اور معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے زیادہ تر درآمدات پر ہی انحصار کرنا پڑ تا ہے ، انہیں اُن اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے جو وہ درآمد کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو ان ممالک کے معاشی منتظمین کے قابو سے باہر ہے۔ ترقی پذیر ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان کو بھی اس وقت ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر تیل، گندم، چینی اور دوسری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ملک میں ہونے والی مہنگائی نے عوام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف وزیراعظم عمران خان بھی گزشتہ دنوں کامیاب پاکستان پروگرام کی افتتاحی تقریب کے دوران کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہے۔ بنیادی طور پر درآمدی افراط زر کے باعث اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت گندم سمیت دیگر اشیاء ضروریہ درآمد کر رہی ہے،چالیس لاکھ ٹن گندم درآمد کی گئی ہے ، اسی طرح پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی عالمی سطح پر سو فیصد اضافہ ہوا ہے تاہم حکومت نے ملک میں قیمتیں صرف بائیس فیصد تک بڑھائی ہیں۔ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں ابھی بھی کم ہیں اور حکومت چالیس فیصد گھرانوں کوگھی، چینی اور آٹے پر ٹارگٹڈ براہ راست نقد اعانت فراہم کرے گی۔ ملک کی معاشی حالت کی وضاحت کے حوالے سے وزیر اعظم کا پیش کردہ استدلال ملامت سے بالاتر ہے کیونکہ حکومت نے معیشت کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں کی مشکلات کی کمی کے لیے اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ غربت کے خاتمے کے حوالے سے وزیر اعظم کا عزم ان اقدامات سے عیاں ہے جو احساس پروگرام کے بینر تلے کئے گئے ہیں۔ لوگوں کو بااختیار بنانے ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معاشرے کے غریب طبقات کو سستے گھروں کی فراہمی کے اقدامات وزیراعظم کے نصب العین کی روشنی میں ہی کئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ غربت کے خاتمے کے لیے بعض د وسرے اقدامات بھی کئے گئے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد معاشرے پسماندہ طبقے کو مالی تعاون فراہم کر کے ان کی زندگیوں میں تبدیلی لانا ہے ۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے جس میں انتہائی کم آمدن کے حامل طبقات مائیکرو فنانس اداروں کے ذریعے بنکوں سے منسلک ہوجائیں گے۔ یہ تصور لوگوں کی آمدن کی سطح بڑھا نے کے فلسفے پر مبنی ہے تاکہ وہ غربت کی زنجیروں سے آزاد ہو سکیں۔کامیاب پاکستان پروگرام کے پانچ جزو ہیں، جن میںکامیاب کسان ، کامیاب کاروبار ، سستے گھر سکیم ، کامیاب ہنرمند اور صحت مند پاکستان شامل ہیں۔ پہلے تین اجزاء کے تحت احساس ڈیٹا کے ساتھ رجسٹرڈ اہل افراد کو چھوٹے قرضے دیئے جائیں گے۔ احساس ڈیٹا قومی سماجی و اقتصادی رجسٹری (این ایس ای آر )کے ذریعے مرتب کیا جائے گا۔ اسی طرح آخری دو اجزاء حکومت کے موجودہ اقدامات کے ساتھ مربوط ہوں گے۔ کامیاب ہنرمند سکیم باصلاحیت لوگوں کو تعلیمی اور پیشہ ورانہ تربیت دینے کے لیے حکومت کے جاری ہنر مندی کے پروگرام کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے مرتب کی گئی ہے۔ اس پروگرام میں ایک صارف دوست پورٹل بھی شامل ہے جسے کامیاب پاکستان انفارمیشن سسٹم کہا جاتا ہے جسے احساس اور نادرا ڈیٹا بیس کے ساتھ مربوط کیا جائے گا تاکہ اہلیت کی تصدیق کے ساتھ فنانسنگ کے عمل کو انتہائی موثر اور شفاف طریقے سے حتمی شکل دی جا سکے۔ جامع اور دیرپا معاشی شرح نمو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام غریب اور کمزور طبقات کی بہتری کے لیے حکومت کی نیک نیتی اور عزم کامظہر ہے۔کہا جاتا ہے کہ غربت کے سمندروں میں دولت کے جزیرے نہیں ہو سکتے اس کے معاشی ، سماجی اور سیاسی اثرات ہیں۔ پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کسی بھی ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہاں غربت کے خاتمے پر توجہ دی جائے جو بلاشبہ اقتصادی ترقی کا سب سے بڑا محرک ہے۔ چین نے دنیا کو ثابت کر دکھا ہے کہ غربت کے خاتمے کے فلسفے پر عمل پیر ا ہو کر اس نے کس طرح غیر معمولی معاشی ترقی یقینی بنائی۔ غربت کا خاتمہ ہی ایک ایسا ستون ہے جس پر ایک فلاحی ریاست کا ڈھانچہ قائم ہوتا ہے۔ بانی پاکستان نے 11 اگست 1947 ء کو دستور ساز اسمبلی سے اپنے خطاب میں ملک کو درپیش چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھاکہ ” اگر ہم اس عظیم مملکت پاکستان کو خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں عوام خصوصاً غریبوں کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ ریاست مدینہ کا نمونہ جس کی وزیر اعظم تقلید کرنا چاہتے ہیں وہ بھی ایک فلاحی ریاست کا مثالی نمونہ تھا۔ وزیر اعظم عمران خان کی غربت کے خاتمے کے اقدامات پر بھرپورتوجہ ان کا درست سمت میں ایک قدم ہے، تاہم مطلوبہ نتائج کے حصول کے لئے ان اقدامات پرموثر عملدرآمد اشد ضروری ہے۔
(بشکریہ،دی نیوز، ترجمہ: راشد عباسی)