ہماری کرپشن زدہ معیشت کا المیہ

واشنگٹن میں مقیم تحقیقاتی صحافت سے متعلق بین الاقوامی کنسورشیم کی تحقیقات سامنے آ چکیں۔ کہا جاتا ہے کہ عالمی سطح پر طبقہ اْمرا کے خفیہ اثاثاجات اور اْنہیں مقامی سطح پر ٹیکس سے تحفظ فراہم کرنے سے متعلق بین الاقوامی خدمات کنندہ کمپنیوں کی کاروائیوں سے متعلق یہ اب تک کی سب سے بڑی تحقیقات تھیں۔ ہمارے وزیر اعظم صاحب نے وطن عزیز کی حد تک غیر ممالک میں ناجائز ذرائع سے املاک حاصل کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کاروائی کا عندیہ دیا ہے لیکن غیر ملکی املاک رکھنے والے اِقتدار کے سانجھے داروں کے خلاف کیا تحقیقات ہوں گی؟ اور اگر ہوں گی تو اْنکے کیا نتائج برآمد ہونگے؟ بعض ایسے سوالات ہیں جو تاحال جواب طلب ہیں۔
ہمارے ہاں غلطی کے اِرتکاب پر سزا و تعدیب تو درکنار محض شرمندگی کا اظہار تک مفقود ہے۔ اظہار شرمندگی کو بھی رہنے دیں بلکہ ہمارے ہاں تو اْلٹا صریح غلطی کے اِرتکاب پر خم ٹھونک کے تاویلیں گھڑی جاتی ہیں۔ پچھلے دنوں دیارِ غیر میں مقیم ہمارے ایک ساتھی جو کہ وطن عزیز میں مثبت تبدیلی کے پر زور حمایتی بھی ہیں ہمارے ساتھ بزریعہ فیس بْک مباحثے کی راہ پر چل نکلے۔ ہم نے بارہا یقین دلایا کہ ہم حکومت وقت کے اِس بیانیے کو ضرور سرہاتے ہیں کہ کرپشن سے امیر و غریب کا امتیاز بڑھتا ہے اور یہی وہ بڑی وجہ ہے کہ ہم سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ناجائز ذرائع سے رقوم بیرون ملک بھجوانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ ہمارا موقف اگرچہ غیرجانب دارانہ تھا لیکن موصوف یہ بھانپتے ہوئے کہ اِس موقف کی لپیٹ میں کسی حد تک حکومت وقت بھی دوڑی چلی آتی ہے، کچھ مضطرب سے محسوس ہونے لگے۔ چنانچے بحث کو ایک نیا زاویہ دیتے ہوئے بولے: جناب! غیر ملکی اثاثاجات بالخصوص بیرون ملک کمپنیوں کا حصول آخر مملکت پاکستان کے کس قانون کے تحت قابل دست اندازی جرم ہے؟ اب جو بات کْھلی تو ہم نے جانا کہ قانون کی غیر موجودگی بلاشبہ ہماری قانون سازی کا ایک سقم ہے۔ لیکن قانون کی غیر موجودگی کو جواز بناتے ہوئے جو بات اگلوں کے لیے جائز ہے وہی پچھلوں کے لیے بھی جائز ٹھہرائی جا سکتی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہو تو تحریک انصاف کے شروع سے اب تک کے سارے بیانیے کی حقیقت ریت کی دیوار سے زیادہ اور کچھ نہیں ہو گی۔
آئیے اپنے اصل موضوع کی شروعات کرتے ہیں۔ کرپشن معیشت کو کس طرح کھوکھلا کرتی ہے؟ اور یہ کہ کرپشن کا تسلسل کسی معاشرے میں امیر و غریب کے امتیازات کو کیسے وسیع تر کرتا ہے؟ ایک بات تو واضح ہے کہ کرپشن سے کسی ملک کے قیمتی وسائل اپنی اصل جائے ضرورت سے سرکتے ہوئے مراعات یافتہ اقلیتی گروہ کے ہاں مرتکز ہو جاتے ہیں جو اپنی کرپشن کے باعث معاشرتی بگاڑ کی وجہ بنتا ہے۔ اِس طرح وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث آبادی کے اکثریتی گروہ میں غربت عام ہوتی ہے۔ ہمارے بارہا مشاہدے میں آتا ہے کہ کرپشن سے نہ صرف قیمتی وسائل کا ضیاع واقع ہوتا ہے بلکہ اِس سے ملکی اور غیر ملکی ادائیگیوں میں خسارے کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان سمیت تیسری دنیا کے ممالک میں کرپشن سے پیدا ہونے والے وسائل کے خلا کو بیرونی قرضوں سے پورا کیا جاتا ہے۔ اِس طرح کمی تو خیر پوری نہیں ہو پاتی تاہم بیرونی قرضوں کا حجم بڑھتے بڑھتے آخر کار پورے سماج کو تنزلی کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔
ہماری سیاسی بساط کے پینترے ملاحظہ ہوں کہ ہمارے ہاں احتسابی عمل سمیت بچت، کفایت شعاری اور سادگی جیسی مثبت تدابیر سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ وسائل کے خلا کو جہاں ایک طرف اندھا دھند بیرونی قرضوں سے پْر کرنے کی کوشش کی گئی ونہی ایک غیر دانشمندانہ اقدام نئے کرنسی نوٹوں کا اجرا بھی تھا۔ تیسری دنیا کی کھوکھلی معیشت اور اْسکے نتیجے میں پیدا ہونے والا معاشرتی استحصال بڑی حد تک ایسے ہی مصنوعی معاشی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ نئے نوٹوں کا اجرا کسی طویل المدت معاشی منصوبہ بندی کا متبادل نہیں بن سکتا۔ بلکہ حکمت سے عاری یہ اقدام مقامی کرنسی کی بے وقعتی کا باعث بنتا ہے جس کا براہ راست نتیجہ اشیائے صرف کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور عوام کے دن بدن گرتے معیارِ زندگی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں کرپشن سے کمایا گیا پیسہ اگر اندرون ملک گردش میں رہتا تو بھی ترقی کی کوئی نہ کوئی صورت ممکن ہو پاتی۔ لیکن ایسا معاشرہ جہاں کا قیمتی سرمایہ ارزاں پانی کے بہتے ریلے کی مانند کوچہِ اغیار کی جانب رواں ہو اْس مریض جیسی ہے جس کے جسم کا سارا خون چوٹ لگنے کے باعث بہتا چلا جا رہا ہو۔ ہمارے ہاں ترقی کے حصول کے لیے کرپشن کے ذریعے وسائل دولت کے طبقاتی ارتکاز کو روکنا وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے۔