ایک مبارک فیصلہ وسعی

اسلام آباد میں رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچوں اوربڑوں کو روشناس کرانے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں گے انہوں نے عملی قدم اٹھاتے ہوئے موجودہ و آئندہ نسل کو نبی آخری الزمان خاتم النبین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روشناس کرانے کے ضمن میں اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند اور مبارک ہے۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ اسلم سے محبت اور ان کے خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے پر یقین ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ہادی برحق، فخر موجودات، آقائے دو جہاں، امید انسانیت سے عقیدت وہ روشنی ہے، جو ہمارے ایمان کو ہمیشہ منور رکھتی ہے، عہد حاضر میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جسے اللہ اور اس کے رسول ۖ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ تاریخ میں ایسی مثالیں بھی کم ہی ملتی ہیں کہ کسی قوم یا نسل نے ایک نظرئیے کے لئے اس بڑے پیمانے پر ہجرت کی ہو، اتنی جانوں کی قربانی دی ہو،اِس قدر مالی نقصان برداشت کیا ہو، آج بھی پاکستان مسلم امہ میں اس لئے توجہ اور اہمیت کا مرکز بنا رہتا ہے کہ اس میں بسنے والے ہر چیز پرمصلحت کے تقاضوں کا خیال رکھتے ہیں۔ لیکن جہاں حرمت رسولۖ کا معاملہ ہو یہ کٹ مرنے پر تیار ہوتے ہیںیہ ماہ مقدس رحمتوں برکتوں کا مہینہ ہے،کیونکہ اس میں رحمت اللعالمینۖ دنیا میں تشریف لائے۔ وفاقی حکومت کا پیارے نبی ۖ کو ہدیہ عقیدت پیش کرنے کے لئے اس ماہ کے حوالے سے عشرہ منانے کا اعلان نہایت احسن اقدام ہے۔نبی برحق سے محبت کا اصل تقاضہ یہ ہے کہ تقریبات سے زیادہ ہم کردار بدلنے پر توجہ دیں۔اسوہ حسنہ کی جھلک ہمارے شب و روز میں نظر آنی چاہئے،کیا ہم نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے رستہ پر چل پا رہے ہیں یا نہیں، آقائے نامدارۖ کی تمام عمر اپنے ساتھیوں کی کردار سازی اور امت کے لئے ایک واضح روڈ میپ ترتیب دینے میں گزری، زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جہاں شافع محشرۖنے ہمارے لئے رہنما اصول وضع نہ کیے ہوں۔ مدینہ کی ریاست انصاف کے مضبوط ستونوں پر قائم تھی۔جہاں کسی عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہ تھی،یہاں کردار اور علم میں پختگی دوسروں سے ممتاز کرتی تھی،سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کی روایت تھی اگر ہم سچے عاشق رسولۖ ہیں تو پھر ہمارے کردار میں اپنے محبوبۖ کے کردار کی جھلک بھی نظر آنی چاہئے۔انصار اور مہاجرین کے تعلقات محض ایک واقعہ نہیں ہمارے لئے راہ ہدایت ہیں۔کاش ہم بھی اپنے اردگرد کم وسیلہ لوگوں کا احساس کر سکیں۔ اصل ضرورت اپنے کردار کے ذریعے نور مجسم ہادی برحقۖ سے محبت کا اظہار ہے۔ ہمارے پاس ایک عظیم موقع ہے۔ درود و سلام کی صدا میں اپنے اندر کے کھوٹ دور کر لیں، مادی کثافتیں دور کر لیں، انسانیت سے محبت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیں۔ اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر چلنے ہی میں ہماری نجات ہے۔جذبات کا اظہار کرنا احسن ہے،لیکن جب تک عمل شہادت نہ دے ہماری تقدیر نہیں بدل سکتی۔
طب و صحت کے بگڑتے مسائل
پشاورکے شہری اور نواحی علاقوں میں ادویات کی ڈیمانڈ بڑھنے کے باوجود بھی محکمہ صحت سے مسئلہ حل نہیں ہوسکا ہے جس سے ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی مریضوں کیلئے بند کردی گئی ہے۔ہمارے نمائندے کے مطابق صحت سہولت پروگرام کے ساتھ رجسٹریشن کیلئے خیبر پختونخوا کے نجی ہسپتالوں کی جانب سے 13سو سے زائد درخواستیں موصول ہوگئی ہیں تاہم ان میں سے20فیصد ہسپتال بھی مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں ہیں۔ان دونوں عوامل سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں صحت کی سہولتوں کے حوالے سے صورتحال تسلی بخش نہیں ہسپتالوں میں ادویات کی بروقت فراہمی و موجودگی کا عمل سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے سرکاری ضوابط کی پیچیدگیاں اور فنڈز کی عدم فراہمی اس کی بڑی وجوہات ہیں دوسری جانب یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ اگر صوبے کے بیس فیصد ہسپتال بھی صحت کارڈ کے ضمن میں علاج کے لئے موزوں نہیں تو پھر اس طرح کی استعداد کے ہسپتالوں کو اجازت ہی کیوں دی گئی ہے کہ وہ عوام کو علاج کی سہولتوں کے دعوئوں پر دھوکہ دیں۔ صحت کی سہولیات کے بگڑتے معاملات لمحہ فکریہ ہیں جس کا وزیر اعلیٰ کو نوٹس لینے اور اصلاح احوال یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔
محتاط مارکنگ کی جائے
پشاور تعلیمی بورڈکے حکام نے میٹرک اور انٹر کے نتائج کے بعد نویں اور گیارھویں کے امتحانات کے نتائج کیلئے پرچوں کی چیکنگ شروع کرتے ہوئے اس غلطی کے اعادے سے بچنے کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں مضحکہ خیز نمبروں کا انبار لگایا گیا اور پورا امتحانی نظام کا مذاق اڑایا گیا۔البتہ اس منفی صورتحال کی پرچھائیوں سے نویں اور گیارہویں کے طالب علموں کو بچانے کی بھی ضرورت ہے امر واقع یہ ہے کہ میٹرک اور انٹر کے طالب علموں کو تھوک کے حساب سے دیئے گئے نمبروں کا کوئی جواز نہیں تھا یہ کیسے ممکن ہوا کہ پورے کے پورے نمبر دیئے گئے ۔صوبے کے تعلیمی بورڈز کے درمیان علاوہ ازیں بھی تھوک کے حساب سے نمبر دینے کی جو دوڑ جاری ہے اس سے معیار بڑھا نہیں بلکہ معیار میں پستی آئی ہے ایسے لگتا ہے کہ مصنوعی نمبر دیئے جارہے ہیں اس تاثر پراس وقت مہر ثبت تصدیق ثبت ہوتی ہے جب بورڈز سے اعلیٰ نمبروں کے ساتھ کامیاب ہونے والے طالب علم انٹری ٹیسٹ ہی پاس نہیں کر پاتے یا پھر ان کے نمبراوسط درجے کے طالب علموں کے برابر آتے ہیں۔اگر ہم نے تعلیمی معیار بلند کرنا ہے تو پھرحقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرنا ہو گا۔ان عوامل سے قطع نظربعض طلبہ کی جانب سے اس مرتبہ بھی بورڈ حکام کے نفسیات دبائو کے باعث طلبہ کو کم نمبر دینے کے خدشے کا اظہاربلاوجہ نہیں۔بہتر ہوگا کہ اساتذہ اور بورڈ حکام اپنی کھال بچانے کے لئے طلبہ کو قربانی کا بکرا نہ بنائیں بلکہ پرچوں کی حقیقت پسندانہ مارکنگ کی جائے بصورت دیگر طلبہ احتجاج کی صورت میں ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گا۔