مشرقیات

اعزاز کے ساتھ دفنادیاگیاوہ بھی ریاستی۔اچھا سین ہے جس کاباقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری ہوا۔بہت سوں کو احمد ندیم قاسمی کا مشہور زمانہ شعر بھی یا د آگیا ہے۔
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
لوگ انہیں مرنے کے بعد اورمرنے سے پہلے بھی محسن پاکستان قرار دیتے رہے تاہم اس محسن کے احسانات گنوانے کا مقابلہ تب ہی شروع ہوا جب ان کی وفات حسرت آیات کی خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔پہلے تو ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اپنی تصویریں ڈھونڈنے والے ڈور دھوپ کرتے نظر آئے اور پھر شروع ہوگیا تعزیتی بیانا ت کا نہ تھمنے والا سلسلہ ،اس سے پہلے ڈاکٹر صاحب مہینوں سے بستر علالت پرتھے اور بقول ان کے ایک خط کے حال احوال پوچھنے کی کسی کو زحمت نہ ہوئی سوائے سند ھ سرکار کے۔جب اس دار فانی سے رخصت ہوگئے تو پھر ان کے مداحوں نے سوشل میڈیا پر یلغار کر دی۔عیادت کی کسی کے پاس فرصت نہیں تھی اور تعزیت کے لئے ایک ٹویٹ پر کون سا ٹائم لگتاہے پس یہاں بھی ثابت ہوا کہ قوم کے لئے زندگی وقف کرنے والے کے لئے قوم کے پاس ٹائم نہیں ہوتا۔رہ گئے لیڈر حضرات تو ان کو ہاتھ پائوں ہلانے کی بھی فرصت نہیں ملتی وگرنہ ڈاکٹر صاحب کہیں دور نہیں دو چار کلو میٹر کے فاصلے پر صاحب فراش تھے،تیزرفتا ر پروٹوکول کے ساتھ یہ دوچار کلومیٹر کا فاصلہ ہمارے لیڈر” زن ”سے ہوا کے ایک جھونکے کی طرح طے کر لیتے ہیں تاہم توفیق نصیب نہ ہوتو بندہ خود سے نیکی کہاں کرتا ہے۔
اب ڈاکٹر صاحب نہیں رہے ان کا کام رہ گیا ہے ان کے بدترین دشمن بھی مانتے ہیں کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور اسکی کامیابی میں ڈاکٹر عبدالقدیر خا ن کابنیادی کردار ہے۔اس کردار کو متنازعہ بنانے والوں نے طرح طرح کے ان پر الزامات لگائے۔تاہم الزام لگانے والے بھی مانتے ہیں کہ پاکستان کی جوہری کامیابی کی راہ پر ڈال کر ڈاکٹر صاحب نے وہ جرم کیا تھا جسے سات سمند ر پار بیٹھے انکل سام اور ان کے ادھر ادھر بکھرے چیلے کسی صورت بھلانے کو تیا ر نہیںتھے۔ایک یہی ثبوت کافی ہونا چاہئے ایٹمی پروگرام میں ان کے اہم ترین کردار کا۔انہیں خراج تحسین پیش کرنے والوں کی کمی نہیں ہے تاہم ساتھ میں کچھ لوگ طعنہ زن بھی ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کے گلے شکوے دور کرنے چاہیئں تھے۔ہوا کے دوش پر سوار حکمران اور سیاسی قیادت کو ان کا حال احوال پوچھنے جانا چاہئے تھا ،نہیں گئے تو کم ازکم ان کے ساتھ اپنی یادگار تصویریں شیئر کرکے قوم کے زخموں پر نمک تو نہ چھڑکیں۔