آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے

محسن پا کستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے رب کے حضور پیش ہو چکے ہیں پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے اس عظیم انسان کے لئے ہر محب وطن کے دل سے جو دعا نکل رہی ہے اور ملک بھر میں ان کی مغفرت اور ان پر رحمت کی جس طرح دل سے دعائیں مانگی جا رہی ہیں، مالک ارض و سما کے ہاں وہ یقیناً منظور و مقبول ہوئی ہوں گی اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی روح یقیناً پاکستانی قوم بالخصوص اور مسلمانان عالم سے بالعموم خوش ہو گی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سادہ شخصیت ان کی سادہ دلی اور صاف گوئی جہاں ان کو ناپسند کرنے والوں کو ناگوار تھی وہاں وہ کروڑوں دلوں کے ہیرو تھے ان کا نام جس احترام سے لیا جاتا ہے اور لیا جاتا رہے گا وہ کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ قوم کے دلوں پر راج کرنے کے حامل عظیم انسان جس سلوک اور اعزاز کے مستحق تھے عوامی سطح پر تو وہ اسے بھر پور طور پرحاصل رہا مگر سرکاری طور پر اس کی کمی محسوس ہوئی، اس کا مظاہرہ ان کی زندگی ہی میں نہیں بعد از وفات بھی ان کے جنازے کے موقع پر ہوا جس سے قطع نظر اگر بھارت کے ایٹمی سائنسدان عبدالکلام کی خدمات کے اعتراف کا جائزہ لیا جائے تو بھارت کے متعصب معاشرے میں ہونے کے باوجود اسے ہیرو کا درجہ دیا گیا وہ ملک کے صدر تک بن گئے ان کے نام پر درجنوں تعلیمی ادارے قائم ہوئے اور بین الصوبائی سڑکوں کے علاوہ ان کو اعزازات سے نوازا گیا ان کے جنازے کو بھارتی وزیر اعظم نے سلامی دی، ہمارے ہاں اعزاز سے دفنانے کے رواج پر بھی عمل نہ ہوا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کا الزام کیسے لگا اس سے قطع نظر محسن پاکستان نے الزام قبول کرکے قوم کو ایک مشکل سے بچا لیا ان کی اس قربانی کی بھی قدر نہ کی گئی، ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے الزام کی شکار شخصیت نے زندگی بھر قلیل پنشن پر گزارہ کیا اور ان کے اثاثے و اخراجات ان کی مالی حیثیت کے مطابق ہی رہے اس الزام پر ان کی نظربندی اور حکومتی سطح پر ان سے کنارہ کشی مصلحت ہو سکتی تھی لیکن ان کو اس طرح تنہا چھوڑنے کا کوئی جواز نہ تھا اس عظیم شخصیت نے ابتداء اپنے کیریئر کی قربانی دے کر پاکستان کو ایٹمی ملک بنانے کی جدوجہد سے کی اور دم آخر مصلحت کی ردا اوڑھ کر رخصت ہو گئے، کٹہرے میں کھڑے ہونے کے باوجود اپنی صفائی پیش کرنے کو مناسب نہ جانا اور قوم کی خاطر دامن پر داغ کو ترجیح دی ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کا وہ جملہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا جس میں انہوں نے فرمایا تھا ”کہ بھوپال میں غدار اور قادیانی نہیں” جن لوگوں کو پاکستان کو ایٹمی ملک بنانے میں ان کی جدوجہد اور ساتھیوں کے تعاون و قربانیوں اور ایثار کے واقعات ان کے کالموں میں پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے اس سے پورا پاکستان واقف ہے اور کسی کو علم نہیں تو بس ”جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے” والی بات ہو گی۔ یہ قوم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مقروض ہے ان سے جو سلوک روا رکھا گیا اس کا ان کو قوم سے گلہ نہ تھا قوم کی بھی ان سے والہانہ محبت تھی بس یہی ان کا سرمایہ تھا اور اسی سرمایے کے ساتھ وہ دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کو ایٹمی صلاحیت کا تحفہ دے کر رخصت ہو گئے قوم کے ہر فرد کو ان کے حق میں دعائے مغفرت اور ان کے درجات کی بلندی کے لئے شب و روز دست بدعا رہنا چاہئے ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسی محب وطن شخصیات اور افراد ہی اس ملک و قوم کا سرمایہ ہیں، قوم ان تمام شخصیات کی ممنون ہے جو ملک کو ایٹمی صلاحیت بنانے کی ابتداء سے اختتام تک ساتھ رہیں اور سو جتن کئے، اس طرح کی مخلص شخصیات ہی ملک و قوم کا سرمایہ ہیں اور ان کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہی حب الوطنی ہے ان تمام شخصیات کے لئے قوم دعا گو ہے جنہوں نے کسی نہ کسی سطح پر خلوص کے ساتھ ملک کی خدمت کی اور ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔