مولانا آزاد کے تیس صفحات

چند دن قبل اپنی پرانی کتابوں کو دھوپ لینے کے بعد ترتیب دینے لگا تو مولانا ابوالکلام آزاد کی معروف کتاب’ ‘انڈیا ونز فریڈم” کی ورق گردانی کرنے بیٹھ گیا۔مَیں نے اس اضافہ شدہ کتاب کا مطالعہ1998 میں کیا تھا۔جب اس کا پہلا ایڈیشن1959میں شائع ہوا تو دیباچہ میں یہ بتا دیا گیا کہ مولانا کی ہدایت کے مطابق اصل مسودہ سے30 صفحات حذف کیے گئے ہیں ۔ جوسر بہ مہر لفافوں میں بند کر کے نیشنل لائبریری کلکتہ اور نیشنل آرکائیوز دہلی میں رکھ دئیے ہیں۔ جنہیں تیس سال بعد کھول کے پوری کتاب شائع کی جائے گی۔اُس وقت یہ پڑھ کر لوگوں کوحیرانی بھی ہوئی اور تب سے یہ بے تابی رہی کہ مولانا نے ان تیس صفحات میں نہ جانے کیا لکھ دیا اور کون سے اہم راز نمایاں کردئیے کہ جن کی وہ تیس سال تک پردہ داری کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ مولانا نے کتاب کے پہلے ایڈیشن میں بھی اپنی عام روش سے ہٹ کر شخصیات اور واقعات کے بارے کھل کر باتیں لکھی تھیں ۔ جس سے پڑھنے والوں کو مزیدتجسس ہوا کہ ان حذف کردہ صفحات میں انہوں نے الگ سے نئی باتیں لکھی ہوں گی۔
جب مقررہ وقت کے بعد پوری کتاب شائع ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ صفحات الگ سے نہیں لکھے گئے بلکہ مکمل کتاب کی مربوط عبارت سے کچھ فقروں، جملوںاور کہیں پورے پیرا گراف کو حذف کر دیا گیا تھا۔ جنہیں اب دوسرے ایڈیشن میں اپنی اپنی جگہوں پر علامتی نشان لگا کر شائع کر دیا گیا۔ یہ دیکھ کر سب کو مایوسی ہوئی کہ ان صفحات میں ایسی کوئی نئی بات نہ تھی جو پہلے ہی پریس اور دیگر فورم پر بحث کا موضوع نہ بن چکی ہو۔
مولانا آزاد شخصی اور فروعی مباحث سے کنارہ کش رہنے والے بڑے بااصول اور ضابطے کے آدمی تھے۔ ملک کی آزادی کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔ وہ کبھی کسی فورم پہ زیادہ بحث و مباحثہ میں نہیں پڑتے تھے بلکہ ضرورت کے مطابق اپنی رائے کا اظہار کرتے۔ نہرو رپورٹ پر قومی رہنماؤں کی بحث سے بیزار ہو کر کہا تھا” مسلمان احمق تھے جو ہندوؤں کے سامنے اپنے مطالبات پیش کرنے گئے تھے اور ہندو احمق تر تھے جنہوں نے ان کے مطالبات تسلیم نہیں کر لیے”۔ اسی طرح انہوں نے بہت سے قومی رہنماؤں کی کمزوریوں اور قومی مسائل پراپنے خاص انداز میں تاثرات بیان کیے ہیں ،جن کا ذکر ان کی کتاب میں واضح اور براہ راست طور پر ہوا ہے۔ مولانا کا اپنا ایک مخصوص زاویہ نظر تھا اور وہ اس پر اتنی مستقل مزاجی سے قائم رہتے کہ دوسروں کی رائے کو وقعت ہی نہیں دیتے تھے۔ اگرچہ حب الوطنی اور قوم پرستی کے حوالہ سے وہ سیاسی رفیقوں کے فہم و تدبر اور خصوصاً فرقہ وارانہ معاملات میں ان کے رویہ سے مطمئن نہیں تھے لیکن مجبوری یہ تھی کہ ان کی نظر میں صرف گانگرس ہی وہ جماعت تھی جو متحدہ قومیت کی بنیاد پر پورے ملک کی آزادی کے لیے جدو جہد کر رہی تھی۔ اپنی کتاب میں انہوں نے مسلم لیگ کی بالکل ہی یک طرفہ تصویر پیش کی ہے لیکن یہ اقرار بھی کیا ہے کہ وہ لیگ کے تاسیسی اجلاس میں شریک تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کے حالات میں کانگریس اور مسلم لیگ کے رہنما جن جذباتی اور نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا ہوئے،اس کی وجہ سے واقعات اور معاملات کو اصلی روپ میں دیکھنا ان کے بس کی بات نہیں رہی تھی۔ خود مولانا کو بھی اس سے بری قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن ان کے قلم نے یہ لکھنے میں کوتاہی نہیں کی کہ مُلکی تقسیم کی جوابدہی خود ان کے کانگریسی رفیقوں پر ہے ، مسلم لیگ اور جناح پر نہیں۔ مولانا نے اس سچائی کا اظہار اس وقت کیا جب ان کے کانگریسی رفقاء اقتدار پر قابض ہو کر سرکاری پراپیگنڈہ کے ذریعہ دُنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو چکے تھے کہ ملک کی تقسیم محض جناح کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ انہوں نے اس سچائی کی اشاعت کو کتاب کے پہلے ایڈیشن یعنی پنڈت نہرو کی زندگی میں مناسب سمجھی اور اسے روکے رکھنے میں کوئی مصلحت نہیں دیکھی۔ ملک کی تقسیم کے بارے جو یہ غلط فہمی پھیلا دی گئی تھی کہ اس میں سراسر قصور مسلم لیگ یا مسلمانوں کا ہے تو اس کا پردہ چاک کرنے کی شروعات اسی کتاب سے ہوئی۔ گرچہ اس کتاب کی اشاعت کے بعد مولانا کے خلاف بہتان بازی کا ایک طوفان کھڑا کر دیا گیا تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مولانا آزاد ملک کی تقسیم کا اصل ذمہ دار اپنے عزیز دوست پنڈت جواہر نہرو کو سمجھتے تھے۔ ١٩٣٧ کے صوبائی انتخابات کے بعد جب یوپی کی وزارت میں مسلم لیگ کی شمولیت کا مرحلہ آیا تو پنڈت نہرو نے مولانا کی اس رائے سے اختلاف کیا کہ مسلم لیگ کے دو نمائندوں کو وزارت میں شامل کیا جائے۔ اس سلسلہ میں مولانا لکھتے ہیں ” لیگ کی طرف سے تعاون کی پیشکش کو ٹھکرا کر جواہر لال نے یو پی میں لیگ کو نئی زندگی بخش دی۔ہندوستانی سیاست کا جس نے بھی مطالعہ کیا ہے ،وہ جانتا ہے کہ لیگ کی دوبارہ تنظیم یو پی میں کی گئی ۔ مسٹر جناح نے صورتحال سے پورا فائدہ اُٹھایا ، جس کا آخری نتیجہ پاکستان کا قیام تھا ۔”مولانا نے” انڈیا ونز فریڈم ” میں آزادی کی تاریخ کے دیگر اہم واقعات پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے ۔ قارئین کرام ! اس حوالہ سے مولانا کی عالمانہ رائے کو کسی دوسرے کالم میں پیش کروں گا۔