کچھ وقت نکالئے اور غور کیجئے

سازشی تھیوریوں ‘ افواہوں ‘ کفر وشرک کے فتوئوں کے ساتھ تہمت پرستی کے جنون سے رزق پاتے سماج کا ”اصل” کیا ہے ؟کچھ بھی نہیں خود پسندی اور یہ زعم کہ ہمارے سوا سب”ابتر” ہیں ایک ہم ہی ہیں جو کرہ ارض پر بستے لوگوں کو نجات کا راستہ دکھا سمجھا سکتے ہیں جس سوال کو ہم عموماً نظر انداز کردیتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم عصری شعور کے ساتھ ان امراض کا علاج کیوں تلاش نہیں کرتے جو اب سرطان کی صورت اختیار کر چکے ؟۔ فقیر راحموں کا خیال ہے کہ کچھ زیادہ جی لئے ہیں ہم اس (موجودہ) ماہ و سال کے لوگ ہی نہیں ۔ ایک تو یہ فقیر راحموں جان کا عذاب بنا ہوا ہے ۔ روزانہ کوئی نہ کوئی ایسی بات کر دیتا ہے کہ سارا دن کھولتے ہوئے گزرتا ہے اور پھر شب آنکھوں میں کٹتی ہے ۔ خیر چھوڑیئے اسے ہم اپنی باتیں کرتے ہیں۔ ہم پوچھیں تو کبھی کبھی بہت مایوسی ہوتی ہے ۔ ان دنوں اس کی تعداد کچھ زیادہ ہے وجہ سوشل میڈیا ہے ۔ میں اسے اپنی فہم کے مطابق بات کرنے ‘ دوستوں سے مکالمے اور کرہ ارض کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال سے آگاہی کے لئے استعمال کرتا ہوں۔ سوشل میڈیا پر کل مکالمے کی بجائے ملاکھڑے بلکہ گالم گلوچ کے شائقین دندناتے پھر رہے ہیں ۔ آپ کسی دن مخالف فہم کی کسی خاتون کے فیس بک یا ٹیوٹر اکائونٹ پر جا کر دیکھیں۔ زیادہ تر بدزبانی جعلی اکائونٹس سے ہوتی ہے اصل کردار بھی ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر ہیں بنی گالوی محبت کے اسیروں نے 1980ء اور 1990ء کے نون لیگیوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ ان دنوں حب الوطنی کی معراج یہ ہے کہ آپ جتنی بھاری بھر کم گالی دیں گے اتنے عظیم محب وطن پاکستانی ہیں۔ بات بات پر آپ کو یہ سننے کو ملے گا ”دفع ہو جائو اس ملک سے” ارے بھیا کیوں دفع ہو جائیں۔ یہ تو 22 کروڑ لوگوں کا ملک ہے ۔ کسی لشکر نے فتح کرکے حد بندی کی نہ کسی خاص خاندان کی عزت مآب خاتون جہیز میں لائیں۔ دو عشرے ہونے کو آئے اس بات کو جب ایک دن ہم نے استاد مکرم سید عالی رضوی کی خدمت میں سوال رکھا” سماجی ارتقا سے محرومی کا عذاب کب ختم ہوگا”’شفقت سے انہوں نے دیکھا او پھر کہنے لگے ‘ صاحبزادے جو سماج تاریخ کا تجزیہ کرنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو بلکہ تاریخ کو بھی ایمان کی دولت کی طرح سینے سے لگائے جی رہا ہو وہاں ارتقاء کو نہیں زوال کو نعمت سمجھا جاتا ہے ۔ استاد مکرم فرمانے لگے۔ صاحبزادے وہ حضرت امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ارشاد ہے ” اپنی اولاد کی ان کے زمانے کے مطابق تربیت کرو اپنے زمانے کے مطابق نہیں” اسے رہنما اصول کا درجہ دینا ہو گا ۔
ہمیں شعوری طور پر اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہئے کہ ہم نے اپنی نئی نسل کی اس طور تربیت نہیں کی جس کی ضرورت تھی اندھی محبت ‘اندھی نفرت ‘ بدترین شخصی اطاعت کا طوق ‘ اس کے علاوہ کیا دے پائے ۔ آپ اگر بیس تیس سال پیچھے جائیں تو کہیں کہیں شجر سایہ دار مل جاتے تھے ۔ صاحبان علم سے ملاقات ہوجاتی تھی رہنمائی لیتے ۔ اب جو لوگ صاحبان علم سمجھے یا پیش کئے جا رہے ہیں ان کی اکثریت مناظرے بازوں کی ہے میں درست تم غلط بلکہ تمہارا وجود ہی بوجھ ہے ۔ اس سوچ سے کب نجات ملے گی کب ہم ایک دوسرے سے عمل کے ساتھ بات کر پائیں گے؟ فی الوقت اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں ذوالفقار علی بھٹو اور فوجی آمر جنرل ضیاء الحق دونوں شہید کا درجہ رکھتے ہوں۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان مرحوم اور دبئی میں مقیم سابق صدر جنرل پرویز مشرف دونوں محب وطن ہوں اس معاشرے میں ایک دوسرے کوبس سوا تین توپوں کی سلامی دیتے رہیں۔ معاف کیجئے گا بات کہاں سے شروع ہوئی او رکس سمت نکل لی۔ عرض یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ ہمارے آپ کے چار سو جو ہو رہا ہے لکھا بولا جارہا ہے اس میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔کبھی کبھی ایسا لگتا ہے اس سماج میں عورت کو گالی دینا واجبات کاحصہ ہے ۔ حیرانی ہوتی ہے کہ ہم کس سمت تیزی سے دوڑ رہے ہیں جو توقیر اور مرتبہ ہم اپنی خواتین کے لئے چاہتے ہیں وہ دوسروں کی خواتین کو دینے کے لئے تیار نہیں بالخصوص اگر خاتون کا تعلق ہماری سیاسی فہم کے مخالف دھڑے سے ہو تو پھر ہم زبان کو نشتر بنائے ایسے ایسے گھائو لگاتے ہیں کہ کچھ نہ پوچھیں۔ سیاسی جماعتوں کا بھی فرض ہے کہ اپنے کارکنوں کی تربیت کریں۔ ایک بات ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر سمجھ لینی چاہئے کہ اخلاقی و سماجی انداز سے محروم معاشرے تاریخ کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں کوئی انہیں یاد تک نہیں کرتا ۔ بطور خاص معذرت کے کالم کچھ کچھ کیا کچھ زیادہ ہی بوجھل باتوں سے یہاں تک آن پہنچا مگر کیا کیجئے اپنے چار اور کے حالات و واقعات اور دیگر امور سے کٹ کر جیا جا سکتا ہے نا ہی یہ ممکن ہے کہ کان اور آنکھیں بند کر لی جائیں۔ ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی عادت اپنانا ہو گی خواتین چاہے وہ دشمن کے خاندان کی کیوں نہ ہوں ان کا احترام واجب سمجھنا ہو گا۔ ملاکھڑوں سے گریز کرکے مکالمے کو رواج دینا ہوگا۔ یہ بات بات پر کفر وغداری کے فتوے اچھالنے کی بیماری کا ڈھنگ کے معالج سے علاج کروانا چاہئے ۔ یہ ملک ہم سب کا ہے سب سے مراد بائیس کروڑ لوگ ہیں لشکر منڈیوں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی یہ تو یا ڈان کے ایک سپرے کی مار نہیں۔ ہم برداشت کریں گے تو برداشت کئے جائیں گے ۔ اپنے اپنے لیڈروں سے محبت کیجئے لیکن یہ محبت ایمانی ہر گز نہیں نا ہی دوسری جماعتوں کے لیڈر اور کارکن غدار ہیں ۔ بہت کھیل لیا غدار غدار کہنے کا کھیل نتیجہ کیا نکلا؟۔ کسی دن ٹھنڈے دل سے غو کرنے کی زحمت ضرور کیجئے ۔ ایک بات اور عرض کر دوں سیاسی نظریہ ہو یا مذہبی عقیدے یہ عمل کرنے کے لئے ہوتے ہیں آپ اپنے عمل سے دوسروں کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں لیکن اگر آپ اسے تلوار بنا لیں گے کہ تو کمزور آدمی لاٹھی تو سنبھالے گا ہی پھر فساد بڑے گا۔ فسادوں سے بچنے کی ضرورت ہے ۔ آخری بات یہی ہے کہ بد زبانوں کی خصوصاً خواتین کے معاملے میں بدزبانیوں کی حوصلہ شکنی کیجئے ورنہ یہ آگ کل آپ کے دامن کو لگے گی آپ کے گھر تک پہنچے گی۔