سومناتھ اور محمود غزنوی افسانہ یا حقیقت ؟

حال ہی میں سوشل میڈیا پر افغان طالبان رہنما انس حقانی نے کچھ تصاویر شیئر کیں جس میں وہ دسویں اور گیارہویں صدی کے حکمران سلطان محمود غزنوی کے مزار پر حاضری دے رہے تھے۔ ان کی ٹویٹ بھارت میں آگ کی طرح اس لئے نہیں پھیلی کہ انہوں نے محمود غزنوی کے مزار پر حاضری دی بلکہ اس ٹویٹ پر بھارتیوں کے آگ بگولہ ہونے کی وجہ یہ تھی انہوں نے ٹویٹ میں یہ بھی ساتھ میں لکھا کہ محمود نے ہندومت مذہب کے بتوں کو توڑ کر ان کے مندروں کو مسمار کیا۔ ان کی اس پوسٹ پر بھارتی ہندو انتہا پسند رہنما صحافی اور سوشل میڈیا میں تو گویا کہرام مچ گیا۔ یہاں تک کہ راجدیپ سردیساء جیسے آزاد خیال صحافی نے بھی انس حقانی پر تنقید کے تیر برسائے اور محمود غزنوی کو ظالم اور مندروں کو مسمار کرنے والا حکمران قرار دیا۔ تو کیا سلطان محمود غزنوی واقعی ظالم حکمران تھے ؟ اور کیا انہوں نے سومناتھ کا مندر واقعی میں مسمار کیا تھا یا پھر یہ ایک افسانوی قصہ ہے ؟سلطان محمود غزنوی سے متعلق بائیں بازو کے گروپس یہ رائے پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے سومناتھ کے مندر کو ہندئوں اور بت پرستی سے نفرت کی وجہ سے مسمار کیا تھا جبکہ بائیں بازوں کے گروپس بھی اس پر فخر محسوس کرتے ہوئے اسے اپنا ایک ہیرو تصور کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں اس واقعے کو نا صرف دونوں جانب سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے بلکہ بہت سے حقائق کو نظر انداز بھی کیا جاتا ہے۔ خود بھارتی مصنفہ رومیلہ تھاپڑ اپنی کتاب(سومناتھ تاریخ کی کئی آوازیں)میں لکھتی ہیں کہ جو دروازے انیسویں صدی میں انگریزوں نے ہندوئوں کے کہنے پر غزنوی کے مقبرے سے اکھاڑ کر آگرہ کے قلعے میں یہ کہہ کر محفوظ کروائے تھے کہ وہ سومناتھ مندر سے چرائے گئے تھے دراصل وہ دروازے صندل کی لکڑی کے تھے ہی نہیں بلکہ وہ دیودار کی لکڑی سے بنائے گئے تھے جو افغانستان میں پائی جاتی ہے جبکہ ان دروازوں پر دیوناگری کے بجائے عربی رسم الخط میں تحریر نقش تھی۔ رومیلہ کے مطابق ممکن ہے کہ یہ کہانی انگریزوں کی جانب سے ہندوں اور مسلمانوں میں نفرت پھیلانے کے لئے گھڑی گئی تھی کیونکہ اس دور میں ایسٹ انڈیا کمپنی سرتوڑ کوششوں میں تھی کہ کسی نا کسی طرح سے ہندوستان کا مکمل کنٹرول حاصل کیا جائے اور اس کے لئے وہ”ڈیوائڈ اینڈ رول”کی حکمت عملی اپنائے ہوئے تھے۔ رومیلہ کی بات میں اس لئے بھی وزن زیادہ ہے کیونکہ اگر محمود غزنوی واقعی مندروں سے نفرت کرتے تو وہ صرف سومناتھ کے مندر کو ہی نشانہ نہیں بناتے بلکہ پورے ہندوستان میں یہی رویہ اختیار کرتے۔ ایک اور مثال اس کی یہ بھی ہے کہ اگر محمود غزنوی ہندوئوں سے نفرت کرتے یا پھر مندروں کو توڑتے تو سب سے پہلے افغانستان میں ہی بامیان میں واقع بدھا کے دیوقامت مجسمے کو مسمار کرتے جو اس نے اپنی حکمرانی میں کبھی نہیں کیا اور نا ہی ان کے بعد آنے والے حکمرانوں نے اسے ہاتھ لگایا۔ اس کے علاوہ پنجاب کی تاریخ پر لکھی جانے والی مشہور کتاب تاریخ پنجاب میں مصنف سید محمد لطیف لکھتے ہیں کہ محمود غزنوی کی اپنی فوج میں ہی ہزاروں کی تعداد میں ہندو سپاہی موجود تھے۔ اگر اس نے سومناتھ مندر پر حملہ عقیدے کی بنیاد پر کیا ہوتا تو اس کے اپنے ہندو سپاہی اس کا ساتھ نا دیتے بلکہ بغاوت کردیتے۔ محمود نے لوٹ مار صرف ہندو ریاستوں تک ہی محدود نہیں رکھی بلکہ بخارا اور سمرقند کی مسلمان ریاستوں کے ساتھ بھی وہی رویہ جاری رکھا جو اس نے راجا جے پال اور اس کے بیٹے انند پال کے ساتھ رکھا۔ غیر جانبدار طریقے سے اگر اس کا تجزیہ کیا جائے تو واضح دکھائی دیتا ہے کہ سومناتھ مندر پر غزنوی کا حملہ اس میں چھپے مال و دولت تک رسائی کی بنیاد پر تھا ناکہ بت پرستی سے نفرت کے باعث کیونکہ سومناتھ کا مجسمہ ہیرے اور جواہرات سے بھرا ہوا تھا جسے مسمار کرنے کے بعد اس میں چھپائے گئے سونے اور جواہرات بھی محمود اپنے ساتھ غزنی واپس لے گیا۔
جس طرح سے بھارت کی ہندو انتہا پسند تنظیمیں اور طالبان دونوں ہی حقائق کو مسخ کرکے محمود غزنوی کو مسیحا اور منفی کردار بناکر پیش کر رہے ہیں ان کا مقصد ممکن ہے کہ اپنے سیاسی بیس کو مقامی سطح پر مضبوط کرنا ہے۔ اسی طرح بھارتی ریاست اتر پردیش میں ریاستی انتخابات سر پر ہے جبکہ بی جے پی اور دیگر ہندو انتہا پسند جماعتوں کو اپنے انتخابی مہم کے لئے نئے مسلمان مخالف نعرے درکار ہیں۔ ایسے میں طالبان کا سومناتھ مندر کے خلاف بیان دینا بی جے پی کے لئے کسی انعامی لاٹری سے کم نہیں تھا۔ لہذا طالبان اور بی جے پی نے انجانے میں ہی ایک دوسرے کی مدد کردی ہے۔ چنانچہ سیاسی مقاصد پورے ہو نا ہو مگر یہ تو حتمی ہے کہ اس نفرت انگیز سیاست کا نقصان بھارت کی مسلمان اقلیتوں کو اٹھانا پڑے گا جو پہلے ہی سیاسی و سماجی طور پر بھارت میں اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لئے سخت جدوجہد کررہے ہیں۔