مشرقیات

سب کے ہاتھ میں موبائل ہیں اور انہیں چارج کرنے کیلئے بجلی کی ضرورت ہوتی ہے،وہ جو نوجوان تھے حکومت مخالف ہر گیند کو بائونڈری پاربھیجنے والے، اب ہر گیند کو دفاعی انداز میںکھیلنے پر مجبو رہوگئے ہیں اکثر تو دفاع اتنا بے دلی سے کرتے ہیں کہ اب تب میں آئوٹ ہو کر میدان سے باہر بیٹھنے کی تیاری میں ہیں گویا۔دراصل انہیں سرکار سوشل میڈیا پر ڈال کر یہ بھول گئی تھی کہ بجلی بند ہو تو انہیں موبائل چارجنگ کا مسلہ درپیش ہوگا۔بڑے بوڑھے تو پھر بھی بجلی نہ ہونے سے کسی نہ کسی بیماری کے باعث سو جاتے ہیں،وہ جو بال بچوں والے ہوتے ہیں انہیں سو کام ہوتے ہیں اس لئے موبائل بدست رات دیر گئے تک جاگنے کی انہیں ضرورت نہیں ہوتی۔رہ گئے نوجوان تو ان کا ایک ہی مشغلہ رہ گیا ہے موبائل اور بس پھر دنیا وما فیہا سے بے خبر۔ان کے موبائل کی سکرین روشن رہنی چاہئے باقی انہیں مہنگائی کی پروا ہے نہ ہی اپنی بے روزگاری کی فکر،حکومت کے ہر الٹے سیدھے کام کا دفاع وہ اسی موبائل سے کرتے ہیںبجلی بند ہو وہ بھی گھنٹوں تک تو اپنے محبوب کے اس اندازبے وفائی کا انہیں بڑا قلق ہوتا ہے۔تو جناب!اپنے دفاعی کھلاڑیوں کے لئے موبائل کی سکرین بجھنے مت دیں ورنہ بہت سے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں۔
اب گیس کی بھی سن لیں۔تبدیلی والی سرکار کے ووٹوں کے بکسوںمیں خواتین کا بھی ایک بڑا حصہ تھا۔یہ خواتین آج کل گیس کی لوڈشیڈنگ کا ماتم کر رہی ہیں،صبح سویرے انہیں مجازی خدا ،خدا کا نام لینے کے بعد کھری کھری سناتے ہیں۔ان خواتین کو سمجھ نہیں آتی جواب میں وہ کسے صلوٰاتیں سنائیں۔حکومت پر تو ووٹ دینے کے بعد ان کا بس نہیں چل رہا۔بچوں کو بھوکا اسکول بھیجنا بڑے دل گردے کا کام ہے حکومت کا ہی اتنا حوصلہ ہے ورنہ ماں باپ دن بھر ان کی بھوک کا خیال کرکے پریشان رہتے ہیں۔سنا تو ہے ریاست بھی ماں جیسی ہوتی ہے پھر یہ ماں بچوں کو کیوں بھوکا پیاسا رکھتی ہے ،خاتون خانہ کی طرح اسے کون سی بے بسی نے آگھیر اہے ؟تین سال ہوگئے سرکار ،سارے کا م ”اپھٹے ” (الٹے )ہوگئے ہیں ،وہ جو شاعر نے کہا ہے ”لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو”تو ایسا لگتا ہے کہ ہم نے الٹا سفر کرتے ہوئے چالیس کے عشرے کے رہن سہن اختیار کرنے ہیں،بجلی کی جگہ مٹی کا دیامگر اس میں بھی جلانے کے لئے تیل کی ضرورت تو بہرحال پڑے گی۔گیس کی جگہ مٹی کا چولہا جس کے لئے لکڑیاں لوگ چننے لگے تو چند دن میں ٰبلین ٹری سونامی منصوبہ ہی نہیں پہلے سے موجود تھوڑے بہت درختوں نے راکھ ہو جاناہے۔تو جناب نئے پاکستان کے سفر پر نکلنے کے لئے اتنا دور مت جائیں یہیں سے آگے بڑھیں۔
|