خطے کے حالات بارے وزیر اعظم کے خیالات

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا کو ہر صورت افغان حکومت سے بات کرنا چاہیے۔امریکا کا ساتھ دینے پر سرحدی علاقوں میں پشتون ہمارے خلاف ہوئے، انہوں نے ریاست پر حملے شروع کئے اور خود کو پاکستانی طالبان قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ داعش سے چھٹکارا پانے کے لئے طالبان واحد اور بہترین آپشن ہیں۔ افغانستان میں امن اور استحکام خطے کے لئے ناگزیر ہے۔افغانستان اور داعش بارے وزیر اعظم عمران خان کے خیالات سے قطع نظر انہوں نے جس غیر محتاط انداز میں پشتونوں کے حوالے سے بات کی ہے اگر یہ صرف ایک جملہ ہوتا تو زبان پھسل جانے اور سہو کی گنجائش تھی لیکن انہوں نے اس کا اعادہ کرکے سوچے سمجھے کہا ہوئے ہونے کا عملی تاثر دیا جس پر دل آزاری اور احتجاج فطری امر ہے توقع کی جانی چاہئے کہ وزیر اعظم اس حوالے سے جلد وضاحت کرکے پشتون براردی کو مطمئن کریں گے۔ امر واقع یہ ہے کہ جس خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی گئی وہ پشتونوں کا علاقہ ضرور ہے لیکن کیا دنیا بھر سے آئے ہوئے افراد کی گرفتاری اور مارے جانے کی سرکاری ا طلاعات اور دعوے فسانے تھے اگر ایسا نہیں تو پھر اس سارے عمل کو پشتونوں سے جوڑنے کا کیا جواز ہے پشتون قبائل نے کشمیر کی آزادی کی جنگ سے لیکر مجاہدین قرار پا کر روسی استعمار کے خلاف مزاحمت کی اور امریکاکے حملے کا جب دفاع کرنے لگے تو دہشت گرد قرار پائے قبائلی علاقہ جات میں بھی عوام اس وقت کھڑے ہوئے جب ڈرون حملے ہونے لگے اور بے گناہ افراد مارے جانے لگے ایسے ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ کے مصداق بھارت اور دیگرغیر ملکی ایجنسیوں کی جال میں مقامی آبادی کے کچھ عناصر ضرور آئے جن کے خلاف پاک فوج نے بھر پور کارروائی کرکے بالآخر ان کو تتر بتر کر دیا وہ عناصر کسی طور بھی پشتونوں کے نمائندے نہیں تھے اور نہ ہی پشتونوں کی اکثریت ان کی حامی رہی بہتر ہوگا کہ وزیر اعظم اپنے الفاظ سے رجوع کریں معلوم نہیں پختون قبائل کے گن گانے اور پشتونوں کے ووٹ سے اقتدار میں آنے والی حکومت میں نوبت ان کو دہشت گرد قرار دینے تک کیوں اور کیسے آئی کہیں یہ اس خطے کے لئے کسی نئی مصیبت کا پیش خیمہ نہ بنے ۔جہاں تک وزیر اعظم عمران خان کے اس بات کو دہرانے کا سوال ہے کہ دنیا کو طالبان کے ساتھ روابط پیدا کرنے چاہئیں بصورت دیگر طالبان کے اندر شدت پسند ذہن 20برس پہلے والی پوزیشن پر جا سکتے ہیںیہ بروقت انتباہ ہے۔ ہم جس افغانستان کی بات کر رہے ہیں عالمی دہشتگردی کے خطرات کے حوالے سے یہ ماضی سے بظاہر مختلف نظر آتا ہے۔ افغانستان میں داعش کا وجود اور اس عالمی دہشتگرد گروہ کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں علاقائی اور عالمی ممالک سبھی کے لئے یکساں پریشانی کا موجب ہیں۔ ہو سکتا ہے امریکہ یا اس کے مغربی اتحادی ابھی اس خطرے کو نظر انداز کر رہے ہوں جیسا کہ وہ عراق اور شام میں کرتے رہے ہیں مگر اس کے نتائج علاقائی ممالک کے لئے بلاشبہ تشویش کا سبب ہیں اور اس جانب سے غافل نہیں رہا جا سکتا۔افغانستان میں پلنے والے اس عالمی دہشتگردی کے خطرے کے تدارک کا یہی موقع ہے اور یہ اسی صورت ہو سکتا ہے اگر افغانستان میں ایک پائیدار اور مستحکم حکومت قائم ہو؛ چنانچہ دنیا کے پاس اس وقت بہترین آپشن یہی ہے کہ طالبان کے ساتھ معاملات کو بہتر انداز سے چلانے کے لئے تلخ یادداشتوں سے نکلے اور درپیش حالات کا ادراک کرنے کی کوشش کرے افغانستان اس وقت اسی خطرے سے دوچار ہے۔ وہ عالمی دہشتگرد گروہ جو کچھ عرصہ پہلے تک زیر زمین دبا ایک بیج تھا اب نمود کے مراحل میں ہے۔ دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس کا احساس دلاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان نے جو وعدے کئے تھے وہ ابھی تک پورے نہیں ہوئے اور انہیں اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے پھر بھی افغان عوام کی ضروریات سے پہلوتہی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ علاقائی ممالک بھی افغانستان کے علاقائی حل کے لئے جو خواب بن رہے تھے وہ بھی کوئی نتیجہ نہیں دکھا سکے۔ اس صورتحال میں جو خطرہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے وہ نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ افغان عوام کے لئے علاقائی ممالک کے لئے اور دنیا کے لئے یہی بہتر ہے۔ خطے میں حالات کو معمول پر لانے کے لئے جہاں عالمی برادری کا کردار اہم ہے وہاں طالبان حکومت کو بھی دنیا داری کے تقاضوں کو سمجھنا اور نبھانا ہو گا جس کے بعد ہی مل کر اس عفریت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے گو کہ طالبان داعش کو بڑا خطرہ نہیں سمجھتے اور وہ اس پر آسانی سے قابو پانے کے لئے پرعزم ہیں لیکن اس عفریت کا کھوج لگانا اور اس کی بیخ کنی چنداں آسان نہیں اس ضمن میں ٹیکنالوجی اور درکار مہارت کے لئے دنیا سے تعاون کے حصول کی بہرحال ضرورت ہو گی۔