استاد’ ہر دور میں انمول

ہر سال ٹیچرڈے یا سلام ٹیچر ڈے منا یا جاتا ہے۔ یہ ایک بہترین روایت ہے ۔ استادکی عظمت میں شک وشبے کی گنجائش نہیں ہے۔ ٹیچر کو ہدیہ سلا م پورا سال بھی پیش کیا جائے پھر بھی کم ہے۔ بقول اقبال ۔
یہ نغمہ فصل گل ولالہ کا نہیں پابند
بہا رہو کہ خزاں لااِلااِلا اللہ
استاد سکول کا ہو یا یونیورسٹی کا ،مکتب کا ہو یا مسجد کا شاعری کا ہو یاکسی دوسرے فن کا بس استاد استاد ہوتاہے۔کوئی بھی شخص استادکی راہنمائی کے بغیر ترقی کی منزل طے نہیں کر سکتا۔
دیکھانہ کوہکن کوئی استاد کے بغیر
آتانہیں ہے فن کو ئی استاد کے بغیر
کسی زمانے میں اساتذہ کرام معاشرے کی قیادت کیا کرتے تھے اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا کرتے تھے ۔
رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
شمس التبریز جلال الدین رومی کا روحانی استاد تھا جسں نے مولوی سے اسے مولانا جلال الدین رومی بنا دیا۔جبکہ افلاطون ثانی خان اعظم خان خوشحال خان خٹک کو اپنے دو اساتذہ حضرت اویس صدیقی ملتانی اور مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی نے صاحب سیف وقلم شاعر بنادیا خوشحال خٹک کہتے ہیں ۔
دادستور دے یو دبلہ زدہ کوی
چہ شاگرد نہ شی استاد نہ شی سڑے
یعنی طریقہ یہ ہے کہ ایک دوسرے سے سیکھتا ہے۔ جب تک کوئی شاگرد نہ بنے اس وقت تک کوئی استاد نہیں بن سکتا۔ گویا دنیا میں سب اہل کمال اور اہل فن اساتذہ کے شاگرد رہے ہیں۔ خوشحال خان خٹک نے ایک نظم میں اپنے استاد سے ستائیس سوالات کیے تھے۔ یہاں ان سوالات و جوابات کے بیان کرنے کی تک تو نہیں بنتی ہے۔ استاد اپنے شاگردوں کو کامیاب زندگی گزارنے کے گر بتاتا ہے اور اپنے شاگردوں کی دنیاوی اور اخروی زندگی سنوارتا ہے۔
عظیم لوگ اپنے اساتذہ کا احترام کرتے ہیں۔شاعری میں اقبال داغ دہلوی کے شاگرد تھے۔ان کی وفات پر علامہ نے ایک درد انگیز نظم لکھی ایک شعر ملاحظہ ہو۔
وہ گلِ رنگین تیرا رخصت مثالِ بو ہوا
آہ خالی داغ سے کاشانہ اردو ہوا
چل بسا داغ میت اس کی زیب دوش ہے
آخری شاعر جہان آباد کا خاموش ہے
استاد کا احترام ہر مہذب معاشرے میں کیا جاتا ہے اِسلامی تہذیب کی ترقی میں مرکزی کردار اساتذہ نے ادا کیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک عام آدمی سے ایک فقہی مسئلہ سیکھا اب بھی ایک استاد کے طور پر اسکا احترام کرتاہوں۔امام شافعی لکھتے ہیں کہ جب اپنے استاد امام مالک کے سامنے کتاب کی ورق گردانی کرتا تھا۔ تو استاد کے رعب اور احترام کی وجہ سے میں اہستہ اہستہ ورق گردانی کر تاتھا۔ اِسلام نے استاد کو بلند مقام اسلئے دیا ہے کہ استاد انسانیت کے لئے مسیحا کاکردار ادا کرتا ہے۔ جاپان میں پولیس کو استاد کی گرفتاری کا حق حاصل نہیں ۔امریکہ میں استاد کو وی آئی پی کا درجہ حاصل ہے۔ طالب علم کو آدب سکھانے کے لئے جسمانی سزا کی روایت ہر زمانہ میں رہی ہے۔ مرزا غالب کہتے ہیں۔
اہل دانش کو ہے طوفان حوادث مکتب
لطم موج کم ازسیلء استاد نہیں
چین کا عظیم لیڈر ماوزے تنگ پرائمری سکول کے استاد تھے۔ایک وقت تھا کہ ہمارے معاشرے میں استاد کا مقام بہت بلند تھا۔ ہر معاشرے میں استاد سے رہنمائی لی جاتی تھی استاد اور شاگرد کے درمیان محبت واحترام کا رشتہ موجود تھا۔جس کے نتیجے میں ہماری درسگا ہوں سے بڑے بڑے لوگ نکلتے تھے ۔پھر جب مادیت پرستی کی منحوس لہر چلی تو معاشرے کی اخلاقی قدریں ٹوٹ پھوٹ کی شکارہوئیں۔ یہاں تک کہ علامہ اقبال کو کہنا پڑا۔
تھے وہ بھی دن کہ خدمت استاد کے عوض
دل چاہتا تھا ہے یہ دل پیش کیجئے
بدلا زمانہ ایسا کہ لڑکا پس از سبق
کہتا ہے ماسٹر سے کہ بل پیش کیجئے
کسی زمانے میں ہماری تعلیمی درسگا ہوں کے دروازوں پر یہ شعر درج ہوتا تھا۔
ایک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں
قسمت نوع بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں
جسں طرح پیغمبروں کے درجے ہیں اور اولیااللہ کے درجے ہیں اِس طرح استاد کے بھی درجے ہیں۔ کوئی ادنی درجے کااستاد ہوتا ہے، کوئی اوسط درجے کا اور کوئی اعلی درجے کا اور بعض ایسے استادبھی ہوتے ہیں جو استاد وں کے استاد ہوتے ہیں بقول شاعر
شاگرد ہیں ہم میر سے استاد کے راسخ
استادوں کا استاد تھا استاد ہمارا
میر تقی میر اردو کے تمام شعرا کے استاد تھے۔ غالب کہتے ہیں ۔
ریختہ کے تم استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
استاد جسں درجے کا بھی ہو وہ قابل صداحترام ہے
دوستو ملے کبھی تو یہ پیام کہنا
استاد محترم کو میرا سلام کہنا
استاد کی عظمت کو ترازومیں نہ تولو
استادتو ہر دور میں انمول رہا ہے۔