ریل کی سیٹی بجی اور دل لہو سے بھر گیا

بات تو درست ہے ‘ وزیر صحت کسی ہسپتال کی چوکیدار تو نہیں ہو کہ لاٹھی لیکر ہسپتال کے گیٹ کے باہر ہانک لگاتی پھرے ”جاگتے رہو” بلکہ یہاں تو معاملہ ہسپتال کے آپریشن تھیٹر کا ہے جہاں ہسپتال کا سویپر لاشوں کی پوسٹ مارٹم کے فرائض سے سبکدوش ہونے میں ملوث پایا گیا خبریں سامنے آنے پر سندھ کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذا پیچوہونے ان خبروں کو سرے سے ہی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کی انکوائری کرائوں گی ‘ سویپر کے پاس ثبوت ہے تو پیش کرے ‘ بصورت دیگر اس کی نوکری بھی جا سکتی ہے ‘ یہ واقعہ سکھر کے سول ہسپتال میں ہوا ‘ اپنے محولہ دورے کے موقع پر ڈاکٹر عذرا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں ہر ہسپتال کی چوکیداری نہیں کر سکتی کہ کہاں ڈاکٹرز آتے ہیں کہاں نہیں آتے ‘ میڈیا اور عوام ان باتوں کی نشاندہی کریں ‘ ایکشن لینا میرا کام ہے ‘ گویا موصوفہ فرما رہی ہیں کہ
راہ مضمون تازہ بند نہیں
تاقیامت کھلا ہے باب سخن
ساتھ ہی انہوں نے میڈیا اور عوام کو آزادی دی ہے کہ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ‘ مگر اس سے پہلے کہ ڈاکٹر عذرا پیچوہو صاحبہ کے ارشادات عالیہ کے تضادات کو واضح کیا جائے یعنی ایک ہی سانس میں انہوں نے جس طرح متضاد باتیں فرمائی ہیں ‘ لگ بھگ اسی نوعیت کے کچھ واقعات کی یاد دلا دی جائے جن میںسے بعض ہمارے ہمسایہ بھارت کے اور بعض خود ہمارے ہاں وقوع پذیر ہوئے’ تقسیم ہند کے چند سال بعد بھارت میں ریلوے کا ایک حادثہ رونما ہوا تو اس وقت کے وزیر ریلوے نے حادثے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزارت سے استعفیٰ دے دیا ‘ حالانکہ حادثہ ریلوے کا کانٹا تبدیل کرنے میں غفلت کا نتیجہ تھا اور اس وقت کے بھارتی وزیر ریلوے نے کانٹا بدلنے میں خود کوئی کردار ادا نہیں کیا تھا نہ اس نے یہ بیان دیا کہ میں ہر پھاٹک اور دیگر مقامات پر کانٹا تبدیل کرنے کا فرض ادا نہیں کر سکتا ‘ نہ ہی ان سے کسی نے اس حادثے پر مستعفی ہوئے کا مطالبہ کیا تھا لیکن موصوف نے اسے اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ایک مثال قائم کی تھی ‘ بہت مدت بعد ویسا ہی حادثہ پاکستان میں ہوا اور میڈیا نمائندوں نے پاکستانی وزیر ریلوے کی بھارتی وزیر کے اقدام کی جانب توجہ دلاتے ہوئے حادثے کی ذمہ داری کے حوالے سے سوال کیا تو پاکستانی وزیر نے کہا ‘ میں کوئی کانٹا بدلنے والا ‘ یا پھر انجن ڈرائیور تو نہیں ہوں کہ استعفیٰ دیدوں ‘ یعنی بقول منیر نیازی
صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر
ریل کی سیٹی بجی ا ور دل لہو سے بھر گیا
یوں جو مثال پاکستانی سیاستدانوں (وزیر ریلوے) نے قائم کی بعد میں اس پر ایک اور بھارتی وزیر لالو پرشاد یادیو نے بھی بطور مرکزی وزیر ریلوے اسی بیانیے کو اپناتے ہوئے بھارت میں ایک اور ریل حادثے کے حوالے سے کہا تھا کہ میں کوئی انجن ڈرائیور ہوں کہ مستعفی ہو جائوں ‘ یعنی حادثہ تو انجن ڈرائیور کی غفلت سے پیش آیا ہے تو میں کیوں وزارت چھوڑ دوں ‘ اور ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے ہمارے ہاں بھی ایک ریلوے حادثہ پر ایک اور وزیر ریلوے جو سیاسی طور پر لالوپرشاد یادیو ہی کے مقلد نظرآتے ہیں ‘ ایسے ہی الفاظ سے محولہ حادثے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا گویا وہ جو اخلاقی اور اصولی سیاست کا دور تھا اب وہ نہ بھارت میں باقی رہا ہے نہ ہمارے ہاں اس کی کوئی مثال دیکھی جا سکتی ہے ‘ گویا بقول علامہ اقبال
مگر یہ راز آخر کھل گیا رے زمانے پر
حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے
اسی حوالے سے سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہوکا یہ فرمانا تو درست ہے کہ وہ ہر ہسپتال کی چوکیداری نہیں کر سکتیں ‘ تاہم ان سے یہ توقع تو کی جا سکتی ہے کہ وہ صحت کے محکمے میں ایسی تبدیلیاں لائیں جن پر عمل کرنے سے کوئی ذمہ دار کسی کوتاہی کا مرتکب نہ ہوسکے اور اس حوالے سے کم از کم میڈیکل سٹاف کی حاضریوں کویقینی بنانے کے لئے بائیو میٹرک سسٹم کا نفاذ ہے ‘ خاص طور پر آپریشن تھیٹر کے باہر تو یہ سسٹم لازمی لگایا جائے ‘رہ گئی ان کی یہ بات کہ یہ خبر ہی سرے سے غلط ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی یہ خبر بقول موصوفہ کے غلط نہیں تو پھر انکوائری کرانے کا کیا جواز ہے؟ اگر انہیں اس خبر کی بنیاد ہی غلط نظر آتی ہے تو بس معاملہ وہیں ٹھپ ہو جانا چاہئے ۔ دوسری ہی سانس میں انہوں نے یہ کیوں فرمایا کہ اگر سویپر کے پاس ثبوت ہے تو پیش کرے ‘ یعنی کس بات کا ثبوت؟ یعنی لاشوں کے پوسٹ مارٹم نہ کرنے کا؟ تو اس کے لئے تو کسی ثبوت کی ضرورت ہی نہیں ‘ ہاں البتہ اگر سویپر سے اپنی ڈیوٹی سے ماورا ڈاکٹروں کی ڈیوٹی سرانجام دینے کا ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے تاکہ اسے انعام و اکرام سے نوازا جائے ‘ تو پھر ممکن ہے کہ آپریشن تھیٹر میں سی سی ٹی وی کیمرے لگا کر اس کی ریکارڈنگ پیش کی جا سکتی ہے تب اسے نوکری سے نکالنے کا جواز ختم ہو جاتا ہے بلکہ اسے واقعی ترقی دے کر ڈاکٹر کے عہدے کی پیش کش لازمی ہوجاتی ہے ‘ ویسے شکر ہے کہ سویپر کے بارے میں صرف مردوں کا پوسٹ مارٹم کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جو بقول وزیر صحت سندھ ”جھوٹ” ہے اگر اس کام سے حوصلہ افزائی پاکر موصوف مریضوں کے گردے تبدیل کرنے ‘ یا پھر دل کے مریضوں کو سٹینٹ تبدیل کرنے بلکہ بائی پاس کے آپریشن کرنے کی ذمہ داریاں نبھانے پر مامور کر دیا جاتا تو کوئی کیا کر لیتا ‘ ایسا ہی ایک کیس گزشتہ دنوں پشاور کے ایک سرکاری ہسپتال میں بھی سامنے آیا تھا جب رات گئے یہ خبر چھپی تو بڑی لے دے ہوئی مگر نتیجہ کیا نکلا ‘ اس حوالے سے راوی خاموش ہے ‘ ویسے بھی بعض لیبارٹریوں میں مختلف قسم کے ٹیسٹوں کی جانچ پرکھ تربیت یافتہ پیرا میڈیکل سٹاف کے بجائے ”اتائی” قسم کے لوگ کرتے رہتے ہیں ‘ اور ان کے جاری گردہ رپورٹوں کی بنیاد پر سپیشلسٹ ڈاکٹر صاحبان آگے مریضوں کو دوائیں بھی تجویز کر دیتے ہیں’ جبکہ اس صورتحال پر ایک لطیفہ بھی مشہور ہے کہ ایک مریض ڈاکٹر کے پاس گیا ‘ بھاری فیس ادا کرکے دوائیاں لکھ کر لے آیا مگر کھانے سے احتراز کیا ‘ پوچھنے پر بتایا کہ ڈاکٹر کو فیس ادا کی کہ اس نے زندہ رہنا ہے ‘ دوائی خریدی کہ کاندار نے بھی زندہ رہنا ہے اور میں اس لئے نہیں کھا رہا کہ مجھے بھی زندہ رہنا ہے۔وما علینا الالبلاغ