موسمیاتی تبدیلی، عوامی آگاہی ناگزیر

موسمیاتی تبدیلی ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے برسوں تک انکار کیا جاتا رہا مگر اب یہ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگر اس چیلنج کو نظر انداز کیا گیاتو ا س کے اثرات دنیا کے لیے انتہائی سنگین ہوں گے ۔ شدید سیلاب، بڑے پیمانے پر زلزلے، طویل خشک سالی اور دوسری ناگہانی آفات میں اضافہ موسمیاتی تبدیلی کے بعض نمایاں اثرات ہی ہیں، جن کے نتیجے میں تقریباً تمام ملکوںکے لیے مسائل مزید بڑھ گئے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کی موجودہ رفتار تشویش کا باعث ہے،گزشتہ چند دہائیوں میں زہریلی گیسوں خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ مستقبل کے حالات کا ادراک رکھنے والے تمام افراد موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں فکر مند ہیں اور وہ اپنی متعلقہ حکومتوں اور بین الاقوامی کمیونیٹز پر زور دے رہے ہیں کہ وہ صورتحال سے بروقت اور موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات اٹھائیں۔ حکومتوں کے ساتھ ساتھ عالمی برادری نے بھی اس ضمن میں کچھ اہداف مقرر کئے ہیں جنہیں مخصوص وقت میں حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی پس منظر میں 2018ء میں اقتدار میں آنے کے فوری بعد وزیر اعظم عمران خان نے 10 بلین ٹری سونامی پروگرام کا آغاز کیا جس کا شمار جنگلات کی بحالی کے سب سے بڑے پروگراموں میں ہوتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت حکومت کی پانچ سالہ مدت میں دس ارب پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ جنگلات اور جنگلی حیات کے وسائل کو بحال اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ پاکستان ماحول دشمن (فوسیل فیول) پر بھی انحصارکم کرتے ہوئے زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی لارہا ہے۔ اس مقصد کے لیے قابل تجدید توانائی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح وہ مستقبل قریب ٹرانسپورٹ کو بھی ماحول دوست بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے لیے روایتی گاڑیوں کی جگہ الیکٹرک گاڑیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ اگرچہ پاکستان کا موسمیاتی تبدیلی کے اسباب میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن وہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سب سے زیادہ غیر محفوظ ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان کے موسمیاتی تبدیلی کے خدشات میں سمندری پھیلائو، مون سون بارشوں کے تغیرات، پگھلتے گلیشیئرز ، آبی ذخائر میں کمی ، طوفانی بارشیں اور خشک سالی شامل ہیں۔ سمندر لاکھوں ایکڑ اراضی پر قبضہ کر رہا ہے اور مون سون کا نظام بھی بگڑ رہا ہے ۔ مثلاً کراچی میں اگست 2020ء میں تقریباً 484ملی میٹر بارش ہوئی جو شہر میں گزشتہ 90 برس میں سب سے زیادہ بارش کا ریکارڈ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کے غیر محفوظ ہونے کے پیش نظر حکومتی اہداف اور اقدامات حوصلہ افزاء ہیں تاہم موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو مکمل بچائوکے لیے اسے ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔ بدقسمتی سے لوگوں میں موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں آگاہی کا فقدان ہے۔ اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ یہ آگاہی پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔ مٹھی بھر لوگ ہی اس خطرے سے آگاہ ہیں اور لوگوں کی اکثریت کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کیا ہے اور اس کا ہماری زندگیوں پر کیا اثر پڑے گا؟ وہ یہ بھی جاننے سے قاصر ہیں کہ سالانہ عالمی درجہ حرارت غیر معمولی طور پر کیوں بڑھ رہا ہے اور ناگہانی آفات جیسے شدید خشک سالی، شدید بارشیں اور بڑے پیمانے پر سیلاب کیوں بار بار ہو رہے ہیں؟ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جب لوگوں کو موسمیاتی تبدیلی کی سنگینی کا ادراک ہی نہیں تو ان سے اس کے خلاف اقدامات کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ ریاست وسیع پیمانے پر مہمات چلا کر لوگوں میں شعور بیدارکر سکتی ہے تاکہ لوگوں کو درختوں کی اہمیت سے آگاہ اور متعلقہ فوائد کو اجاگر کرتے ہوئے ان کی کٹائی روکنے کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ اس کے علاوہ لوگوں کو اپنے طور پر درختوں کی حفاظت اور پودے لگانے کی ترغیب دینے کی بھی ضرورت ہے تاکہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر تجویز کردہ جنگل کے12 فیصد رقبے کا ہدف حاصل کر سکے ۔ اس وقت ملک کا جنگل کا رقبہ صرف پانچ فیصد ہے۔ حکومت کو یہ بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اس کا ٹری سونامی پروگرام لوگوں کی توجہ اپنی طرف راغب کرے کیونکہ یہ عوامی شمولیت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ غیر قانونی طور پر درختوں کی کٹائی خلاف سخت قوانین بنائے، درختوں کو کاٹنے میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور مناسب کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ جنگلات کو وسعت دینے یا نئے درخت اگانے سے پہلے ضروری ہے کہ موجودہ جنگلات کو بچایا جائے۔ موسمیاتی تبدیلی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس کی کوئی سرحدیں نہیں ہیں۔ اگر اس مسئلے کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو یہ پوری دنیا کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
(بشکریہ،دی نیوز، ترجمہ: راشد عباسی)