پولیس گردی کی انتہا

پشاور پریس کلب میں ٹرانس جینڈر الائنس کے عہدیداروں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواجہ سرائوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے جس سے بیشتر خواجہ سراء شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں جبکہ پولیس خواجہ سرائوں کو تحفظ دینے میں مکمل نا کام دکھائی دینے لگی ہے ، ایک خواجہ سرا کو مسلسل نامعلوم افراد کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں، تھانے میں ایف آئی آر موجود ہے مگر پولیس کچھ کرنے سے قاصر ہے،پولیس کے ہوتے ہوئے بھی خواجہ سراء پشاور شہر میں محفوظ نہیں۔بعد ازاں خواجہ سرائوں نے اپنے مطالبات کیلئے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور اپنے حق کیلئے نعرہ بازی بھی کی ۔دریں اثناء ہمارے نمائندے نے خبر دی ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کو بھی خیبر پختونخوا سے شکایات ہیں اور مجموعی طور پر پولیس کے خلاف تین ہزار 71افراد نے سٹیزن پورٹل پر شکایات درج کیں۔پولیس سے شکایات کوئی انوکھی بات نہیں اور نہ ہی پولیس گردی کوئی اچنبھے کی بات ہے ، ا لبتہ جو کام مارشل لاء دور میں کبھی نہ ہوا خیبر پختونخوا کے ایک ڈی ایس پی کی ایسی جرأت کرنا حیرت کی بات ہے ،اس سے بھی حیرت کی بات یہ ہے کہ خواجہ سرائوں کا پیچھا کرکے پریس کلب گھسنے والے ڈی ایس پی کو ابھی تک معطل نہیں کیا گیا آئی جی خاموش ہیں اور وزیر اعلیٰ نے بھی ابھی تک اس کا نوٹس نہیں لیا،پولیس اہلکار کسی صحافی سے مخاصمت پر ایسا کرتے تو بھی اس کی توجیہہ ہو سکتی تھی مگر پولیس کے خلاف پریس کانفرنس پر خواجہ سرائوں کو روکنے کے لئے پریس کلب پر دھاوا خود پکار پکار کر پولیس کے خلاف خواجہ سرائوںکی شکایات کی تصدیق کرتا ہے، خواجہ سرائوں کی بڑھتی شکایات اور پولیس گردی کی شکایت کاعدالت عالیہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو نوٹس لینا چاہئے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا آئی جی سے خواجہ سرائوں کو پولیس کی جانب سے ہراساں کئے جانے اور ان کی شکایات پر باز پرس کر لینی چاہئے نیز پولیس کے ایسے خبطی افراد کو لگام بھی دینے کی ضرورت ہے جو پورے محکمے کی بدنامی اور پریس سے تعلقات خراب کرنے کا باعث بنتے ہوں۔
ٹریفک مسائل ‘ کبھی نہ ختم
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے پشاور میں ٹریفک کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے 15دنوں کے اندر اس سلسلے میں ایک جامع اور قابل عمل پلان تیار کرکے منظوری کے لئے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مذکورہ پلان قلیل المدتی اور طویل المدتی اقدامات پر مشتمل ہوگا جس پر عملدرآمد سے شہر میں ٹریفک سے جڑے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔ٹریفک کے مسائل کے حل کے حوالے سے حکومتی اقدامات مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی مصداق ٹھہرتے ہیں حکومت ٹریفک کے مسائل پر قابو پانے کے لئے جس قدر بھی جتن کرتی ہے ان کی روح اور منصوبے پر عدم عملدرآمد یاپھر عملدرآمد میں تساہل اور غفلت کے باعث ساری مساعی اکارت جاتی ہیں۔ ہمارے تئیں ضرورت اس امر کی ہے کہ بجائے اس کے کہ نئی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد سے قبل ماضی کے اجلاسوں کے فیصلوں اور احکامات پرعملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے اور اس کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل مرتب ہوتا تو بہتر ہوتا۔ اس امر کویقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ عملی کام زیادہ اور اجلاس کم سے کم ہوں۔
مناسب فیصلہ
خیبر پختونخوا حکومت کا بالآخر صوبے میں تمام امتحانات ایک ہی بورڈ کے ماتحت لاے کا فیصلہ احسن قدم ہے ۔وفاق کی طرز پر ایک ہی بورڈ پورے صوبے میں طلباء و طالبات سے امتحان لینے سے بورڈوں میں عبث اور مضر سبقت کی کشمکش کا خاتمہ ہو گا اور یکساں بنیادوں پر پرچوں کی چیکنگ ہو گی جو نمبروں کی غیر حقیقی اور مصنوعی دوڑ کے خاتمے کے لئے ضروری ہے۔ اسی طرح امتحانی ڈیوٹی اور پرچوں کی چیکنگ کا عمل بھی میرٹ کی بنیاد پر اگر شفاف طریقے سے ہو تو بورڈ کو خفت کا سامنا نہ ہو گا اور نہ ہی طلبہ کی حق تلفی ہوگی۔توقع کی جانی چاہئے کہ خیبر پختونخوا میںتعلیمی نظام کی اصلاح کے لئے ایسے فیصلے کئے جائیں گے جو دورس نتائج کے حامل ہوں اور ان پر عملدرآمد بھی یقینی بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔