مشرقیات

عرصہ ہوا کہ سرکار نے اپنی عملداری میں عمل پیرا تمام سرکاری ونجی اداروں کو حکم حاکم بھیجا تھا کہ ہراسمنٹ کمیٹیاں بنا کر خواتین کو”تاڑنے ” والوں کو تاڑا جائے ۔اس فیصلے پر اتنا ہی عمل ہوا ہے جتنا سرکار کے دیگر فیصلوں پر ہوتا آیا ہے۔مطلب عمل کی ضرورت کم ہی محسوس کی گئی ہے یہاں سب گفتارکے غازی ہیں، عمل کے میدان میں قدم کون رکھے۔با الفاظ دیگر پہلا پتھر وہی اٹھائے جس نے کو ئی گناہ نہ کیا ہو۔خواتین یا انہیں ہراساں کرنے کی بات آئے تو ہمارے ہاں مردانگی کے جوہر دکھانے والوں کی کمی نہیں ہوتی۔ اب یہ بھی راز نہیںرہا کہ سب سے زیادہ خواتین کو شکار سمجھ کر شکار کرنے والے سرکاری اداروں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ چند ایک میں سرکار کے حکم نامے کے مطابق ہراسمنٹ کمیٹیاں بھی بنا دی گئیں تھیں تاہم عادت کے بارے میں مرز ا غالب نے کہا ہے۔
چھٹتی نہیں یہ منہ سے کافر لگی ہوئی
آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں خواتین کو ہراساں کرنے کی عادت غیرنصابی سرگرمیوں کا ایک جزواول ہے۔اسکے علاوہ تو کچھ ہم نے سیکھا نہیں۔اپنے ہاں کے اداروں کی حالت زار دیکھ لیں ۔یہاں غیر نصابی سرگرمیوں کے باعث ہی صاحب لوگ ہوں یا قاصد سب خضاب لگا کر خوب بن ٹھن کر یعنی پوری تیاری سے شکارگاہ میں اترتے ہیں۔تازہ ترین چیزوں کے مطابق محکمہ تعلیم کی شکار گاہ میں کچھ زیادہ ہی ہلچل مچی ہوئی ہے اور سرکار نے ایک بار پھر ہراسمنٹ کمیٹی بنانے کا فرمان جاری کردیا ہے ۔کہنے سننے والوں کے مطابق یہاں غیر نصابی سرگرمیوں میں ملوث مردانگی کے جوہر دکھانے والے ملک وقوم کے لیے ایسا نصاب رقم کر رہے ہیں جو کسی کلنک کے ٹیکے سے کم نہیںہوگا ۔بقول ایک ستم ظریف کے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قوم کے نو نہاروں کو تعلیم و تربیت دینے پر مامور اس محکمے کے ادنی و اعلیٰ حکام یکساں نصاب تعلیم کے لیے ایک نیا مضمون شامل نصاب کرنے کی تیاریوں میں ہوں۔محکمہ تعلیم کے علاوہ دیگر سرکاری محکموں کا بھی اس قسم کے کارناموں کے ذریعے نام روشن ہو رہا ہے ۔رہ گئے نجی دفاتر تو یہاں کام کرنے والی خواتین بھی موقع کی تاک میں رہنے والوں کے نشانہ پر ہوتی ہیں۔ جو جتنی بڑی پوزیشن پر ہو اتنا ہی شیریں کلام سے کلام کرتا ہے مگر صرف خواتین سے۔ سرکار کا فرمان بابت ہراسمنٹ کمیٹی انہیں بھی موصول ہوا جس کے بعد سرکار کو بھی دیگر کام یاد آگئے اور شکار ی بھی اپنی شکار گاہ کی طرف متوجہ ہوگئے ۔اب صورت حال یہ ہے کہ خواتین محلے بھر کی تیکھی ،آڑی ،ترچھی نظروں سے بچ کر دفتر تک پہنچ تو جاتی ہیں تاہم یہاں انہیں دن بھر ان ہی نظر بازوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔جو شگفتہ شگفتہ بہانوں سے انہیںرجھانے کی کوشش میں لگ کر اپنا کام بھلائے رکھتے ہیں۔