انسانوں کی توہین کا کیا جواز ہے؟

شف شف کرنے سے سیدھا شفتالو کیوں نہیں کہہ دیتے، کم ازکم اس انسانی تذلیل کی نوبت تو نہیں آئے گی، یہ بھی نہیں کہ لوگ تعاون نہیں کرتے، شہر میں گھومنے کا موقع ملے تو آپ پر واضح ہو جاتا ہے کہ اب تو سڑکیں سنسان، بازار ویران اور مارکیٹیں کوہ وبیابان کا منظر بن چکی ہیں، یعنی صورتحال گلیاں ہون سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے والی بن چکی ہے، تاہم اب یہ بھی تو نہیں ہو سکتا کہ لوگ انتہائی ضروری کام سے بھی گھروں سے نہ نکلیں اور اگر ایسی کوئی غلطی ان سے سرزد ہو جائے تو ''ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات'' والی شکل بن جائے اور ڈیوٹی پر موجود سرکاری اہلکار ان پر ڈنڈے برسانا شروع کر دیں، یا پھر انہیں سڑک کنارے مرغا بنا کر ان کا مذاق بنائیں اور یوں ان کی توہین کرتے پھریں، یہ سب کچھ کس قانون، کس آئین کے تحت کیا جارہا ہے؟ اس لئے سیدھا شفتالو کہنے کی بات کرتے ہوئے اب یہی کہا جا سکتا ہے کہ لوگوں کا ضرورت کے تحت بھی گھروں سے نکلنے پر اعتراض ہے تو پھر کرفیو ہی نافذ کر دیجئے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری، تاہم اس کے بعد صورتحال جو بھی بنے گی اور خدا نخواستہ افراتفری پھیلے گی تو اس کے نتائج شاید کسی کے قابو میں نہ آسکیں، اس لئے مہربانی کر کے یہ جو سڑکوں پر مختلف جگہوں پر سرکاری اہلکاروں کو ڈنڈوں سے لیس کھڑا کر دیا گیا ہے ساتھ ہی ناکے بھی لگا کر لوگوں کو آنے جانے کی پابندیوں کا شکار کر دیا گیا ہے، ان میں اتنی سختی بھی نہ کی جائے، اس ضمن میں عام لوگوں کو جو تلخ تجربات ہو رہے ہیں اس حوالے سے جہاں سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر بعض پوسٹیں، تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں اور چھپ رہی ہیں، ان میں اضافہ گزشتہ روز میرے چھوٹے بھائی رشید سہیل اور ایک بھانجے کامران نے کیا جو خود بھی ایک نیوز چینل کیساتھ بطور کیمرہ مین وابستہ ہے۔ میرا بھائی اپنے گھر سے اپنی اہلیہ کیساتھ میرے گھر آرہے تھے اور جیسے ہی وہ فقیرآباد پل سے گزر کر نیچے ہشتنگری کے قریب جی ٹی روڈ پر پہنچے تو دس بارہ پولیس اہلکاروں نے وہاں سے گزرنے والے موٹر سائیکل سواروں کو جس طرح توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنا رکھا تھا وہ دیدنی تھا، بھائی کو تو بیگم کیساتھ دیکھ کر اور ان کے سینے پر لٹکنے والے میڈیا کارڈ کی وجہ سے جانے دیا، اسی طرح میرے بھانجے نے بھی بتایا کہ شہر کے مختلف حصوں میں ناکے لگا کر باہر جانے والوں کو واپس نہ آنے دینے کی بات کی جارہی تھی۔ اس میں قطعاً شک نہیں کہ صورتحال بہت گمبھیر ہے اور احتیاط حد درجہ لازم ہے۔ اس لئے اگر عوام کو بلاوجہ گھروں سے نکلنے سے روکا جا رہا ہے تو یہ بہت ضروری بھی ہے، مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ جس طرح انگلینڈ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کے ایجنٹ007 جیمز بانڈ کو 7قتل کرنے کا لائسنس فراہم کرنے کا ایک فرضی بیانئے کے تحت فلمیں بنا کر محولہ جاسوس کے کردار کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اسی طرح موجودہ حالات میں ان سرکاری اہلکاروں کو لوگوں کو مرغا بنانے، ان پر ڈنڈوں سے وار کرنے اور بعض صورتوں میں سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کی اجازت دیدی گئی ہے، لوگ اگر گھروں سے نکلتے ہیں تو کچھ تو مجبوریاں ہوتی ہیں اس لئے متعلقہ حکام اس غیرانسانی سلوک کا نوٹس لیتے ہوئے عوام کی توہین بند کروائیں اور متعلقہ اہلکاروں کو حسن سلوک کی تلقین کریں۔
کچھ اب کے دھوپ کا ایسا مزاج بگڑا ہے
درخت بھی تو یہاں سائبان مانگتے ہیں
ہمیں بھی آپ سے اک بات عرض کرنا ہے
پر اپنی جان کی پہلے امان مانگتے ہیں
سرکار والا تبار نے اس لاک ڈاؤن کے نتیجے میں دیہاڑی دار نادار لوگوں کیلئے جس ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے حزب اختلاف کی جانب سے اس میں اضافے کے مطالبات کئے جارہے ہیں، اگرچہ وزیراعظم کے اعلان کے بعد صوبائی حکومتوں نے بھی اپنے اپنے طور پر امداد کا اعلان کر دیا ہے تاہم دونوں ملا کر بھی یہ رقم اتنی نہیں بنتی کہ اس سے نادار افراد کے گھروں کا چولہا جل سکے، وفاق نے تین ہزار ماہانہ کا اعلان کیا جو صرف سو روپے روز بنتے ہیں جبکہ پنجاب حکومت نے اس میں مزید اضافہ کیا مگر کل ملا کر بھی یہ رقم کسی دیہاڑی دار مزدور کی روزانہ ضروریات پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی، اگر اوسطاً ایک گھرانے کو پانچ نفوس پر مشتمل سمجھ لیا جائے تو یہ رقم ناکافی کے زمر ے میں شمار ہوتی ہے۔ ریاست مدینہ کے پہلے مقرر ہونے والے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے لئے گزارہ الاؤنس مدینہ کے ایک دیہاڑی دار مزدور کے برابر مقرر کرنے کے بعد اس مشورے کے بعد کہ دیہاڑی دار کے مقررہ روزنیہ سے ان کے گھر کے اخراجات نہیں چل سکیں گے انہوں نے مزدور کی اُجرت بڑھا دی تھی، اب جو بعض حلقے یہ امدادی رقم 18ہزار کرنے کے مطالبات کر رہے ہیں تو اصولی طور پر یہ مطالبہ درست تو ضرور ہے تاہم ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال اس قدر امدای رقوم تقسیم کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی، مگر پھر بھی اس میں کسی قدر اضافہ تو ضروری ہے، اس لئے کہ حالات جس طرف جا رہے ہیں تو عین ممکن ہے کہ لاک ڈاؤن میں مزید اضافہ کیا جائے، ایسی صورت میں جبکہ آگے رمضان کا مہینہ بھی سر پر ہے، بغیر کام کاج کے غریب اور نادار لوگوں کیلئے گزر بسر بہت ہی مشکل ہو جائے گی، اس لئے اُمید ہے کہ حکومت اپنے دائرۂ قدرت میں رہتے ہوئے امدادی رقم بڑھانے پر غور کرے گی، پھر ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ یہ امداد محفوظ ہاتھوں کے ذریعے ضرورتمندوں تک پہنچانے کا اہتمام کیا جائے کیونکہ اس حوالے سے ابھی سے سوشل میڈیا پر تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے اور ایسا نہ ہو کہ جس طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بدعنوانی سامنے آئی اس طرح اندھا بانٹے ریوڑیاں مڑ مڑ اپنوں کو والی صورتحال کے تحت غیرمستحق لوگوں کی جھولیاں بھرنے کی کوشش نہ کی جائے۔
یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا