4 49

ہمارے معاشرے کی خوبصورت تصویریں

کسی سیانے کا کہنا ہے کہ اگر سب لوگ آپ سے خوش ہیں تو پھر یہ بات یقینی ہے کہ آپ زندگی میں سمجھوتے کرنے کے عادی ہیں اور اگر آپ سب لوگوں سے خوش ہیں، کسی سے کوئی گلہ شکوہ نہیں رکھتے تو اس کا سادہ سا مطلب یہی ہے کہ آپ دوسروں کی غلطیاں نظرانداز کرنے کا ہنر جانتے ہیں! یہی زندگی ہے اور اسی طرح زندگی کا سفر جاری رہتا ہے، کوئی شخص بھی اپنی ذات میں مکمل نہیں ہوتا، ہم خود بھی غلطیاں کرتے ہیں لیکن اپنی طرف دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ انسان کی ایک بہت بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اس کی نگاہ اپنی غلطیوں پر پڑے! کالم کے آغاز سے آپ نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ بندہ آج کل فارغ ہے، کرونا کے احترام میں گھر بیٹھ کر اپنے ساتھ مکالمہ کرنے کیلئے وقت ہی وقت ہے۔ اخبارات، سوشل میڈیا، ٹی وی چینلز لوگوں کی بات چیت سب کچھ کرونا وائرس ہی کے گرد گھوم رہا ہے، ہمیں تو اب کرونا وائرس کے نام سے چڑ سی ہوگئی ہے بلکہ اکثر دوستوں کو مشورہ دیتے رہتے ہیں کہ جناب اسے زیادہ لفٹ نہیں کروانی ورنہ پھر یہ ذہن سے نہیں نکلتا۔ کل ہمیں ایک مہربان بتا رہے تھے کہ ان کی بیٹی نے اعلان کر دیا ہے کہ زندگی میں اب کوئی خوشی باقی نہیں رہی، اب مزید تعلیم حاصل کرنے کا کیا فائدہ؟ اپنی ساری کتابیں الماری میں رکھ دی ہیں یہی وہ ڈیپریشن یا ذہنی دباؤ ہے جو ہمارے اوپر اس وقت حملہ آور ہو جاتا ہے جب ہم ایک ہی مسئلے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور اس کے بارے میں مسلسل بول بول کر اس کی یاد اپنے ذہن میں تازہ رکھتے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ ہم اپنے ذہن سے اس مہلک وائرس کو جھٹک کر دوسری مصروفیات کی مدد سے اپنے آپ کو بہلانے کی کوشش کریں۔ اس زبردستی کی تنہائی میں ہمارے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا، پہلے تو بچوں کیساتھ بیڈمنٹن کھیل کر دل بہلاتے رہے، پھر مختلف کتابوں کی ورق گردانی کی لیکن آخر کب تک کتاب بھی ایک حد تک ہی پڑھی جاسکتی ہے، پھر وہی کرونا وائرس؟ اچانک اپنے ہمدم دیرینہ شطرنج صاحب کا خیال آیا جس کیساتھ اب ہماری ملاقات صرف اتوار کے دن ہی ہوتی ہے، یہ قید اپنے اوپر اس لئے لگانی پڑی تھی کہ یہ کمبخت ایسا کھیل ہے جسے شروع کرنا تو آپ کے اختیار میں ہوتا ہے لیکن پھر اس سے پیچھا چھڑانا آپ کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ شطرنج کی دو چار بازیوں نے ہمیں دنیا ومافیہا سے بے خبر کر دیا، کرونا بھی بھول گیا اب فکر صرف یہ تھی کہ دشمن کی توپ سے اپنے گھوڑے کو کیسے بچانا ہے، بادشاہ سلامت کیخلاف گھیرا تنگ ہوتا چلا جا رہا ہے، اسے کس طرح محفوظ مقام پر منتقل کرنا ہے۔ امیر تیمور جو ستائیس ممالک کا فاتح تھا جنگ کے دوران فارغ اوقات میں اپنے خیمے میں شطرنج کی بساط بچھائے نت نئی چالیں سوچتا رہتا تھا، ہم بادشاہ تو نہیں ہیں لیکن ایک خوفناک جنگ کا ہمیں بھی سامنا ہے، ان لوگوں کے بارے میں جان کر بہت خوشی ہوتی ہے جو لنگر لنگوٹ کس کر اس خطرناک وائرس کیخلاف سرگرم عمل ہیں، ہمارے قابل احترام صحافیوں کی ایک ٹیم نے تھیلی سیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کیلئے خون کے عطیات دئیے ہیں، خون کی قلت کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ اب لوگ گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں لیکن ان بچوں کو خون تو ہر حال میں چاہئے ہوتا ہے! بہت سی تنظیمیں پاکستان کے مختلف شہروں میں گھر گھر راشن پہنچانے کا مقدس فریضہ سرانجام دے رہی ہیں، بہت سے ایسے پیشے ہیں جن سے وابستہ غریب لوگ اس وقت لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام کرنے سے معذور ہیں اور پیٹ کا دوزخ تو ہر حال میں بھرنا ضروری ہوتا ہے۔ ہمارے عالمی شہرت یافتہ کرکٹ امپائر علیم ڈار نے اپنے ریسٹورنٹ میں مستحق لوگوں کیلئے مفت کھانا فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، یہی ہمارے معاشرے کی وہ خوبصورتیاں ہیں جن پر ہزار جان سے قربان ہونے کو دل چاہتا ہے۔ کراچی میں ایک صاحب غریبوں میں روپے تقسیم کررہے تھے، تھوڑی دیر تک تو لوگوں نے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی باری کا انتظار کیا لیکن پھر اچانک روپے تقسیم کرتے ہوئے اس شریف آدمی پر ہلہ بول دیا، وہ بیچارا اس اچانک حملے کی تاب نہ لاتے ہوئے زمین پر گرکر ہجوم کے پاؤں تلے کچلا گیا، وہ تو بھلا ہو کچھ شریف لوگوں کا جنہوں نے لوگوں کے نیچے پھنسے ہوئے معزز آدمی کی جان بچائی یوں کہئے بیچارہ مرتے مرتے بچا۔ ہمارے ڈاکٹر بڑی بہادری کیساتھ اپنے حصے کا کردار ادا کررہے ہیں، وہ اس موذی وائرس کیخلاف سینہ سپر ہیں، اب تک تین شہادتیں بھی پیش کرچکے ہیں لیکن ان کے حوصلے بلند ہیں، وہ اپنے اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ پولیس اور فوج بھی اس جنگ کے ہر اول دستوں میں شامل ہیں اور بڑی حوصلہ مندی کیساتھ اپنے فرض کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔ ہمارے معاشرے کی یہ خوبصورت تصویریں دیکھ کر دل گواہی دیتا ہے کہ اس وائرس کیخلاف جیت ہماری ہوگی۔