صحرا میں اذان دے رہا ہوں

ویسے تو ہم من حیث القوم ”مردہ پرست” ہیں’ یعنی کسی کی زندگی میں اس کی پذیرائی کرنا ہم کسر شان سمجھتے ہیں ‘ اور بندہ دنیا سے گزر جائے تو ہمیں اس کی اچھائیاں یاد آنا شروع ہو جاتی ہیں اور پھر اسے سر پر اٹھا لینے میں بھی ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں دو قدم تو کیا کئی گز آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم کچھ بدنصیب ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی قومی خدمات کے باوجود ان سے منہ موڑنے میں بھی ہم اپنا ثانی نہیں رکھتے ‘اس کی واضح مثال تو حالیہ دنوں میں ایک ایسی نابغہ شخصیت کا دنیا سے گزرنا ہے جس نے اس قوم پر جتنا بڑا احسان کیا اس کا کوئی جواب نہیں دیا جا سکتا ‘ نہ ہی اس کا کوئی نعم البدل ہے مگر اس کی زندگی میں اس سے جو سلوک ہم نے روا رکھا اس پر پوری قوم یقیناً شرمندہ ہے ‘ ماسوائے ان خاص لوگوں کے جنہوں نے عالمی دبائو پر اسے راندۂ درگاہ بنائے رکھا ‘ میرا اشارہ یقیناً ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جانب ہے ‘ اگرچہ رحلت کے بعد انہیں قومی پرچم میں لپیٹ کر سپرد خاک کیا گیا اور ان کی موت کو”سرکاری” پذیرائی بخشی گئی ‘ ان کی موت پر سوشل میڈیا پر جو ٹرینڈ سامنے آئے ان میں بطور خاص احمد ندیم قاسمی کا یہ شعر بہت نمایاں تھا کہ
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات ہے دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
تاہم آج کا کالم ایک اور مقصد لئے ہوئے ہے ‘ اور وہ ہے ایک اور عالمی شہرت یافتہ فنکار عمر شریف کی قبل اور بعد از مرگ پذیرائی کے حوالے سے ‘ یعنی جب وہ شدید بیمار ہوئے تو ان کے علاج کی غرض سے اٹھنے والی آوازیں اس قدر توانا تھیں کہ پورے ملک میں ریگولر میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی مسلسل گونجتی رہیں جو یقینا عمر شریف کی خوش قسمتی سے تعبیر کی جا سکتی ہیں ‘ اور انہی بلند و آہنگ مطالبات کی وجہ سے عمر شریف کو بیرون ملک علاج کے لئے نہ صرف سندھ حکومت نے دل کھول کر فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنایا بلکہ ان کو بیرون ملک لے جانے کے لئے ایئر ایمبولنس کا بندوبست بھی ممکن بنایا ‘ یہ الگ بات ہے کہ ان کی زندگی نے وفا نہیں کی اور اتنی سہولیات کی فراہمی کے باوجود وہ امریکہ نہ پہنچ سکے جہاں ان کا علاج ہونا تھا اور راستے ہی میں ان کی طبیعت بگڑنے کی وجہ سے انہیں جرمنی میں اتارنا پڑا تاکہ انہیں ضروری طبی امداد مہیا کی جا سکے اور وہیں انہوں نے زندگی کی آخری سانسیں لیکر دنیا سے منہ موڑ لیا ۔ تاہم موضوع زیر بحث کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے کہ جیسے ہی ان کے انتقال کر جانے کی خبریں آئیں۔ سندھ گورنمنٹ نے کراچی میں شہید ملت روڈ پر بنائے گئے ایک انڈر پاس کو نہ صرف عمر شریف کے نام سے منسوب کیا بلکہ سندھ کے وزیر سعید غنی نے اس کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کوشش ہے کہ کوئی ادارہ عمر شریف کے نام سے منسوب کی جائے انہوں نے یہ بھی کہا ہے ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے لوگوں کی کتنی قدر کرتے ہیں ‘ سعید غنی نے یہ بھی بتایا کہ انڈر پاس کے ساتھ پیڈسٹرین بریج یعنی پیدل چلنے والوں کے لئے گزر گاہ تعمیر کرنے کے عوامی مطالبات بھی سامنے آرہے ہیں ‘ جس پر یقینا عمل درآمد کے لئے سندھ حکومت غور کرکے اسے عملی صورت دیگی۔ اس پر مولانا حالی یاد آگئے ہیں جنہوں نے کہا تھا
بہت جی خوش ہوا حالی سے مل کر
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
جہاں تک حکومت سندھ کے ان فیصلوں کا تعلق ہے ان کی یقینا نہ صرف ا ندرون بلکہ بیرون وطن عمر شریف کے مداح پذیرائی کریں گے ‘ تاہم ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں آنے والے دور میں کوئی ایسی حکومت نہ آجائے جونہ صرف محولہ انڈر پاس کی عمر شریف سے نسبت کو ”سیاسی بنیادوں” پر ختم کر دے جیسے کہ لاہور کے ایک انڈر پاس کا نام کچھ عرصہ پہلے بدل دیا گیا اور اس پر سے پروفیسر وارث میر کا نام ہٹا کر کچھ اور نام دیا گیا اور جس ادارے کوآنے والے دنوں میں عمر شریف کے نام سے منسوب کرنے کی بات صوبہ سندھ کے وزیر سعید غنی نے کی ہے اس کو بھی بعد میں تبدیل کرنے کی نوبت نہ آئے ‘ اس ضمن میں ہمارے صوبے میں بھی حالات حوصلہ افزاء نہیں ہیں ‘ مثلاً جب تک بی آر ٹی منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا تھا ‘ مرحومہ فردوس سنیما کے قریب قلعہ بالا حصار کے سنگم پر جو چوک تھا اسے عالمی شہرت یافتہ شاعر احمد فراز کے نام کی نسبت سے احمد فراز چوک کا نام دیا گیا تھا ‘ بی آر ٹی کی وجہ سے وہاں سے چوک غائب ہو گیا تو راقم نے اسی مقام پر بی آر ٹی سٹیشن کے لئے احمد فراز سٹیشن کا نام تجویز کیا مگر ”بااثر” حلقوں کو یہ بات مناسب معلوم نہ ہوئی تو اسے قریب ہی پہلے سے موجود فلائی اوور والی شخصیت کے نام سے منسوب کیا گیا ۔ جو ایک ہی مقام پر دو منصوبوں کے لئے ایک شخصیت سے منسوب کرا بھی حیرت کا باعث ہے ‘ خیر جانے دیں ‘ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے والی بات بن جاتی ہے ‘ اور احمد فراز کے نام کو پذیرائی صرف چند ماہ تک ہی نصیب ہوئی یعنی جب تک وہاں چوک موجود تھا ‘ اب ایک بارپھرگزارش کرنے کی اجازت اگر دی جائے تو نشتر ہال بلڈنگ کے احاطے میں جو منی آڈیٹوریم موجود ہے اگرچہ اس کے لئے بھی ایک تقریب کے دوران راقم ہی نے فنکشن کی نظامت کرتے ہوئے رحمان بابا ہال تجویز کیا تھا جس کی حاضرین نے دل کھول کر تائید کی تھی مگر اسے بھی تقریباً پانچ برس گزر چکے ہیں اور محکمہ ثقافت نے اس تجویز کو ذمہ دار حلقوں کے سامنے پیش نہیں کیا جبکہ اس آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والی تقریبات کے دعوت ناموں پر منی آڈیٹوریم کا نام ہی شائع کیا جاتا ہے اس لئے اب ایک اور تجویز یہ ہے کہ اس منی آڈیٹوریم کو احمد فراز کے نام سے منسوب کرنے کی منظوری دی جائے’ تاکہ ہم بھی دنیا کو بتا سکیں کہ خیبر پختونخوا کے لوگ بھی اپنے لوگوں کی پذیرائی کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں ‘ احمد فراز کوئی معمولی ہستی نہیں بلکہ دنیائے ادب کا ایک ایسا درخشندہ ستارہ ہے جس کی چکا چوند عالمی سطح پر نہ صرف پاکستان کا نام جگمگا رہا ہے بلکہ دنیا بھرمیں اردو دنیا سے تعلق رکھنے والے انہیں اپنے دل میں جگہ دیتے ہیں ‘ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں کئی اعزازات مل چکے ہیں اور گزشتہ برس نہیں ہلال امتیاز جیسا بڑا اعزاز بھی بعد از مرگ دے کر ان کی جو پذیرائی کی گئی وہ بھی اہمیت کا حامل ایوارڈ ہے ‘ صوبہ خیبر پختونخوا کے لئے بھی یہ بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے کہ احمد فراز کاتعلق اسی مٹی سے ہے ‘ اس لئے امید ہے کہ صوبائی حکومت نشتر ہال سے منسلک چھوٹے آڈیٹوریم کو احمد فراز کے نام سے منسوب کرکے ادبی دنیا کو ایک خوش کن پیغام دے گی۔ بقول سلیم احمد
شاید کوئی بندہ خدا آئے
صحرا میں اذان دے رہا ہوں