کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی

این سی او سی نے کورونا پھیلائو میں کمی کے باعث ہفتہ روزہ ایک دن کی کاروباری بندش ختم کرنے کا اعلان کرکے یقینا مثبت قدم اٹھایا ہے ‘ اب ملک بھر میں بازار اور مارکیٹیں ہفتے کے سات روز کھلی رہیں گی ‘ سنیما ہال اور مزارات بھی مکمل ویکسی نیٹڈ افراد کے لئے کھول دیئے گئے ہیں ‘ جبکہ شادی بیاہ کی انڈور اور آئوٹ ڈور تقریبات میں افراد کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور اب انڈور تقریبات میں چارسو جبکہ آئوٹ ڈور تقریبات میں پانچ سو افراد کو شرکت کی اجازت ہو گی۔ 28اکتوبر کو منعقد ہونے والے اجلاس میں کورونا صورتحال پر مزید غور کیا جائے گا اور پابندیوں پرایک بار پھر نظر ثانی کی جائے گی۔ الحمد للہ حکومت کے مثبت اقدامات کے باعث ملک میں کورونا کی صورتحال پرقابوپانے میں جو پیش رفت ہو رہی ہے اور متاثرین کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آرہی ہے ،اسی کی وجہ سے این سی او سی کے اجلاس میں ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں کی ایک بار پھراجازت دیدی گئی ہے ‘ تاہم پبلک مقامات پر منعقد ہونے والی تقریبات پر مناسب کنٹرول کی پالیسی جاری ہے، اگرچہ اب اس میں بھی نرمی برتی جا رہی ہے ‘جس طرح شادی ہالوں ‘ سینما گھروں ‘ مزاروں وغیرہ پر جانے والوں کو مشروط طور پر آزادی دی گئی ہے ‘ یعنی ایک تو یہ ہے کہ ان جگوں پر صرف ویکسین لگانے والوں کو ہی داخلے کی اجازت ہو گی اور دوسرے یہ کہ ان کی تعداد بھی بتدریج بڑھائی جا رہی ہے ‘ حکومت کی اس پالیسی سے خصوصاً سینما ہالوں اور شادی ہالوں کی انتظامیہ کی شکایات بھی رفع ہو سکیں گی اور ان کو جو نقصان اٹھانا پڑا ہے اب مزید نقصان کا اندیشہ ختم ہوگیا ہے ۔
مشرق وسطیٰ میں بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ
بھارت میںمسلمانوں کے خلاف جاری منظم تشدد اور قتل و غارت گری کے واقعات پر تنظیم تعاون اسلامی نے مذمت کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے ‘ جبکہ مسلمانوں کے استحصال اور منظم تشدد کے خلاف مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی منظم مہم بھی شروع کر دی گئی ہے ‘ امر واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں پر بے جا مظالم توڑنے ‘ ان کی نسل کشی کرنے اور انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تشدد کا نشانہ بنانے پر نہ صرف او آئی سی نے آواز اٹھائی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں اب بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم بھی شروع کر دی گئی ہے ‘ اس سلسلے میں سب سے پہلے خلیجی ملک کویت کی قومی اسمبلی نے قرارداد منظور کی جس کے بعد متعدد سکالرز اور اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ‘ اور پھر یہ ٹرینڈ مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک میں بھی پھیل گیا ‘ جس کے بعد سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن جانے کے بعد عام لوگوں نے بھارتی مصنوعات نہ خریدنے کا عہد بھی کر لیا اب بھارت کو یہ سوچنا پڑے گا کہ ہندو توا کے پیروکاروں کو کھلی چھوٹ دینے کے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
زرسانگہ کی خبر گیری ‘ وقت کی ضرورت
حکومت سندھ کی جانب سے لیجنڈ فنکار عمر شریف کی زندگی اور بعد از رحلت پذیرائی یعنی علاج معالجے کے لئے کروڑوں کے فنڈز کی فراہمی اور مختلف مقامات کو ان کے نام سے منسوب کرنے پرتعریفوں کے پل باندھنے کے بعد حکومت خیبر پختونخوا کو بھی اپنے لیجڈ فنکاروں کی داد رسی کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ‘ پشتو کی نامور گلوکارہ زرسانگہ جوعالمی شہرت کی حامل ہیں ان دنوں جس کسمپرسی کی کیفیت سے دو چار ہے اور خیمہ بدوش زندگی گزار رہی ہے ‘ کیا صوبائی حکومت انہیں سر چھپانے کے لئے دو چار مرلے کاایک گھر بھی فراہم نہیں کرسکتی؟ امید ہے صوبائی حکمران ان کی داد رسی کے لئے مناسب قدم ضرور اٹھائیں گے۔