مہنگائی کا عفریت

ملک بھر میں مہنگائی میں اضافے سے عام غریب آدمی کس قدر متاثر ہو گا جو پہلے ہی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پرمجبور ہے اس بارے میں کچھ کہنا تضیح اوقات ہے ‘ تقریباً ہر ماہ پٹرول ‘ گیس ‘ بجلی کے نرخوں میں اضافے سے جو درگت عام آدمی کی بن رہی ہے اور اسے سانس لینا بھی دشوار ہو رہا ہے ،اس صورتحال میں عوامی سطح پر بے چینی میں اضافہ منفی رجحانات کو فروغ دینے کا باعث ہے ‘ بے روزگاری کی حالت پہلے ہی دگرگوں ہے اور مہنگائی بڑھنے سے سٹریٹ کرائمز بھی بڑھنے کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے ‘ جبکہ ڈاکہ زنی ‘ چوری اور دیگر جرائم کی بنیادی وجہ ہی شدید مہنگائی ہے ‘ عالمی اداروں خصوصاً آئی ایم ایف کی ہدایات پر بجلی ‘ گیس کے نرخوں میں ہر مہینے اضافے سے لوگوں کے بلز بڑھ رہے ہیں اوپر سے ان بلوں میں رقوم میں ایک خاص حد تک اضافے کے بعد ان پر مزید انکم ٹیکس لاگو کئے جانے سے بدعنوان میں یوں اضافے کا خطرہ ہے کہ جب غریب لوگ اتنے زیادہ بل ادا نہیں کرسکیں گے تو یقیناً میٹروں میں ٹمپرنگ اور بجلی کی چوری میں اضافہ روکنے میں نہیں آسکے گا’ تازہ خبروں کے مطابق نہ صرف بجلی کے نرخوں میں مزید ایک روپیہ 68پیسے یونٹ ا ضافہ کردیا گیاہے جبکہ عام مارکیٹ کا کیارونا خود سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ادارے یوٹیلٹی سٹورز پرمختلف اشیاء کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے کم قیمت پر اشیائے ضروریہ کی خریداری بھی ایک خواب بن گئی ہے ‘ اس حوالے سے حکمران طبقات جوبھی تاویلیں دیں اور سارا ملبہ سابقہ حکومتوں پر گرانے کے بیانئے سے عوام کو طفل تسلیاں دیں عوام ان سے بہلنے والے نہیں ہیں ‘ گزشتہ تین ساڑھے تین سال سے برسراقتدار ہونے کے بعد عام غریب لوگ بجا طور پرموجودہ حکمرانوں سے یہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ حالات کو بہترکرنے اور عوام کی مشکلات ختم کرنے کے لئے ضروری اقدام کریں گے ‘ مگر بدقسمتی سے ملک میں مہنگائی کو روکنے اور عوام کو ریلیف دینے کے لئے ایسی کوئی پالیسی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے ‘ الٹا مشکلات کے پہاڑ عوام کی زندگی اجیرن کرنے کا باعث ہیں’ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سابقہ حکومتوں کی پالیسیاں بھی اس صورتحال کی ذمہ دار ہوں گی ،تاہم صرف سابقہ حکمرانوں کو مطعون کرنے سے عوام کے دلدر دور نہیں ہوسکتے ‘ بلکہ اقتدار سنبھالنے کے بعد موجودہ حکمرانوں کو عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں کو عملی صورت دینے اور مہنگائی کے عفریت سے ان کو نجات دلانے کے لئے اقدامات کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے تھی مگر بدقسمتی سے ایسا ممکن نہ ہوسکا اور اس وقت جبکہ اپنے اقتدار کی نصف سے بھی زیادہ مدت حکومت گزار چکی ہے اور آئندہ برس نئے انتخابات کی تیاریاں شروع ہوں گی یعنی آخری سال تو انہی سرگرمیوں اور تیاریوں میں گزرجاتی ہے جس میں حکومتوں کوعوام کے پاس جا کر اپنی کارکردگی کا ریکارڈ رکھنا پڑتا ہے تاکہ وہ ایک بار پھر انہیں منتخب کرکے اقتدار سونپ سکیں ‘ اس لئے یہ موجودہ حکمرانوں کے لیے بھی لازم ہے، تا کہ مزید مہنگائی اور مشکلات سے چھٹکارا مل سکے اور وہ انہیں بخوشی ایک بار پھر اقتدار دلانے میں مدد دے سکیں۔ امید ہے موجودہ حکومت اس اہم نکتے پر ضرور غور کرے گی اور مہنگائی مسلط کرنے سے احتراز کی پالیسی اختیار کرکے عوام کی ہمدردیاں سمیٹے گی۔
صنعتوں کے لئے رجسٹریشن فیس کا خاتمہ
خیبر پختونخوا حکومت صوبے میں صنعتوں کے فروغ اور زیادہ سے زیادہ نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے ایک جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھا رہی ہے ‘ خیبر پختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ملکی اورغیرملکی سرمایہ کاروں کو صوبے میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے ‘ انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے ‘ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے ‘ صوبے میں صنعتیں لگانے اور دیگر سرمایہ کاری کے لئے مختلف محکموں اوراداروں کی طرف سے این او سیز کے اجراء کے پیچیدہ عمل کو آسان بنانے اور سرمایہ کاری کے لئے درکار تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کرنے کے لئے ایک منظم اور مربوط انداز میں کام کر رہا ہے ‘ صوبائی حکومت کے ان اقدامات کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں ‘ اور متعدد ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں نے صوبے میں سرمایہ کاری شروع کی ہے ۔ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ محمود خان کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں صوبے میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور اس سلسلے میں نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ‘ اور پانچ سالہ انویسٹمنٹ پروموشن سٹرٹیجی 2021-25ء کے علاوہ نئی صنعتی پالیسی اور کامرس اینڈ ٹریڈ اسٹریٹجی تشکیل دے کر اس پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے، جہاں تک نجی سرمایہ کاروں کو صوبے میں سرمایہ کاری کے لئے راغب کرنے اور انہیں آسانیاں فراہم کرنے کے لئے متعلقہ تمام اداروں کی جانب سے ضروری سہولیات بہم پہنچانے کے لئے ایک ہی چھت کا انتخاب کیا گیا ہے ‘ تو اصولی طور پر اس اقدام کو سراہا جانا چاہئے ‘ تاہم یہ پالیسی نہ نئی ہے نہ صرف موجودہ حکومت تک محدود ہے بلکہ سابقہ صوبائی حکومتوں کے ادوار میں بھی نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لئے یہی پالیسی اختیار کی جا چکی ہے ،تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سابقہ ادوار میں ایک ہی چھت تلے سہولیات کی فراہمی کوکن وجوہات کی بناء پر سرد خانے میں ڈالنے اور ہر نئی حکومت کے آنے کے بعد گرد آلود فائلوں کو جھاڑ کر ایک بار پھر متعلقہ ادارے نمبر بنانے کے چکر میں کیوںپڑ جاتے ہیں ‘ اس لئے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کم از کم اب کی بار تو اس پالیسی کو روبہ عمل لانے میں ماضی کی طرح”روڑے اٹکانے” کی کوششیں نہ کی جائیں اور موجودہ حکومت کی مساعی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے تاکہ نہ صرف حکومت کی نیک نامی میں اضافہ ہو بلکہ ملکی نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے مثبت حوصلہ افزائی کے نتیجے میں بے روزگاری کو ختم کرنے میں بھی مدد مل سکے۔