Mashriqiyat

مشرقیات

پٹرول کی قیمت میں اضافہ حکومت کو گلے پڑگیا ہے سمجھیں۔اکتوبر کو کسی اور حوالے سے بھاری قرار دیا جاتا ہے اس بھاری بھرکم بوجھ تلے ڈگمگاتی حکومت کا اکلوتا اور رہا سہا سہارا عوام ہی تھے کمال مہارت سے یہ سہارا پٹرو لیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے سرکار سے چھین لیا گیا ہے۔اب ذرا سوشل میڈیا پر ایک نظر ڈال لیں لگ پتہ جائے گا”کہتی ہے خلق خدا تجھے غائبانہ کیا”
کوئی ایک بندہ بھی حکومت کے دفاع میں یہاں مشکل سے ملے گا،مل بھی جائے تو حکومت کوسنانے والے لٹھ لے کر اس حمایتی کے پیچھے بھی ایسے پڑ جاتے ہیں کہ بے چارے کو کہیں جائے پناہ نہیں ملتی۔سرکار کو صلواتیں سنانے کے علاوہ سوشل میڈیا صارفین نے کما ل کے طعنے ،طنز ،جملے اور ویڈیوز بھی تراشی ہیں۔گویا سرکار کی بلائیں لینے کا ایک مقابلہ شروع ہے۔ساتھ ہی سرکار کی مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے بھی اس موقع کو کیش کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر اپنے محبوب لیڈروں کے دور حکومت کے دوران دال دلیے کے اعداد وشمار شئیر کر کے حکمران جماعت کے زخمی زخمی کارکنوں کے زخموں پر نمک پاشی شروع کر رکھی ہے۔سب سے زیادہ ذکر یہاں میاں نوازشریف کا کیا جارہاہے۔یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اکتوبر کا مہینہ اس حکومت کا آخری مہینہ ہے جس کے بعد میاں نوازشریف پاکستان میں قدم رنجہ ہی نہیں فرمائیں گے بلکہ عدالتوں کے ذریعے کلین چٹ پاکر چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے کا اعزاز بھی حاصل کریں گے۔ایک اہم ترین تقرری پر تنازعہ کے حوالے سے چند حلقوں کا خیال ہے کہ یہ نئی تقرری شاباش میاں اور ان کے مفاہمتی بیانیے کی جانب پیش قدمی قرار دی جار ہی تھی جس سے سرکار بدک گئی اور اب بات کھل کر اپنی اپنی رٹ منوانے تک آگئی ہے بہرحال اس معاملے کے سامنے آنے کے باوجود حکومت مشکل صورت حال سے بچائو کے لئے ہاتھ پائوں مار رہی تھی تاہم بیچ میں پٹرولیم مصنوعات کی عالمی مارکیٹ کود پڑی اور اب حال یہ ہے کہ سرکار کو گنگناتے ہوئے دیکھا سنا جا سکتا ہے ”اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بے گانے بھی ناخوش ”۔
سچی بات یہ ہے کہ اس سرکار کو بہت مواقع ملے صرف مہنگائی کا توڑ کر کے سرکار اپنے ہر حریف کو منہ توڑ جواب دے سکتی تھی تاہم مہنگائی کم کرنے کا نسخہ اس کے ہاتھ نہیں آیا اور اب سب سر پکڑے بیٹھے ہیں کہ بجلی،گیس ،پٹرول ،آٹے، چینی ،گھی،حتیٰ کہ سبزی تک کے دام وہ کہاں سے اور کیسے چکائیں؟ خزانچی نے تو ہاتھ کھڑے کر دئیے کہ مہنگائی کم نہیں ہوگی زیادہ ہی ہوگی۔