دلت خاندان

بھارت میں دلت خاندان راشن اور ادویات سے محروم

ویب ڈیسک:بھارت کی ریاست ہریانہ میں اچاناسب ڈویڑن کےعلاقےچھترمیں اونچی ذات کےہندوئوں نےدلتوں کاسماجی بائیکاٹ کرکے انہیں راشن اور ادویات سےمحروم کردیا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق اونچی ذات کےہندوئوں نے 150 سے زیادہ دلت خاندانوں کو راشن ، ادویات اور گاؤں کے اندر اور باہر جانے کےلئے سفری سہولیات سے محروم کردیا۔

گاؤں کےدلت خاندانوں نےکہاکہ جاٹ ذات کےہندو ارکان نےان کےمعاشرتی بائیکاٹ کی کال دی تاکہ دلتوں پردباؤ ڈالاجائےکہ وہ انکےایک فرد کےخلاف مقدمہ واپس لیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق تین ہفتے قبل گاؤں میں کبڈی میچ پرباہمی تکرار کے بعد اونچی ذات کے کچھ نوجوانوں نے ایک دلت نوجوان گرمیت کوماراپیٹا۔ گرمیت کی شکایت پر مقدمہ درج کرنے کے بعد پولیس نے اونچی ذات کے ایک ہندو کو گرفتار کیا۔

اونچی ذات کے ہندوئوںنے پنچایت ارکان کے ساتھ مل کر گرمیت پر دباؤ ڈالا کہ وہ کیس واپس لے۔ دلت برادری نے شکایت واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے شکایت کنندہ کے ساتھ کھڑی ہوئی۔

دلت باشندوں نےکہا کہ سماجی بائیکاٹ کی کال اونچی ذات کےلوگوں نےحال ہی میں پنچایت بلانےکےبعد دی تھی۔انہوں نے کہا کہ وہ جاٹ ہندوؤں کےاعلان کردہ سماجی بائیکاٹ کی وجہ سےاشیائےضروریہ حاصل کرنےیا اپنےکھیتوں میں جانے سے قاصرہیں گاؤں میں ڈیڑھ سوسےدوسودلت خاندان رہتےہیں ہمیں نہ صرف روزانہ راشن سے محروم کیاجارہاہےبلکہ گاؤں میں دوسری جگہوں پرجانےپربھی پابندی ہےکسان کھیت میں جانےسےقاصرہیں سبزی فروش ہمارے علاقے میں نہیں آرہےیہاں تک کہ ڈاکٹربیماروں کوادویات نہیں دےرہےہیں۔

انہوں نے کہاکہ جب میڈیا اور پولیس گاؤںمیں آتی ہے تو اونچی ذات کے ہندو ایسے برتاؤ شروع کر دیتے ہیں جیسے کوئی سماجی بائیکاٹ نہیں ہے۔ جس لمحے وہ چلے جاتے ہیں ، بائیکاٹ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔