کیا سنیں کیا سمجھیں

جب سے تحریک انصاف برسر اقتدار آئی تب سے پاکستان سے تعلق رکھنے والے خبریہ یو ٹیوبر دو فرقوں میں بٹ گئے جس کی وجہ سے عوام میں ایک الجھن سی پیداہوگئی ہے کہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کون کہا ں پر درست ہے کون کہا ںپر غلط ہے ، کچھ عرصہ سے ٹھنڈک پڑ گئی تھی مگر حالا ت نے ایسا رخ اختیار کر لیا کہ پنڈورا پیپر ز پرتو دھول ہی اٹ کررہ گئی اور عوام بھی اس سے کچھ لاتعلق سے ہو کر رہ گئے ۔ معاملا ت سے تعلق رکھنے والو ںکا فریضہ ہے کہ وہ نزاکتوںکا احساس کرتے ہوئے حالا ت کو اپنی مرضی کی طرف نہ جا نے دیں بلکہ قومی مفاد کی بنیا د پر اس کا رخ مو ڑیں ، پاکستان کے دشمن ہر وقت تاک لگائے بیٹھے رہتے ہیںکہ اب ان کو موقع ہا تھ آئے وہ اپنے کر توت دکھاجائیں ۔ ویسے بھی دفاعی معاملا ت نازک تر ہو تے ہیں اس لیے ان پر بے دھڑک خیالا ت کا بلا جو ا زاظہا ر کر دینا قومی تقاضوں کے برخلاف ہے ، اس وقت ایک پیچیدہ سے مرحلہ یہ آن پڑا ہے کہ محسو س ہورہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے بارے میں ایک پیچ سادہ ہو ا پڑ ا ہے ، عمران خان جب سے وزیر اعظم بنے ہیں تب سے وہ ایک ہی الا پ کرتے رہے ہیں کہ فوج اور حکومت ایک پیچ پر ہیں یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی جس کا بار بار ورد کیا جا رہا تھا ہو نا بھی یہی چاہیے کہ حکومتی تما م ادارے ایک پیچ پر ہی رہیں تب ہی جا کر ملک مستحکم بنیادوںپر استوار رہتا ہے ، اور دشمن تلملا تا رہتا ہے ، مضبوط دفاع کا یہ لا زم حصہ ہے کہ قومی ادارے ، حکومت اور عوام ہمیشہ ایک پیچ پر رہیں ، مگر پاکستان میں آمرو ں کی تاریخ نے جو جھٹکے دئیے ہیں اس کے حالا ت کی وجہ سے بار بار یہ کہنا کہ فوج اورحکومت ایک پیچ پر ہیں اس بار بار کے کہنے نے قومی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے ، کسی ایک شخص کا غلط رویہ پورے ادارے کی ذمہ داری نہیں بناکر تا ، چنانچہ جب نو از شریف نے پی ڈی ایم کی تشکیل کے موقع پر تقریر کی تب سے حکومتی حلقوں کا دما غ ٹھکا نے آئے اور انھو ں نے اپنا ایک پیچ کا الا پ الاپنا چھو ڑ دیا ، اب جو ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا باب کھلا ہے اور اس میںجو تاخیر محسوس کی گئی ہے اس سے یہ احساس ہو رہا ہے کہ گر تاخیر ہے تو کچھ باعث تاخیر بھی ہے ، اعلیٰ سطح کے تبادلے اس طرح نہیں ہواکرتے کہ آج ہی آرڈر ہو ا اور آج ہی اس پر عمل درآمد ہو گیا ، اس میںکچھ دنوں کا وقفہ ہوا کرتا ہے ۔لیکن حکومتی پارٹی کے یو ٹیو بر ز اور کچھ وفاقی وزراء کی چرب زبانی نے عوام کے ذہنو ں کو گنجلک کر دیا ہے اور وہ حیر انی سے دوچار ہیںکہ ہو کیارہا ہے ، ایک پیچ کا صاف ہو جانا یہ احساس دلا تا ہے کہ دودھ میں کچھ کالا کالا ہے ، بات یہ ہے کہ اگر تبادلو ں کی کارروائی میںکہیں کوئی سقم رہ بھی گیا تھا تویہ دفتری امو ر کا حصہ ہے جس کو دفتری اصولو ں کے مطابق حل کر لینا چاہیے تھا ، اس امر کی گونج قریہ وامصار میں نہیں گونجنی نہیں چاہیے تھی یہ ایک معمول کا کا م ہو تا ہے اور اکثر وبیشتر دفتری امو ر میں ہو تا رہتا ہے ، عوام کو یا د ہے کہ آرمی چیف کی ملا زمت میں توسیع کے موقع پر ایسی ہی دفتری کوتاہی ہو تی رہی تھی اوروہ بھی جب عدالت اعظمیٰ میں معاملہ گیا تو وہ بھی عدالتی فیصلے کے ذریعے بلکہ یہ کہنا زیا ہ بہتر ہو گا کہ پارلیمنٹ کے ذریعہ درست ہو پایا تھا ، یہ کہا جا سکتا ہے کہ فو ج میں تبادلو ں اور تقرریو ں کا درومدار خود ان کی اپنی اسٹبلشمنت کا ہے ، جہا ں کوئی فوجی ملا زم یہ استحقاق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی من پسند کی تقرری یا تبدیلی کرائے ، اعلیٰ سطح کا فیصلہ آرمی چیف کا اختیار ہو تا ہے ، جب سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل کو ان کی پوسٹ سے ہٹاکر کور کما نڈر مقرر کردیا گیا تو ان کو یہ تبادلہ پسند نہ تھا چنانچہ انھو ں نے ملا زمت سے استعفیٰ دید یا تھا ، اسی طرح جنرل طارق پر ویز جو غالباًکور کمانڈر کوئٹہ تھے انھو ں نے کا رگل کے واقعے کے بعد اپنے کما نڈر چیف جنرل پر ویز مشرف سے اجا زت لیے بغیر وزیر اعظم نو ا ز شریف سے ملا قات کی تھی تب جنرل مشرف نے ان کو فوراًکور کما نڈر کے عہد ے سے سبکدو ش کر دیا تھا ، جہا ں تک ڈی جی آئی ایس آئی کا تعلق ہے تو اس کی تقرروزیر اعظم کرتاہے اور اس بارے میں نوٹیفکیشن وزیر اعظم کے دستخطوں سے ہی جا ری ہو تا ہے ، جیسا کہ آرمی چیف کی تقرری میں ہوتا ہے کہ وزارت دفاع تین نا م کیبنٹ ڈویژن کو ارسال کرتی ہے اور کیبنٹ ڈویژن اس کی سمری بنا کر وزیر اعظم سیکرٹریٹ بھیج دیتا ہے جہا ں سے منظور ی کے بعد آرمی چیف کی تقرری عمل آجا تی ہے ، یہا ں یہ بھی واضح رہے کہ تین نام ہی کی شرط حتمی نہیں ہے اس سے زیا دہ بھی ہو تے سکتے ہیں نہ سنیرترین ہو نا لا زمی ہے جنرل ضیاء الحق چھٹے نمبر پر تھے ، خو د پرویز مشرف چوتھے یا پانچویں نمبر تھے،ایسی اور بھی مثالیں ہیں ۔ اس وقت کچھ حتمی طور پر کچھ نہیںکہا جا سکتا کہ ہو ا کیا ہے ، لگ یہ رہا ہے کہ سب کو بھونپو بجا نے پر لگا دیا گیا ہے ، اس سے جو فضاء بنی ہے اس میں حزب اختلا ف بھی بغلیں بجا کر راگ گھنشری اور ٹھمری کا تان وسر نکا ل رہی ہے ، گویا ان سب کو قومی مفاد کا کوئی احساس نہیں ہے ،اوریہ کہ کس احساس فرد کی شخصیت پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔بہر حال جوکچھ پک رہا ہے وہ اندر پک رہا ہے باہر تو اس کی خوشبوبھی نہیں باہر بیٹھے کیا پھیلا رہے ہیں یہ وہ ہی جانتے ہیں بس ۔
٭٭٭٭