12 ربیع الاول کی اہمیت اور تقاضے

آج 12 ربیع الاول ہمارے آقا سرور کائنات ‘فخر موجودات ‘ خاتم المرسلین ‘ رحمة للعالمین ‘ شرف کون و مکاں ‘ ہادی دو جہاں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کا مبارک دن ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ یقینا تاریخ انسانیت کا وہ موڑ ہے جس کا پیغام یہ تھا کہ اب دنیا میںوہ عظیم انقلاب لانے والی عظیم شخصیت پیدا ہو چکی ہے جسے رب کائنات نے تمام مخلوقات میں سب سے افضل مقام عطا فرما کر سب سے بڑی ذمہ داری نبھانے کے لئے منتخب فرمایا ہے کون نہیں جانتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جتنے بھی انبیاء و رسول آئے وہ سب کے سب متعین و محدود وقت اور علاقوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے چنانچہ ظاہر سی بات ہے کہ اس صورت میںذمہ داری بھی انتہائی محدود ہو جاتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام انسانوں کی طرف نبی و رسول بنا کر بھیجا اور قیامت تک کے لئے یہ منصب دے کر بھیجا اور ساتھ ہی اعلان کروا دیا گیا کہ وہ ”خاتم النبین ” ہے اب ان کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جس فرد کو تمام انسانوں کے لئے اور قیامت تک کے لئے مبعوث کیا گیا ہے اس کی ذمہ داری کتنی بڑی ہو گی۔بلاشبہ انہوں نے اس ذمہ داری کو احسن انداز سے نبھایا اس مقصد کے لئے جو قربانی انہیں دینا پڑی انہوں نے بخوشی دے دی۔حضور اقدس محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مکمل اور نیا نظام زندگی لے کر آئے جس کے بعد کسی اور نظام کی حاجت نہیں رہی۔آپ ۖ کو زندگی کے ہر شعبے سے متعلق وہ واضح ہدایات دے دی گئیں جس کے بعد کسی اور ہدایت کی ضرورت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اہل اسلام کے ہاں ہر سال ربیع الاول آتے ہی سیرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اجتماعات اور سیمینارز وغیرہ کا بھر پور انعقاد ہوتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ اجتماعات جس قدر روح شریعت کے مطابق ہو اسی قدرنفع مند ہوتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ولادت نبویۖ کی مناسبت سے بلاشبہ ایسی دینی مجالس کا انعقاد کیا جائے جو روح شریعت کے موافق ہو اور ان میں سیرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عملاً اپنانے کی بھر پور دعوت ہواور ان مجالس کے انعقاد کامقصد ہی سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اجاگر کرنا اور اس پر عمل درآمد کے تقاضوں کو سمجھنا ہو۔اس پرمسرت موقع کی مناسبت سے دنیا بھر کے مسلمان آج اپنے اپنے انداز میں عید میلاد النبیۖ کی خوشیاں مناتے ‘ درود وسلام کی پاکیزہ محفلیں سجاتے ‘ نعت و منقبت کی مجالس آراستہ کرتے ‘ شان رسالت ۖ میں ہدیہ تبریک پیش کرنے کے لئے جلسے جلوسوں کا اہتمام کرتے ‘ مساجد ‘ گھروں ‘ گلی محلوں اور کوچہ و بازار میں چراغاں کرتے اور غرباء و مساکین میں نذر ونیاز تقسیم کرتے ہیں۔ یوں تو ا للہ تبارک و تعالیٰ کے فرستادہ تمام نبی اپنا دین ‘ اپنی اپنی شریعت لائے جوبنیادی طور پر اسلام ہی تھا لیکن ان کی تعلیمات میں وقت گزرنے کے ساتھ تحریف وترمیم ہوتی رہی۔ تب خالق کائنات نے اپنی عنایت خاص سے ہر دور اور ہر مقام کے انسانوں کے لئے ہدایت و رہنمائی کا ا یسا اہتمام کیا کہ قیامت تک کوئی اس میں سرموتحریف نہ کر سکے ۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن حکیم کی صورت میں جو کلام ربانی اتارا گیا اس کی حفاظت خود اللہ پاک نے اپنے ذمہ لی اور ایسا اہتمام کیا کہ آج تقریباً ڈیڑھ ہزار سال گزرنے کے باوجود قرآن پاک کی ہر آیت لفظ بلفظ لاکھوں حفاظ کرام کے سینوں میں محفوظ ہے ۔ یہ اعجاز صرف قرآن کریم کا ہے ۔ دنیا کی کسی دوسری کتاب یا کلام کے بارے میں اس طرح کا دعویٰ تو کجا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ جس عظیم ہستی پر یہ کتاب مبین اتاری گئی ان کا ا پنا اسوہ حسنہ اس کے ایک ایک لفظ کی عملی تصویر ہے ۔ حضور پاک ۖ نے ریاست مدینہ جن خطوط پر استوار کی ‘ وہ اسلامی طرز معاشرت ‘ فلسفہ سیاست اور اصول سفارت کی درخشاں مثال ہے ۔ بدقسمتی سے الحاد و ارتداد کے موجودہ ماحول میں اسلام کی ابدی تعلیمات سے روگردانی کی بدولت آج عالم اسلام انتشار و افتراق کا شکار ہے ۔ پاکستان بھی کئی طرح کے اندرونی و بیرونی خطرات ‘ سیاسی و معاشی عدم استحکام اور معاشرتی و عمرانی ناہمواریوں سے دو چار ہے ۔ ایسے میں تاجدار حرم نے ریاست مدینہ کے لئے احکامات الہٰی کی روشنی میں طرز حکمرانی کے جو اصول وضع کئے تھے ان کی متابعت کی جائے تو پاکستان ایک ماڈل اسٹیٹ بن سکتا ہے ۔