وزیراعظم عمران خان

طاقتور کو قانون کے نیچے لانا ہوگا، وزیراعظم

ویب ڈیسک: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے جب تک زندہ ہوں قانون کی بالادستی  کیلئے جدوجہد کرتا رہوں گا، طاقتور کو قانون کے نیچے لانا ہوگا۔

اسلام آباد کنوننشن سینٹر میں قومی رحمت اللعالمین ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جو طاقتور ہوتا ہے وہ قانون سے خود کو بالاتر سمجھتا ہے، انصاف کی زیادہ ضروت غریب آدمی کوہوتی ہے، ریاست مدینہ میں میرٹ کا سسٹم تھا جو بھی باصلاحیت تھا وہ اوپر جاتا تھا، برصغیر کو فتح کرنا آسان تھا لیکن افغانستان کو فتح نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ادھر جاگیردانہ نظام نہیں ہے، جب تک زندہ ہوں رول آف لا کے لیے لڑتا رہونگا، طاقتور کو قانون کے نیچے لانا ہوگا۔ برطانوی جمہوریت میں ووٹ بکنے کا تصوربھی نہیں کیا جاسکتا، پاناما کیس میں کس طرف جھوٹ بولے گئے، یہ کیس برطانوی عدالت میں ہوتا سیدھا جیل میں ڈال دیاجاتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ ہم آج بھر پور طریقے سے نبی کریم ﷺ کے یومِ ولادت کا جشن مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں۔ ہمارے لیے مدینہ کی ریاست ایک رول ماڈل ہے جو پوری دنیا میں پھیل گیا تھا، نوجوان نسل کو محمد ﷺ  کی سیرت کے بارے مں علم ہونا چاہیے۔ اسلام تلوار کی زور پر نہیں بلکہ فکری انقلاب سے پھیلا تھا، مسلمان جب تک نبی کریم ﷺکی تعلیمات پر گامزن رہے کامیابی ان کا مقدر بنی اور جو لوگ منحرف ہوئے انہیں پستی نصیب ہوئی، حضرت محمدﷺ نے معاشرے میں اچھے، برے کے فرق سے متعلق آگاہ کیا، اسلام نے خواتین کو ان کے حقوق دیے، ریاست مدینہ میں میرٹ کا بالادستی تھی، قابلیت کی بنیاد پر لوگ اوپرآتے تھے

وزیرارعظم نے کہا پاکستان میں کسی چیز کی کمی نہیں ہےکہ قانون کی بالادستی اور متفرق قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی طرز معاشرت میں فکری انقلاب لاسکتے ہیں۔ ریاست مدینہ کے اہم ستون میں فلاحی ریاست کا تصور بھی ہے، حضرت محمد ﷺ نے دنیا کی پہلی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی اور ریاست نے نچلے طبقے کو بنیادی حقوق دیے ۔