شیرپائو اور مولانا کا تجربہ

صوبہ خیبر پختونخوا کے دو زیرک سیاستدان محترم آفتاب احمد خان شیرپائو اور محترم مولانا فضل الرحمن اس وقت پی ڈی ایم کا حصہ ہیں۔ ملک بھر کی میڈیا خصوصاً حزب اختلاف کے حق میں بولنے والوں کو یہ معلوم نہیں کہ تحریک انصاف سے نمٹنے کا جو تجربہ اور صلاحیت ان دو قائدین کے پاس ہے کوئی اس کے مقابلہ کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ آفتاب احمد خان شیرپائو کا شمار ملک کے ان گنے چنے سیاستدانوں میں ہوتا ہے جو سیاسی مسئلہ سے زیادہ سیاسی حل کا حصہ ثابت ہوئے ہیں۔ اپنی فہم وفراست سے انہوں نے ہمیشہ مشکل سے مشکل صورت حال سے چپ چاپ خود کو نکالا ہے اور کوئی بھڑک نہیں ماری۔ یہاں آپ کو یاد ہونا چاہئے کہ یہ آفتاب احمد خان شیرپائو اور ان کے ہی ساتھ سیاسی دنیا کو سمجھنے والے پرویز خٹک ہی تھے کہ جنہوں نے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف سرکار کی داغ بیل ڈالی۔ سیاسی مفاہمت مگر کسی کام نہ آئی۔ یاد رہے کہ اس کوشش میں آفتاب احمد خان شیرپائو نے اپنی ہی پارٹی کے اندر ساتھیوں کی ناراضگی مول لی۔ دوسری جانب یہی وہ وقت تھا کہ جب مولانا فضل الرحمن چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو اگر وقت پر نہ گرایا گیا تو یہ مرکز میں جماعتوں کے لئے ایک بڑا چیلنج لے کر ابھرے گی۔ مولانا صاحب کی ان باتوں کو مذاق میں اڑایا گیا۔ (ن) لیگ نے حکومت بنالی اور پنجاب پر اکتفا کرتے ہوئے مرکز کی ساری محبتیں پنجاب کی طرف موڑ دیں۔ دیکھا جائے تو ویسے بھی پختونخوا کے حوالہ سے (ن) لیگ کا ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے۔ ذرا سوچئے جس سیاسی سوچ کے آگے شیرپائو خان جیسی شخصیت ہاتھ کھڑے کرے وہ کیا سوچ ہوگی۔ ظاہری بات ہے وہ مسئلہ سیاست کا تو ہو ہی نہیں سکتا۔ اس طرح محترم آفتاب احمد خان شیرپائو کو ملک کے پہلے سیاستدان کا اعزاز حاصل ہے کہ جس کو عملی تجربہ تحریک انصاف کو ڈیل کرتے ہوئے حاصل ہے اور وہ بھی اقتدار میں ساتھ بیٹھنے کا ویسے تو جماعت اسلامی بھی تھی لیکن وہ اس وقت پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ہیں۔ اس لئے وہی جانتے ہیں کہ ان پر سیاسی وار کب، کہاں اور کیسے کیا جا سکتا ہے۔ وہ آپ کو یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ اس وار کے نتائج کیا نکلیں گے۔ دراصل ملک بھر میں تو تحریک انصاف کی حقیقی آمد خیبرپختونخوا کے پانچ سالہ اقتدار کے بعد ہوئی۔ اس طرح جیسے کہ ذکر کیا گیا کہ مولانا صاحب کے ساتھ افرادی قوت کا اعتماد اور مرکز میں طاقت کے ایوانوں کا تجربہ ان پر یہ عیاں کرانے کے لئے کافی ہوتا ہے کہ کون سے بادل برسنے والے ہیں اور کون سے بادل آکر بن برسے جانے والے ہیں۔ حال ہی میں (ن) لیگ اور ن لیگ کے نقطہ نظر کے حامی حلقوں نے جس طرح ملکی ادارے کی پوسٹنگ ٹرانسفر پر ہڑبونگ مچائی پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور گلگت کے باشندوں کو کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ ان کے لئے یہ انتظامی قوانین کی ایک معمولی سقم تھی۔ ان کے بقول دراصل رولز آف بزنس مطلب جس سے دفاتر کے اصول طے ہوتے ہیں جن قوانین کے تحت سیکرٹریٹ چلتے ہیں وہ کچھ تبدیل ہوئے ہیں۔ اس کی لمبی تمہید ہے لیکن ان کا ماننا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل تک کے عہدوں تک کے لئے وزیراعظم اور صدر سیکرٹریٹ کی شمولیت اب ضروری ہے۔ یہ صرف ایک انتظامی تقاضا ہے اور کبھی کبھی یہ معاملات اندر ہی اندر بحث کرکے نمٹا لئے جاتے ہیں۔ اس لیئے لگ بھگ ایک ہفتے کے بعد یعنی آج کے دن تک اس معاملہ کا رفع دفع ہونا ویسے تو بنتا ہے۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ جب تک آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں جس نے جو جگہ چھوڑنی ہے وہ چھوڑ چکا ہو۔ ہمیں بہرحال اس بات کا افسوس رہے گا کہ ہمیں یہ دن بھی دیکھنے پڑے۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ جب پختونخوا سے تعلق رکھنے والے قائدین اس سیاسی کلچر کی نشاندہی کر رہے تھے تو آپ طاقت کی کرسیوں پر براجمان ہوکر سب اچھا کی رپورٹ دے رہے تھے۔تب آپ کو سب ہراہرا سوجھ رہا تھا۔ لیکن آج آپ طاقت میں نہیں تو جمہور کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔اور ویسے اس بات کی کیا گارنٹی کہ آپ دوبارہ اقتدار کے کھیل میں شامل ہوکر ہمیں بھول نہیں جائیں گے۔ جب بھی ان کو کچھ نظر آنے لگتا ہے تو جناب مولانا صاحب کے ساتھ آدھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن مولانا صاحب بھی زیرک سیاستدان ہیں وہ پوسٹنگ ٹرانسفر سے زیادہ نظام پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ پشاور میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کے دوران میں نے ان کا ایک جملہ سنا۔ اس جملہ کی ان کی نظر میں اہمیت اتنی تھی کہ ادائیگی کے بعد کچھ لمحوں کے لیئے رک گئے۔ انہوں نے کہا،”پاکستان کو جنات کی رہنمائی میں چلا رہے ہیں۔جادو ٹونے کی بنیاد پر ملک کو چلا رہے ہیں۔یہ ملک جنات کے لئے نہیں بنا تھا۔یہ ملک جنات سے رہنمائی حاصل کرنے کے لئے نہیں بنا تھا۔ جنات نے بھی ہم سے رہنمائی لے لی۔”اس جملہ میں غور طلب الفاظ”جنات نے بھی ہم سے رہنمائی لے لی”کے ہیں۔ گویا مولانا نے ”جنات”سے رابطوں کا اعتراف کر لیا کیونکہ جنات کی اصطلاح ہمیشہ سے ہمارے ہاں طاقتور حلقوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ اس اجتماع سے قبل مولانا صاحب کے ساتھ امریکی وفد کی ملاقات اس ملاقات کے بعد امریکی وفد کی (ن) لیگ کے رہنمائوں سے ملاقات اور آبپارہ میں نئی ٹیم کی سربراہی کے لئے کراچی سے جنرل صاحب کی آمد، بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ آرمی چیف کی شفقت اگر اس طرح کی کڑیوں کو ملا کر دیکھا جائے تو موسم کی تبدیلیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دراصل پہلے ٹی وی ریٹنگ کے لئے یہ حربے آزمائے جاتے تھے اور اب ” کلک ””لائیک” ”سبسکرائیب” ”فالو”اور ٹرینڈنگ کا شاخسانہ ہیں۔ واقفان حال کا ماننا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے بیچ کا ”شدید تنازغہ”پیالی میں طوفان سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ ہاں البتہ اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ اس سیٹ اپ کو سنبھالنے کے لئے شدید فکر مندی لاحق ہے۔ ایسے میں اس طرح کے نان ایشوز سردرد بڑھا سکتے ہیں جو یقینی طور پرموجودہ حکومت کے لئے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں تو کیا اس کا فائدہ (ن) لیگ کو اقتدار کی صورت میں ہوگا اس بات پر جگت سے ہی جواب ملتا ہے۔