کیا سے کیا کہہ گئے دیکھتے دیکھتے

دو تین دن ہوئے ہیں عرض کیا تھا کہ ”آئی ایم ایف اور ہماری سرکار میں جاری مذاکرات کی”کامیابی” کے حوالے سے کئے جانے والے دعوئوں نے اگر عملی صورت اختیار کی تو اس کی قیمت عوام کو چکانا پڑے گی’ ایک بڑے صاحب نے ٹیلی فون پر کہا۔ آپ بلاوجہ تنقید کرتے اور حقائق کو مسخ کرتے ہیں۔ معاملات کو اپوزیشن کی محبت میں نہیں حقائق کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنے والے حکومتی وفد کے سامنے ساری صورتحال ہے تسلی رکھیں ایسا کچھ نہیں ہوگا جو آپ سوچ اور لکھتے آرہے ہیں۔ عرض کیا تھا کہ خدا کرے ایسا ہو لیکن ہوگا نہیں۔ خیر ارباب اختیارکو دوسرے قارئین کی طرح شکوہ کرنے اور اپنا موقف پیش کرنے کا حق ہے لیکن اس کا کیا کیجئے کہ آئی ایم ایف سے مذاکراتی عمل کے پہلے ہفتہ کے دوران تین بار بجلی کے فی یونٹ قیمت میں اضافہ ہوا اور اسی دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں طوفان کی طرح بڑھ گئیں ۔ تحریر نویس اب بھی دستیاب معلومات پر قائم ہے کہ بجلی کی قیمت میں تین میں سے دو اضافے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لئے ہوئے اور مزید فی یونٹ دو روپے 65پیسے اضافہ ہوگا یہ اضافہ فوری طور پر مقصود ہے ۔ اب اطلاع ہے کہ نیپرا نے اس اضافے کے لئے سمری بھجوا دی ہے اور سی پی پی اے میں 27اکتوبر کو اس درخواست کی سماعت ہو گی۔ مزید عرض کر دوں ۔ آئی ایم ایف کا دبائو ہے کہ روپے کی ڈالر سے شرح تبادلہ 180 روپے کی جائے اور بجلی کے فی یونٹ نرخ میں دسمبر 2021 تک مزید تین روپے کا اضافہ کیا جائے۔ یاد رہے یہ اضافہ دو روپے 65پیسے کے اس اضافے کے علاوہ ہو گا جس پر سی پی پی اے نے 27اکتوبر کو غور فرمانا ہے ۔ عالمی مالیاتی اداروں کے ”منظور نظر” افراد کو تیسری دنیا میں مالیات کے شعبہ میں اہم منصبوں پر فائز کرنے کے پیچھے مقاصد یہی ہوتے ہیں کہ ان اداروں کی شرائط پر قرضہ حاصل کر لیا جائے اور بعد ازاں یہ ڈگڈی بجایا جائے کہ معاہدہ کرنے والوں نے اپنے سابق مالک ادارے کے مفادات پر ملک کے مفاد کو قربان کر دیا۔ ہم پچھلی کئی دہائیوں سے یہی دیکھ سن رہے ہیں۔ ایک بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اب یہ پتہ نہیں چلتاکہ سچ کیا ہے کہ اور جھوٹ کیا۔ مثال کے طور پر اکتوبر 2011ء سے 2018ء میں اقتدار میں آنے کے درمیانی عرصہ میں ہمیں بتایا جاتا رہا کہ پاکستان کے چوری ہونے والے دوسو ارب ڈالر بیرون ملک پڑے ہیں۔ ایک نوجوان وزیر تو حالت”وجد” یہ کہا کرتے تھے جس دن عمران خان اقتدار میں آئیں گے دوسو ارب ڈالر بیرون ملک سے واپس لا کر سو ارب ڈالر قرضہ دینے والوں کے منہ پر ماریں گے اور سو ارب ڈالر ملک کی تعمیر و ترقی پر خرچ ہو گا۔جناب نواز شریف علاج کے لئے بیرون ملک روانہ ہوئے تحریک انصاف کے سابق محقق نے ا پنے ٹی وی پروگرام میں دعویٰ کیا کہ نوازشریف 500 ارب ڈالر ادا کرکے سمجھوتے کے مطابق باہر گئے ہیں۔ محقق صاحب نے انکشاف کیا کہ ان میں چار سو ارب ڈالر سٹیٹ بنک میں جمع کروائے گئے باقی پتہ نہیں کہاں گئے اس خرد برد پر ایک خاص جگہ تشویش پائی جاتی ہے ۔میں نے تبھی یہ سوال ا ٹھایا تھا کہ اگر نواز شریف واقعی پانچ سو ارب ڈالر دے کر گئے ہیں تو خرد برد والی رقم منہا کرکے زرمبادلہ 450 ارب ڈالر ہونا چاہئے ۔ حکومت بیرونی قرضے اتارے اور باقی رقم کام میں لائے ۔ مگر ایسا نہیں ہوا کیونکہ نواز شریف تو پچاس روپے کے اسٹام پیپر کی لکھی گارنٹی پر گئے تھے ۔ سچ یہ کہ اگر سوشل میڈیا کی برآمدگیوں پر یقین کر لیا جائے تو یہ تو مجموعی طور پر دس ارب ڈالر کے قریب ہیں نواز شریف والی رقم کے علاوہ اب مجھے نہیں معلوم کہ آصف علی زرداری 1000 ارب ڈالر کی ادائیگی کے وعدے سے پیچھے کیوں ہٹے البتہ فقیر راحموں کا دعویٰ ہے کہ جس دن زرداری نے ایک ہزار ارب ڈالر دینا تھا سرکاری نمائندہ حفاظتی دستوں کے ساتھ رقم وصول کرنے پہنچے تو انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دیئے گئے پانچ سو ارب ڈالر میں سے 95ارب ڈالر خرد برد ہوئے ہیں جب تک حکومت وہ برآمد نہیں کرتی میں بھی پیسے نہیں دوں گا۔آپ ہنس رہے ہوں گے کہ یہ کہانیاں ہیں۔ مگر کیا کریں یہ کہانیاں 90فیصد سوشل میڈیا کی ہیں اور دس فیصد الیکٹرانک میڈیا کی سوشل میڈیا تو چلیں شتر بے مہار ہے لیکن الیکٹرانک میڈیا کے سایہ فروشوں کو لمبی لمبی چھوڑنے سے قبل یہ تو سوچ لینا چاہئے کہ اس ”چھوڑا چھاڑی” کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ آپ کویاد ہو گا کہ ہمارے محبوب وزیر اعظم اپنے زمانہ اپوزیشن میں دعویٰ کیا کرتے تھے کہ ملک میں روزانہ کی بنیاد پر بارہ ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے ۔ اب تین سال سے وہ وزیر اعظم ہیں یقیناً انہوں نے بارہ ارب روزانہ والی کرپشن بند کروادی ہو گی۔ اس رقم کا حساب یہ ہے کہ ایک سال میں 360 ارب روپے کرپشن سے بچائے گئے ۔ سال میں 3920 ارب روپے اور تین برسوں میں مجموعی طور پر 11760 ارب روپے ۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ 11760 ارب روپے کی رقم گئی کہاں؟۔ آپ اس سوال پر غور و فکر کے ساتھ دل پشوری کیجئے یہاں اگلے روز وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان سے ہر سال 1000 ارب ڈالر چوری ہو کر آف شور کمپنیوں میں چلا جاتا ہے ۔وزیر اعظم کو کوئی بتائے کہ ہمارا کل بجٹ ہی 48 ارب ڈالر ہے اور جی ڈی پی 280 ارب ڈالر ۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ 1000 ارب ڈالر سالانہ چوری ہوتا ہو۔ اچھا اگر چوری ہوتا ہے تو تین سال میں تین ہزار ارب ڈالر اس حکومت نے چوری ہونے سے کیوں نہ روکا؟معاف کیجئے گا جناب گڑ بڑ ہو رہا ہے بیرون ملک والے 200 ارب ڈالر واپس نہیں آئے ۔ بارہ ارب روزانہ والی کرپشن کا 11760 ارب روپے کا کچھ پتہ نہیں۔ نوازشریف والے پانچ سو ارب ڈالر گم ہیں کسی اندھے کنویں میں اسی کنویں میں لانچوں والی رقم ہے اب یہ 1000 ارب ڈالر سالانہ کی چوری ۔ نرم سے نرم الفاظ میں یہ کہ ان اعداد و شمار پر غور کرتے ہوئے ٹھنڈے پانی کا ایک جگ اپنے پاس رکھ لیجئے گا دل کی دھڑکن تیز ہونے لگے تو کچھ وقت کسی اور کام میں صرف کیجئے۔