مشرقیات

کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا ۔ آج جدھر دیکھیں مغرب کی نقالی اور اپنے تہذیب کی پامالی کی ہنس کی چال مروج ہے ۔ ہم یہ نہیں دیکھتے اور یہ نہیں سوچتے اس پر کبھی غور نہیں کرتے اس حقیقت پر توجہ ہی نہیں کہ تہذیب جب دوسری تہذیب کے اثرات کو قبول کرتی ہے تو اپنا آپ کہیں کھو دیتی ہے ذرا دیکھیں توایسا ہی ہمارے ساتھ بھی ہو رہا ہے ۔اسکی ابتدا روشن خیالی کے نام سے ہوئی جس نے مرد اور عورت دونوں پر یکساں اثرات مرتب کیے۔خاندانی روایت مجروح ہوئیں، حقوق نسواں کی آڑ میں عورت کو آزادی کی چاہت ہوئی تو اپنی روایات اور اقدار کو بھلا کر شوہر پرست بیوی سے پبلک پسند لیڈی اور چراغ خانہ سے شمع محفل بننے کا سفر شروع ہوا برابری مرد و زن کے نعرے نے ترقی تو خیر کیا دکھائی؟ ہونٹوں پہ لا لی، کانوں میں بالی اور چال متوالی لئے ٹک ٹاک بناتے لڑکے اور خود کو سبھا کی پریاں سمجھتی مغربی وضع و قطع میں حجاب تودرکنار دوپٹے سے بھی بے نیاز لڑکیاں نظر آئیں جو بسکٹ بھی ناچ کر اور گاکر بیچتی ہیں۔
ان آزادی افکار، لادینیت ،نئی روایات ،خود غرضی ،بے حسی ،مادیت پرستی اور بے حیائی کا نتیجہ میری مرضی کی صورت میں نکلا برابری مردوزن کا نتیجہ اپنا کام خود کرو کی صورت میں نکلا۔وہ تہذیب جو چودہ سال پہلے دین اسلام نے ہمیں سکھلائی وہ زوال پذیر ہوئی اور وہ پردہ جو مومن عورت کی پہچان تھا کے اس کے سبب وہ دور جہالت میں بھی پہچان لی جاتی تھی کہیں کھو گیا بلکہ فرنگیانہ سحر میں ڈوب کر بے حسی کی نظر ہوگیاجو حالات سامنے آرہے ہیں ان سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آزادی افکار ابلیس کی ایجاد ہے۔ تہذیب حاضر کی صناعی جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے اور آزادی نسواں دراصل باطن کی گرفتاری ہے۔حجاب یا نقاب کو مذاق سمجھنے والے یا اولڈ فیشن کہنے والے افراد کے لئے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ حجاب ایک کپڑے کا ٹکڑا نہیں پوری تہذیب ہے جو با حیا عورت کو معاشرے میں مقام دینے کے لئے رائج کیا گیا ہے۔یہ نئی تہذیب کا ایجنڈا ، بے حجابی اور بے حیائی کو پھیلانے کے لئے تیار کیا گیا ہے اور دور قدیم کی تہذیب کی نشانی ہیجو دور جہالت تھا۔اپنی تہذیب سے منہ نہ موڑیں۔جہالت سے دوبارہ رشتہ نہ جوڑیں کیونکہ بقول اقبال
اس قوم میں ہے شوخی اندیشہ خطرناک
جس قوم کے افراد ہوں ہر فکر سے آزاد
گو فکر خدا داد سے روشن ہے زمانہ
آزادی افکار ہے ابلیس کی ایجاد