تیرے سہرے توں میں واریاں

صورتحال کچھ ایسی ہو گئی ہے کہ اب عام بے ضرر قسم کے موضوع پربھی قلم اٹھاتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے کہ کہیں کوئی اسے بھی” ذاتیات” پرمحمول کرکے ٹرولنگ نہ شروع کر دے ‘ اور ہم ٹھہرے سادہ سے کمزور بندے ‘ ویسے شکر ہے کہ وہ جو خصوصاً اسلام آباد اور پنجاب کے صحافیوں پر”لفافہ” ہونے کی بھبتی کسی جاتی ہے ‘ کم از کم پشاور میں پہلے تو ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے اور اگر ہو بھی توشاید بہت ہی مخصوص بلکہ محدود ہی ہو گی ‘ اس لئے اس خبر کی بات کرنے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی جو گزشتہ روز پہلے سوشل میڈیا پر سامنے آئی اور بعد میں اخبارات کے صفحات کی زینت بنی ‘ یعنی شادی کے موضوع پر ایک بیان میں جب یہ سوال سامنے آئی کہ شادی بیاہ کے لئے بہترین پاکستانی”پاپ” گانا کونسا ہے ؟ تو اس حوالے سے جوابات میں الٹا سوال پوچھے گئے کہ شادی کس کی ہے ؟ بعض صارفین نے لٹھے دی چادر اور کچھ دوسرے ”سیاسی” گانوں کا حوالہ دیا ‘ تاہم اصل سوال کسی نے بھی نہیں پوچھا کہ شادی بیاہ کے لئے آج تک ”پاپ” گانا تو کسی نے نہ لکھا ‘ نہ گایا اور نہ کمپوز کیا ‘ البتہ ایسے موقعوں پر فوک گیت یعنی سینہ بہ سینہ چلتے ہوئے نسلاً بعد نسلا مختلف علاقوں میں گائے جانے والے گیت ضرور موجود ہیں ‘ جو گھروں میں شادی بیاہ کی تقریبات کا آغاز ہوتے ہی گھر کی خواتین اپنے اپنے علاقے کی روایات کے مطابق پرات اور گھڑے پر ہاتھوں پر مخصوص انداز میں چلاتے ہوئے یہ گیت گاتی ہیں ‘ یعنی یہ گانے فوک انداز میں گائے جاتے ہیں ‘ پاپ موسیقی تو ابھی کل ہی کی بات ہے ‘ تاہم سوال کرنے والی ہستی کا بھی کوئی قصور نہیں ہے کیونکہ ان کا تعلق جس معاشرے سے ہے وہاں فوک موسیقی کو دفن ہوئے نہ جانے کتنا عرصہ بیت چکا ہے اور اب وہاں صرف ”پاپ” ہی رہ گیا ہے ‘ خیر یہ سوال اتنا مشکل بھی نہیں جس کا جواب نہ دیاجا سکے کیونکہ یہ جو ہمارے ہاں نئی نسل کے بعض خود ساختہ موسیقار اور گلوکاراب ایک دو مشہور برانڈز کی مشروبات کے نام پر قائم موسیقی کے سٹوڈیوز میں کہیں فوک اور کہیں مشہور نغموں کو ری شیپ
( Re – Shape) کرکے انہیں بزعم خویش”پاپ” طرز گائیکی سے آشنا کر رہے ہیں اور ”منہ ٹیڑھا کرکرکے” اچھل کود ‘ ورنہ جھوم جھوم کر ان پرانے گیتوں کو ”پاپی” کرنے میں اہم خدمات انجام دے رہے یں ‘ ان سے کوئی بعید نہیں کہ یہ صدیوں گائے جانے والے ان شادی بیاہ کے نغموں کو پاپ طرزوں میں ڈھال کر سوال کرنے والی ہستی کی خواہش پوری نہ کر سکیں ‘ کیونکہ اب تو ہم اپنا قومی ترانہ بھی نئے انداز میں جدید آلات موسیقی کے ذریعے نئی شکل میں ڈھالنے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں ‘ اس لئے اگر ماضی کے نغمات کو پاپ بنانے کے لئے جدید الیکٹرانک آلات موسیقی کی مدد سے نئی طرزوںمیں ڈھالا جائے تو کیامضائقہ ہے ‘ اس حوالے سے چند ایک ایسے ہی گیتوں کی نشاندہی کر دی جائے جن پر ”پاپی” طرز کی طبع آزمائی کی جا سکتی ہے اور ابتداء ہم اپنے ہاں رائج ایک ا یسے گیت سے کرتے ہیں جو نہ صرف پشاور بلکہ پنجاب میں بھی نسلوں سے شادی بیاہ کے مواقع پر گھر کی خواتین گایا کرتی تھیں ‘ یہ گیت کچھ یوں ہے کہ
تیرے سہرے توں میں واریاں
وے سہرے والے توں بلہاریاں
وے جیوے بنڑرا ‘ عمراں ساریاں
اگرچہ اس حوالے سے بعد میں ایک پنجابی فلم میں ایک ایسا گیت شامل کیا جس نے نہ صرف دیکھتے دیکھتے شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا ‘ بلکہ اب اسے بھی فوک کا درجہ مل گیا ہے اور اس گیت کے الفاظ تھے
دیساں دا راجہ ‘میرے بابل دا پیارا
نی ویر میرا گھوڑی چڑیا
پشاور کے معاشرے میں کچھ مخصوص گیت ایسے بھی گائے جاتے تھے جن کو صرف خواتین کے مخصوص حلقوں تک محدود رکھا جاتا تھا اور ایسے گیتوں کو ” سٹھنیاں” کہتے تھے۔(اب معلوم نہیں گائے جاتے ہیں یا نہیں) مگر ان کے الفاظ کو خوف فساد خلق کے زمرے میں شامل ہونے کی وجہ سے ضبط تحریر میں نہیں لایا جاسکتا ‘ رہ گئی پشتو زبان تو اس حوالے سے بھی سینہ بہ سینہ چلنے والے لاتعداد گیت موجود تھے جو خواتین گھروں کے اندر ہی پانی کے خالی گھڑے اور ساتھ میں آٹا گوندھنے والے سٹیل کے پرات(خانک یا شانک) کو الٹا کر گاتی تھیں بعد میں ہمارے مرحوم ساتھی یونس قیاس کے لکھے ہوئے پشتو فلم کے ایک گانے نے بھی فوک کی صورت اختیار کرلی جس کے بول ہیں۔
شپہ دہ نکریزو جینکئی طنبل وھی نہ
خلق دہ ھر خوا نہ پہ وادہ راغلی دی نہ
ایسے یہ نغمے ملک میں رائج دیگر زبانوں میں گائے جاتے ہوں گے یعنی سندھی ‘ بلوچی وغیرہ میں تاہم ان کے بارے میں ہمیں زیادہ معلومات نہیں ہیں اور چونکہ سوال صرف پاکستانی گانوں کے حوالے سے کیا گیا ہے اور ان میں بھارت کا کوئی ذکر نہیں ہے اس لئے بعض ایسے بھارتی فلموں کے نہایت ہی مشہور ہو جانے والے ان گیتوں کا ذکر اگرچہ ضروری نہیں تاہم مقبولیت کے حوالے سے ان گیتوں کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا ‘ مثلاً شاہ رخ خان اور کاجول کی مشہور فلم دل والے دلہنیاں لے جائیں گے کا یہ گیت تو اب بھارت اور پاکستان میں شادی بیاہ کے موقعوں پرعام گایا جاتا ہے جس کے بول ہیں۔
مہندی لگا کے رکھنا ‘ سہرہ سجا کے رکھنا
لینے تجھے او گوری ‘ آئے گا تیرا سجنا
جہاں تک بعض لوگوں کی جانب سے ایک بہت پرانے پنجابی گیت لٹھے دی چادر ‘ اتے سیلٹی رنگ ماہیا کا تعلق ہے تو یہ شادی بیاہ کے حوالے سے تو نہیں البتہ ایسے موقعوں پر گایا ضرور جاتا تھا ‘ البتہ ایک اور بھاریت فلم جس میں سلمان خان اور مادھوری ڈکشٹ نے کام کیا تھا’ اس کا ایک گیت بھی بہت مشہور ہوا تھا جس کے بول یہ تھے۔
دیدی تیرا دیور دیوانہ
ہائے رام کڑیوں کو ڈالے دانہ
اب جس ہستی نے ”پاپ” طرزوالے شادی بیاہ کے گیتوں بارے معلومات طلب کی ہیں ان سے یہ سوال بھی کیا جارہا ہے کہ ”شادی کس کی ہے”ساتھ ہی ان کے دو بیٹوں کا بھی ذکر ہورہا ہے تو پھر یہی گیت بہتر رہے گا کہ دولہا کے ساتھ دیور کا تذکرہ بھی جس میں موجود ہے اور اس سے بھی کام چلایا جا سکتا ہے ۔