نرالی منطق

ملکی معیشت کی بحالی اور مہنگائی پر قابو پانے کے لئے اقدامات جس سنجیدہ عمل کے متقاضی ہیں اس حوالے سے اقدامات سے قطع نظر بعض اوقات حکمرانوں اور سرکاری عہدیداروں کا بچگانہ طرز عمل قومی سطح پرتعجب اور تنقید کا باعث ہے ناچ نہ جاے آنگن ٹیڑھا کے مصداق اقدامات و عوامل عوام و خواص کے لئے پریشانی کا باعث امور ہیں تو حزب اختلاف کواستہزاء و تنقید کا موقع مل جاتا ہے جس سے حکومت کی ساکھ کامتاثر ہونا فطری امر ہے وزیر اعظم کو اس غیر سنجیدہ طرز عمل کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے سٹیٹ بینک کے گورنر کے ذمہ دار عہدے پر فائز عہدیدار کا حالیہ بیان مضحکہ خیز اور سمجھ سے بالاتر ہے جس کا بڑے پیمانے پر مذاق اڑایا جارہا ہے ۔اگر ملک کے ایک اہم معاشی عہدے پر فائز شخص معیشت کے انتہائی سنجیدہ پہلو پر ایک غیر سنجیدہ بات کرے تو یقینا بات صرف ہنسی مذاق تک نہیں رہتی بلکہ اس پر تنقید فطری امر ہے ۔گورنر سٹیٹ بینک کا یہ کہنا کہ کہ ایکسچینج ریٹ کے اوپر جانے سے کچھ لوگوں کا نقصان ہوتا ہے لیکن کچھ لوگوں کا فائدہ بھی ہوتا ہے انتہائی غیر سنجیدہ بیان ہے۔حیرت انگیز بات ہے اگر ان کی سمجھ بوجھ کا یہ معیار ہے اور یہ آئی ایم ایف سے پاکستان کی طرف سے مذاکرات کریں تو اس کے نتائج و اثرات کیا سامنے آئیں گے اس کا اندازہ لگا کر ہی جھر جھری آتی ہے خیال رہے کہ پاکستان ادارہ برائے شماریات کے مطابق جنوری 2020کے بعد سے پاکستان میں مہنگائی کی شرح 17اعشاریہ آٹھ فیصد رہی۔مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہر چیز بہت زیادہ مہنگی ہو چکی جس کا مطلب ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو زیادہ پیسے بھیجنے پڑتے ہیں۔ اس لیے اس کی حتمی نتیجہ پھر صفر ہی آتا ہے روپیہ گرنے سے قرضوں میں کتنا اضافہ ہوتا ہے، ملک پر قرضوں کے بوجھ میں کتنا اضافہ ہوتا ہے ان سوالات کا جواب کوئی مشکل نہیںڈالر کی قیمت بڑھنے کی کئی ایک وجوہات ہیں جن میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ روپے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ کرنسی کی مضبوطی کے پیچھے سونے کے ذخائر ہوتے ہیں۔ پاکستان کے پاس صرف چار ارب ڈالر کے سونے کے ریزرو ہیں جبکہ اس کی اکانومی کے حجم کے حساب سے اس کے پاس کم از کم30ارب ڈالر کے سونے کے ریزرو ہونے چاہییں۔ دوسرا یہ کہ سٹیٹ بنک کو ڈالر کو ڈی ریگولیٹ کرنا چاہیے تاکہ مارکیٹ اپنی ضروریات کے مطابق خود کو ایڈجسٹ کر لے۔ایک عام آدمی جو اکانومی کے اتار چڑھا کو نہیں سمجھتا۔ وہ بس یہ سمجھتا ہے کہ اس کی گزر اوقات باآسانی ہو رہی ہے یا نہیں بجائے عام آدمی کے مسائل کا ادراک اور ان کے حل کی سعی کے اگر اس طرح کا رویہ اپنایا گیا تو اس ملک کا عام آدمی کبھی بھی مسائل کی دلدل سے نہیں نکل سکتا بلکہ خدانخواستہ ان کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوگا۔
مدعی سست گواہ چست
وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ افغانستان کے دورے کے موقع پرکہا ہے طالبان کو سوچنا چاہیے کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ کیسے تعلقات کو بہتر بنا سکتے ہیں جبکہ ابھی کسی نے افغان حکومت کو تسلیم نہیں کیا، طالبان کو بتایا کہ کون سے اقدامات کرنے سے دنیا انہیں تسلیم کرے گی۔پاکستان کا اکیلے تسلیم کرنا ان کے لیے فائدہ مند نہ ہوگا، افغانستان کو آئسولیٹ نہ کیا جائے ، ہم اس کوشش میں کامیاب ہیں، طالبان چین، روس، ایران میں بات چیت ہورہی ہے جو افغانستان کے لیے اچھی ہے، افغانستان میں طالبان بھی ناکام ہوئے تو مسائل بڑھیں گے۔پڑوسی ملک افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی مساعی پوشیدہ نہیں البتہ افغان حکومت اکثر معاملات پرپاکستانی مشوروں پر کان دھرتی دکھائی نہیں دیتی اور اپنی روش بدلنے پرتیار نہیں اس کے باوجود پاکستان کی ہمسایہ ملک کے معاملات میں بہتری کی مساعی اپنی جگہ درست ہیں لیکن اگر طالبان حکومت کا رویہ یہی رہا تو پھر پاکستان کے لئے بھی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں پاکستان کو طالبان حکومت پر واضح کر دینا چاہئے کہ وہ دنیا داری اور مصلحت کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کریں اپنے رویئے میں تبدیلی لائیں۔پاکستان تادیر ان کی وکالت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
محروم طبقے کے مسائل پر توجہ
افراد باہم معذوری کو سینیٹ ،قومی و صوبائی اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں میں نمائندگی دلوانے کے لئے منعقدہ کنونشن ایک رسمی کارروائی ہونے کے باوجود اس لحاظ سے مثبت اقدام ہے کہ کم از کم اس حوالے سے آواز تو بلند کی گئی جو بے شک صدالبصحرا ہی کیوں نہ ثابت ہو ۔ بہرحال اس کی ضرورت اور اہمیت سے انکار ممکن نہیںبتایا گیا ہے کہ کنونشن کے انعقاد کا مقصد یہ تھا کہ افراد باہم معذوری ،خواجہ سرا اور خواتین کے سیاسی اور انتخابی حقوق کیلئے آواز اٹھائی جائے اور انتخابی عمل میں شمولیت کے ساتھ ساتھ ا ن کو قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلیوں او ر مقامی حکومتوں میں نمائندگی کا موقع دیا جائے تاکہ یہ لوگ اپنے مسائل خود حل کریں او ر اعلی حکام تک اپنے مسائل پہنچانے میںانہیں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اس حوالے سے جلد از جلد قانون سازی کی جائے تاکہ ان کے مسائل فوری طور پر حل کرنے میں ان کو کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے توقع کی جانی چاہئے کہ محولہ کمزور اور محروم طبقے کے مسائل پر توجہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے گا اور ان کے حل کے لئے ضروری قانون سازی او رعملی اقدامات کئے جائیں گے۔