فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا امتیازی فیصلہ

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)ہر بار اپنے اجلاس کے بعد پاکستان کے حوالے سے اعلان کرتی ہے کہ پاکستان نے بہتری دکھائی ہے لیکن مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاہم بدستور نگرانی کی گرے لسٹ میں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جون میں ایف اے ٹی ایف کے ریجنل شراکت دار اے پی جی کی نشان دہی پر ایکشن پلان میں بڑی حد تک منی لانڈرنگ کے مسائل تھے۔ اس سے قبل پاکستان کے ایکشن پلان میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مسئلے پر توجہ شامل تھی، اور اس کے27میں سے26نکات پر عمل کیا تھا۔ایک جانب اگرچہ بہتری کا اعتراف کیا جارہا ہے وہاں دوسری طرف تحفظات بھی ہیں اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئے گروپس کی سینئر قیادت کے خلاف تفتیش اور سزائیں دینے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ایف اے ٹی ایف کے صدر نے کہا کہ یہ تمام تبدیلیاں حکام کو کرپشن، دہشت گردی سے تحفظ اور جرائم سے مستفید ہونے والے مجرموں کو روکنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا شکرگزار ہیں کہ وہ اس عمل پر بدستور پرعزم ہیں۔مارکوس نے کہا کہ تبدیلی کے لیے آرا شامل کی جائیں گے اور ایف اے ٹی ایف کا اگلا اجلاس اگلے سال فروری میں ہوگا۔پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے لیے مودی حکومت کی یقین دہانی سے متعلق بھارتی وزیر کے دعوے پر پوچھے گئے سوال پر ایف اے ٹی ایف کے صدر نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ٹیکنیکل ادارہ ہے اورہم اپنے فیصلے اتفاق رائے سے کرتے ہیں اور فیصلہ سازی میں صرف ایک ملک نہیں ہوتا۔خیال رہے کہ ایف اے ٹی ایف کے گزشتہ اجلاس کے بعد جولائی میں بھارتی خارجہ امور کے وزیر جے شنکر نے کہا تھا کہ مودی کی سربراہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)حکومت نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کو یقینی بنایا ہے۔اس دعوے کی حقیقت کیا ہے اس سے قطع نظر پاکستان کے حوالے سے عالمی برادری کے شکوک و شبہات ماضی کے حالات و واقعات کے حوالے سے جو بھی تھے اب جبکہ پاکستانی حکومت ہر حوالے سے مسلسل سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے جس کا اعتراف خود ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں میں بھی ہوتا ہے تو پھر پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھنے کا اقدام امتیازی سلوک کے سوا کچھ نہیں ایف اے ٹی ا یف جس طرح پاکستان کو معاشی و اقتصادی طور پر دبائو میں رکھنا چاہتا ہے اس کے لئے حیلے بہانے تراشے جارہے ہیں وگر نہ حقیقت تو یہ ہے کہ طاغوتی قوتوں نے ٹھان لی ہے کہ پاکستان کا معاشی و اقتصادی طور پر ناکہ بندی کرکے اسے کمزور کیاجائے اور ان سے شرائط منوانے میں آسانی ہو بدقسمتی سے پاکستان اپنے معاشی حالات کے ہاتھوں آئی ایم ایف کی چنگل میں ہے اور ملک میں مہنگائی افراط زر اور روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہوتی جارہی ہے جو کسی بھی ملک کے حوالے سے تشویش کی بات ہوتی ہے اسی طرح سے ہی دنیا کے ممالک میں تخریب اورتبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ایسا لگتا ہے کہ طاغوتی قوتوں کا یہی ایجنڈا ہے کہ پاکستان کو بھی خدانخواستہ انہی حالات سے دو چار کیا جائے ۔ جہاں تک پاکستانی اقدامات کا سوال ہے پاکستان مسلسل اقدامات کر رہا ہے جن چند نکات کو پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اس سے قطع نظر منی لانڈرنگ کی روک تھام اور معیشت کو دستاویزی بنانا اور تمام شعبوں کی مالیاتی نگرانی خود پاکستان کی اپنی ضرورت بھی ہے ۔ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پوری کرنے کے لئے کئی قوانین متعارف کرائے ہیں ان میں انسداد منی لانڈرنگ کے قوانین میں ترامیم انسداد دہشت گرد کے قوانین میں ترامیم سمیت چودہ وفاقی اور تین صوبائی قوانین شامل ہیں۔اس کے باوجود اس کے بارے میں رویئے کی تبدیلی کے لئے ادارہ تیار نہیں پاکستان کے گرے لسٹ میں بدستور ہونے سے سرمایہ کاری اور معاشی سمت میں عالمی تاثر کے منفی ہونے سے مشکلات کا شکار رہے گا اس سے ملکی معیشت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں دنیا کو چاہئے کہ اب مزید پاکستان کو امتحان سے دوچار رکھنے کے حوالے سے اپنا ذہن تبدیل کرے اور اس ضمن میں پاکستان مخالف ممالک کے پراپیگنڈے سے متاثر ہونے کی بجائے حقائق کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے موجودہ فیصلے کے بعد اگلے سال فروری تک پاکستان کو گرے لسٹ ہی میں رہنے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا آئندہ اجلاس میں گرے لسٹ سے نکلنے میں کامیاب ہونے کے لئے باقی ماندہ شرائط پر پورا اترنے کی مساعی کو بڑھانے پر حکومت خصوصی توجہ دے اور جلد سے جلد اس حوالے سے دنیا کے لئے قابل قبول پیش رفت کی سعی کی جائے ساتھ ہی ساتھ پراپیگنڈے کا موثر توڑ کیا جائے تاکہ ملکی معیشت اورتجارت کے حوالے سے رکاوٹوں کا مزید سامنا نہ کرنا پڑے اور آئندہ اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہو۔