سیاست میں جنات کا ذکر اور اخلاقی المیہ

قائد اعظم ‘ لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر اور ان جیسے بعض دیگر اکابرین کے بعد وطن عزیز کی سیاست کی بارہ دریوں میں اختلاقیات اور اصولوں کی تلاش ذہنی عیاشی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ سیاست تو یہاں اس دن ختم ہوگئی تھی جب ان بزرگ وبااصول سیاستدانوں نے آنکھیں موند لیں اور سکندر مرزا و ایوب خان نے مسند اقتدار پر آنکھیں جمائیں۔ وہ دن اور آج کا دن وطن عزیز میں مارشل لاء اور نام نہاد سیاسی جماعتوں کے درمیان آنکھ مچولی کا کھیل زبردست جوش و خروش کے ساتھ عروج پر رہا۔
ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ آج کی دونوں مین سٹریم سیاسی جماعتوں کے اکابرین کی ساخت و پرداخت میں مارشل لاء کا بنیادی کردار رہا۔ مسلم لیگ تو اکابرین کی رحلت کے بعد مارشل لاء والوں کی ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی ہی رہ گئی۔ محترم نواز شریف جو ان کے والد گرامی کے بقول(دروغ برگردن راوی) کسی جوگے نہیں تھا ‘ جنرل جیلانی کے سپرد کیا گیا تاکہ کچھ کام کر ہوسکے ‘ کہ باقی بیٹے سرتاپا منافع بخش کاروبار میں مشغول تھے۔ اور مسلم لیگ نون بننے تک کی جو کہانی ہے وہ بھی اہل بصیرت کو معلوم ہے کہ کس طرح محمد خان جونیجو جیسی شریف النفس شخصیت کو کھڈے لائن لگوا کر ضیاء الحق مرحوم کی آشیر باد حاصل کی۔ یہی حال کم و بیش پی پی پی کا ہے ۔ ان میں سے کسی کو یہ حق نہیں کہ ایک دوسرے کو فوج کی حمایت یا اسٹیبشلمنٹ کا آدمی کہہ کر طعنے دے ۔ اگرچہ اصولی طور پر جمہوریت میں سیاسی امور کے حوالے سے افواج کا کوئی کردار نہیں بنتا۔ لیکن یہ سوال بہرحال گزشتہ ستر برسوں سے پوچھا اور زیر بحث لایا جاتا ہے کہ پاکستان میں مارشل لاء کی حکومتیں لانے میں کون ذمہ دار و سزا وار ہے ۔ اس پر اب تک جتنی بحثیں ہوچکی ہیں ان کا نتیجہ ”مرغی پہلے کہ انڈہ” والی بحث کے سوا کچھ نہیں اور اس حوالے سے جس بات پر اتفاق کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ بقول جگر
ادھر سے ہے سوا کچھ ادھر کی بھی مجبوری
لیکن چھوڑیئے صاحب!یہ اب ماضی کی باتیں بن کے رہ گئی ہیں۔لوگ انہیں قصہ پارینہ کے طور پر تویاد کرتے رہیں گے لیکن ان سے کچھ بننا نہیں۔مثلاً پچھلے دنوں سٹیٹ بینک کے گورنری کے اہم منصب پر فائز شخص نے ڈالر کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں مہنگا ہونے کا کیا ”بقراطی ” فائدہ بیان کیا کہ اس سے بیرون ملک پاکستانیوں کو بہرحال فائدہ پہنچ رہا ہے ۔ ایسا تو شاید معیشت کے مکتب کا مدارج اولیٰ کا طالب علم بھی نہ کہے۔
معاشیات و انتظامات کے محکموں کی تباہی و بربادی اپنی جگہ لیکن اس وقت ہمارا سب سے بڑا المیہ اخلاقیات کا ہے ۔ اخلاقی زوال نے سیاستدانوں اور ان کے مشیروں ‘ حواریوں اور پیروکاروں کو دنیا کے سامنے ننگا کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج کل پاکستانی سیاست میں جنات کا ذکر بہت شد و مد سے ہو رہا ہے ۔ اس میں اچھے بھلے سیاستدان ‘ میڈیا پرسن اور بعض علماء تک ملوث ہو چکے ہیں۔ اس فضول بحث میں خاتون اول کی طرف جو اشارے کئے جاتے ہیں وہ یقیناً قابل مذمت ہیں اور ہمارے اخلاقی زوال کی علامت ہیں۔ اندازہ کیجئے کہ اس میں مسلم لیگ نون کے سرخیل سیاستدانوں سے لیکر ان کے حواری میڈیا پرسنز پیش پیش ہیں۔ پورے پاکستان میں کروڑوں لوگ زیارتوں ‘ مزاروں اور درباروں پر حاضری دیتے ہیں اور یہ تصوف و روحانیات کے سلسلوں میں تو اس کا اس حد تک اثر ہے کہ بھٹو صاحب کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ وہ زندہ ہے ۔ اسی لئے تو نعرہ لگتا ہے کہ ”کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے ”لہٰذا کسی کو یہ حق نہیں کہ کسی کے مسلکی عقائد کو طعن و تشینع کا سبب بنائے ۔ اپنا مسلک چھوڑو نہیں ‘ کسی دوسرے کا مسلک چھیڑو نہیں ” کے مصداق موجودہ حکومت بالخصوص وزیر اعظم پر اس قسم کے الزامات بہتان کے سوا کچھ نہیں ۔ البتہ کسی کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہے کہ حکومتی معاملات میں جادو ٹونے اور چھاڑ پھونک کا رول ہے تو سامنے لائے ۔ عمران خان پر اعتراضات و تنقید کئے بیسیوں دیگر اسباب موجود ہیں لہٰذا جنات کا ذکر بہتان ہی بہتان ہے ۔ علمی حوالے کے طور پر عرض ہے کہ جنات اللہ تعالیٰ کی ہماری طرح مخلوق ہے ۔ قرآن و سنت کی رو سے بعض مومن اور بعض کافر ہیں۔ حضرت سلمان علیہ السلام کے لئے اللہ تعالیٰ ان کو مسخر کیا تھا یعنی ان کے اختیار میں دیا تھا اور آپ علیہ السلام ان سے بڑے بڑے کام کرواتے تھے جیسا کہ قرآن کریم میں اس کا ذکر آیا ہے ہمارے اولیا اور بزرگوں کے ساتھ بھی جنات کا ذکر آتا رہا ہے ۔ مثلاً اکوڑہ خٹک کے مولانا عبدالحق کے شاگردوں میں جنات بھی تھے اور ظاہر بات ہے کہ شاگرد فرمانبردار بھی ہوتے ہیں۔ لیکن جس طرح ہمارے ہاں آج کل ان کا ذکر ہوتا ہے ‘ سب و شتم اور طعن و تشینع کے سوا کچھ بھی نہیں لہٰذا ان چیزوں سے باز آنا چاہئے اور سارے سیاستدان مل کر وطن عزیز کو موجودہ مسائل سے نکالنے کی سبیل کرنی چاہئے کیونکہ اس وقت عالم اسلام اور پاکستان کا بالخصوص سب سے بڑا مسئلہ اخلاقی زوال ہے ۔