مریم نواز انتخابی میدان میں

لاہو ر کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 133میں ضمنی انتخاب کا داؤپیچ پڑنے والا ہے ،یہ انتخابی معرکوں تاریخ میں ایک اہم ترین معرکہ ہو گا ، گو ابھی تک مسلم لیگ ن کی جانب سے اس نشست کے لئے اپنے امیدوار کو باقاعدہ طورپر نا مزد نہیں کیا گیا ہے تاہم باوثوق ذرائع کا خیال ہے کہ مسلم لیگ (ن) مریم نو از کو انتخابی میدان میں اتارے گی ، لا ہو ر کے انتخابات کی تاریخ بڑی دلچسپ رہی ہے کیو نکہ یہاں جب بھی انتخابی رن پڑا ہے اس کو ایسی اہمیت حاصل ہوئی ہے کہ دنیا بھر کی نظریں اسی طرف اٹھی رہیں تاآنکہ انتخابی نتائج آنہیں جاتے ، ؛پی پی کے پہلے دور حکومت میں لا ہور میں صوبائی اسمبلی کا ایک ایساہی زبردست معرکہ ہو ا تھا ، جو پنجا ب کے سابق وزیر اعلیٰ حنیف رامے اورپی پی کے ایک غیر معروف امیدوار کے درمیان پڑا تھا ، اس انتخابی دنگل میںگو کہ حنیف رامے کو شکست ہو گئی تھی جس کی سب سے بڑی وجہ اس زما نے کی ایک سیکورٹی فورس ایف ایس ایف حکومت کے اشارو ں پر کا م دیا کرتی تھی ، حنیف رامے کے ایک انتخابی جلسہ میں سانپ چھوڑ دئیے گئے تھے جس کا الزام ایف ایس پر عائد کیا گیا تھا ، جنرل ضیاء الحق نے برسراقتدار آکر ایف ایس ایف کو ختم کردیا تھا ، اس انتخابی مہم میں پنجا ب کے سابق مرد آہن جو اب عمر ان خان کی ٹائیگر ٹولی کا حصہ ہیں سبابق گورنر پنجا ب غلام مصطفی کھر بھی حنیف رامے کے ساتھ تھے ، حنیف رامے کبھی مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی آنکھ کا تارا ہو ا کرتے تھے مگر جب ذوالفقار علی بھٹو برسراقتدار آئے تو کچھ عرصہ یہ نین تارا جگ مگ کرتے رہے بعد ازاں بھٹو مر حوم نے ان کو اسی طر ح آنکھ سے ٹپکا دیا جس طر ح انہوں نے جے اے رحیم ، معراج محمد خان ، مختیا ر رانا وغیر ہ کو ٹپکا دیا تھا ، لا ہور کے حلقے این اے 133کی یہ نشست جس کے ضمنی انتخابات ہو نے جارہے ہیں مسلم لیگ ن لا ہو ر کے صدر ملک پرویز کے انتقال سے خالی ہوئی ہے ، ان کو کوئی بیما ری لگ گئی تھی ، ان کے معالج نے مشورہ دیا تھا کہ وہ پانی میں ننگے پاؤں چہل قدمی کرا کریں ، وہ اس مشورے پر عمل کررہے تھے کہ پھسل کر گرے اور اس حادثہ میںجا ن بحق ہو گئے ، اس نشست کے حصول کے لئے پی ٹی آئی نے تو زور شروع سے انتخابی مہم شروع کر دی ہے علا قے میںترقیا تی کا مو ں کے بینرز بھی لگانے شروع کردئیے ہیں ، ، پی ٹی آئی نے خالی ہو نے والی اس نشست کے لئے اپنا امیدوار بھی نا مزد کردیا ہے ، وزیر اعظم کے مشیر خوراک جمشید چیمہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ضمنی انتخاب میں حصہ لیں گے ، جمشید چیمہ نے مشیر کے عہد ے سے استعفیٰ بھی گزشتہ روز دے دیا ہے ، تاکہ وہ ضمنی انتخاب میں حصہ لے سکیں ۔ مسلم لیگ ن نے ہنو ز باقاعدہ طور پر اپنا امید وار نامزد نہیں کیا ہے ، اس وقت مسلم لیگ نے تین معروف امیدواروں کے نام سامنے آئے ہیں ان میں ایک تو ملک پرویز کی اہلیہ کا نا م لیاجا رہا ہے ، اس کے علا وہ عطاء اللہ تارڑ کا نام بھی سامنے آیا ہے ، ایک نام بشیر بھرونہ کا نا م بھی لیا جارہا ہے ، بشیر بھرونہ پہلے بھی نمائندگی کر چکے ہیں ، چونکہ یہ نشست مسلم لیگ ن کے ایم این اے کے انتقال سے خالی ہوئی ہے وہ اس کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے زبردست جدوجہد کرے گی تاکہ وہ یہ ثابت کرسکے کہ مسلم لیگ اب بھی مقبول ترین پارٹی ہے ، جہا ں تک پی ٹی آئی کا تعلق ہے تو موجو دہ ملکی معاشی حالا ت کی وجہ سے وہ ایک امتحان میں پڑی ہوئی ہے تاہم اس کا دعویٰ ہے کہ وہ پہلے کی طرح مقبول جماعت ہے بلکہ اس کی مقبولیت دوچند ہوئی ہے ، تاہم عام خیال یہ ہے کہ ایسا ممکن نہیںہے کیو ں کہ وہ احتساب عدالت سے سزا یا فتہ ہیں اور سزا میں وہ نااہل بھی قرار دی گئی ہیں اس لئے ایسا ہو نہیں سکتا ، مگر قانونی ماہرین کی رائے یہ ہے کہ پاکستان کے قانون کی شق چار سو چھبیس کے تحت ان کی سز ا معطل ہے چنا نچہ وہ اب مجر م نہیں رہی ہیں کیو ں کہ اسلا م آبا ہائی کورٹ نے ان کی سزا معطل کر دی ہے اور ان کی اپیل اسلا م آبا د میں دائر ہے جب تک کوئی فائنل فیصلہ نہیں ہو جا تا وہ ایک عام شہر ی ہیں اور ان کو ایک عام شہر ی کے تما م حقوق حاصل ہیں چنانچہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکتی ہیں اسی بنیا د پر ان کے شوہر صفد ر بھی الیکشن میں حصہ لینے کے اہل ہیں، ماہر ین قانون کا مئو قف ہے کہ اسلا م آبا دہائی کو رٹ نے جو سزا معطل کی ہے اس میں ان کی قید کی سزا کے ساتھ ساتھ جر مانے اور نااہلی کی سز ا بھی شامل ہے ، ماہرین قانو ن کا یہ کہنا بھی کہ اگر مریم نواز الیکشن میں کا میا بی حاصل کرلیتی ہیں اور ادھر ہائی کو رٹ سے فیصلہ ان کے خلا ف آجا تا ہے تب بھی وہ اپنی نشست سے محروم نہیںہو ں گی اگر وہ فوری طور پر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردیتی ہیں ، اسی طر ح جب تک سپریم کو رٹ کا حتمی فیصلہ نہیںآجاتا اس وقت تک وہ اپنی نشست پر برقرار رہیں گی ، ایسے واقعات یا حالا ت کی پاکستان میں بھی اور پا کستان سے باہر بھارت اور بنگلہ دیش میں کئی مثالیں موجو د ہیں ، مولا نا کوثر نیا زی سابق فوجی آمر یحییٰ کے دور میں مارشل کے تحت نظر بند تھے لیکن انہوں نے جیل سے عام انتخابات میںحصہ لیا تھا اور بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے ، ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ جب عدالت سے سزا معطل ہو تو اس کے تمام شہری حقوق بحال ہو تے ہیں اور جس طرح عام شہری کا حق ہے کہ و ہ انتخابات میں حصہ لے اسی طر ح جس کی سزا معطل ہو وہ بھی اس کا حقدار ہوتا ہے ، بہر حال تو قع یہ ہی کی جا رہی ہے کہ پرویز ملک کی خالی نشست سے مریم نواز انتخاب لڑیںگی اگر ایسا ہو ا تو یہ الیکشن دونو ں جماعتوںکے لئے بھاری امتحان ثابت ہو سکتا ہے ، ایک طرف اپو زیشن یہ راگ الاپ رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی تین سالہ حکومتی کا رکر دگی نے پی ٹی آئی کی ساکھ کو گھن لگا دیا ہے ، دوسری طر ف پی ٹی آئی اس امر کی دعویدار ہے کہ وہ آج بھی عوام کے دلوںپرراج کرتی ہے ، اسی طر ح مسلم لیگ کے لئے ایک بڑا امتحان تو یہ ہو گا کہ وہ اپنی نشست بھی بچائے اوریہ بھی ثابت کرے کہ پہلے کی طر ح آج بھی وہ عوام کے دل میں بسی ہوئی ہے بہر حال اگر مسلم لیگ ن نے مریم نواز کو انتخابی ٹکٹ دیدیا تو یہ ضمنی انتخاب ناصر ف دلچسپ ہو گا بلکہ ایک اہم سیاسی مو ڑ بھی ثابت ہو گا ۔