فروغ تعلیم کے حکومتی اقدامات اور اساتذہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے تعلیم کے شعبے کے فروغ کو اپنی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے اس شعبے میں ریکارڈ اصلاحات متعارف کرائی ہیں جن کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے صوبے کے سرکاری سکولوںکو نئے فرنیچر کی فراہمی کو ایک اور اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے28اضلاع میں سرکاری سکولوں کو چھ ارب روپے مالیت کا فرنیچر فراہم کیا جائے گا۔دوسری جانب شمالی وزیرستان میں ایٹا کے ذریعے تعینات ایک سو کے قریب اساتذ ہ چار ماہ گزرنے کے باوجود تنخواہوں سے محروم ہیں جس کے بعد نوبت فاقہ کشی تک پہنچ گئی ہے ۔اساتذہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر آئندہ ماہ مذکورہ نو تعینات اساتذہ کو تنخواہیں ریلیز نہ کی گئیں تو شمالی وزیرستان کے تمام تعلیمی اداروں میں کلاس بائیکاٹ اور احتجاجی مظاہرے کئے جائینگے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومت صوبے میں تعلیم کے فروغ کے لئے فرنیچر کی فراہمی سے لیکر دوسری شفٹ شروع کرنے کے لئے سرگرم ہے اور اس ضمن میں پیش رفت بھی ہو رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ محولہ قسم کے مسائل کی بھی کمی نہیں حالانکہ جن منصوبوں پر حکومت توجہ دے رہی ہے وہ بڑے منصوبے اور کام ہیں اور جس اہم شعبے کو نظر انداز کیا جارہا ہے اس کا تعلق انتظامی معاملات سے ہے اساتذہ کو جلد یا بدیر سرکاری خزانے سے تنخواہوں کی ادائیگی بہرحال ہونی ہے اس حوالے سے دستاویزی انتظامات حکومت نے نہیں بلکہ سرکاری مشینری نے کرنا ہے جس کی سستی اور غفلت کے باعث حکومتی اقدامات پر بھی انگلیاں اٹھتی ہیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جہاں بڑے منصوبوں میں دلچسپی لے رہے ہیں وہاں اگر اساتذہ کے مسائل کا بھی نوٹس لیں اور ان کو تنخواہوں کی ادائیگی کا فوری بندوبست کروائیں تو سونے پہ سہاگہ ہوگا۔
گیس کی ناپیدگی کا ابھی سے مسئلہ
ابھی سردیوں کی آمد آمد ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور کے بعض علاقوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کی شکایات سامنے آئی ہیں موسم سرما کی شروعات میں ہی یہ صورتحال ہو تو شدید سردی کے موسم میںصنعتی ‘ تجارتی اورگھریلو صارفین کوکن مشکلات کا سامنا ہو گا اس کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے ۔سردیوں میں گیس کی قلت کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان میں قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں لیکن صنعتی، تجارتی اور گھریلو استعمال کے لیے مکمل گیس دستیاب نہیں ہے۔ اس کا متبادل ایل این جی کی درآمد کی صورت میں تلاش کیا گیا لیکن یہ حل عوام کے لیے بوجھ بن گیا۔ سابق اور موجودہ دونوں حکومتوں نے مہنگی ایل این جی درآمد کی ہے۔ جس کی وجہ سے گھریلو صارفین کے لیے بھی گیس کی لوڈشیڈنگ کا منصوبہ بنالیا گیا ہے۔ یعنی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے لوگوں کے گھروں کے چولہے بھی بجھ جائیں گے۔ ابھی موسم سرما نہیں آیا ہے لیکن ملک کے مختلف علاقوں میں گیس کا دبائو کم ہوجاتا ہے۔ شہری علاقوں میں تو گیس کا کوئی متبادل بھی نہیں ہے جس سے کھانا پکایا جاسکے۔ حکومت کا فرض ہے کہ سردیوں کے موسم میں گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی یقینی بنائے۔